ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

0
167

اسلم چشتی ، چیئرمین صدا ٹوڈے

لیجنڈ صحافی کلدیپ نیر کی موت عصرِ حاضر کی ایماندارانہ اور بیباکانہ صحافت کی موت ہے لیکن انھوں نے ایک طویل عرصے تک ہر اہم موضوع پر لکھا ہر دہے میں لکھا وہ ایسے نقوش چھوڑ گئے ہیں، جس سے اس دور کی سیاسی، سماجی، لسانی، مذہبی زندگی اپنی تمام تر سچّائیوں کے ساتھ سامنے آئی ہے ۔ کلدیپ نیر کی موت کے بعد وہ تمام سچّائیاں حال اور مستقبل کے بیباک اور سچّے صحافیوں کے لئے رہبری کا کام کریں گی۔ ایک طویل عمر بتانے کے بعد ان کی جدائی سے ہم تمام ہندوستانی جتنا بھی افسوس کریں کم ہے ۔ خاص طور پر اُردو سماج ایک سچّے اُردو صحافی سے محروم ہو گیا۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز اُردو صحافت سے ہی ہُوا تھا۔ اس سفر میں انگریزی زبان بھی شامل ہو گئی تو ان کی شہرت سارے عالم میں پھیل گئی ان کی موت کے افسوس کے ساتھ ساتھ مُجھے فخر ہے کہ ان کے ہاتھوں16 مارچ 2018.ءکانسٹیٹیوشن کلب دہلی میں ہمارے اُردو نیوز ویب پورٹل ” صدا ٹوڈے” کی رسمِ اجراء عمل میں آئی اسی تقریب میں میری کتاب ” سرحد پار کی توانا آوازیں” کی بھی رسمِ اجراء ہوئی اور انہوں نے اپنے زرّیں خیالات کا بھی اظہار کیا۔ کلدیپ نیر کی موت ایسے حالات میں ہوئی ہے جبکہ اس مُلک کو ان کی سخت ضرورت تھی ، لیکن عظیم لوگ کبھی مرتے نہیں ہیں، ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں، ہمارے بیچ اپنے خیالات اور تحریروں کے ساتھ۔
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جائوں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جائوں گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here