زندہ قوموں کا شیوہ

فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
حالات کا بننا اور بگڑنا اس دنیا کا مزاج ہے ۔ یہاں کھبی حالات اچھے ہوتے ہیں اور کبھی خراب ۔ کبھی بنتے بنتے بگڑ جاتے ہیں اور کبھی بگڑتے بگڑتے بن جاتے ہیں ۔ زندہ قومیں انھیں حالات کے گرداب میں اپنا کام جاری رکھتی ہیں، مستقبل کی طرف مضبوط پیش رفت کرتی رہتی ہیں اور اس کی تعمیر میں جٹی رہتی ہیں ۔ اس کے برعکس مردہ قومیں ہر مشکل یا مشکل نما کو رکاوٹ تصور کرتی ہیں ، حالات کا شکوہ اور مصائب کا رونا رو کر تعمیری کاموں سے خود کو دور رکھتی ہیں۔

نوے کی دہائی اور اس سے قبل جب حالات قدرے بہتر تھے اس وقت سے اب تک ملت کی تعمیری کاموں پر توجہ کم اور شکوے شکایتوں پر پورا زور رہا ۔ ایک لمبے عرصے میں جب حالات بہت اچھے تھے تب ہم نوجوانوں اور نوخیزوں کی تربیت کے بجائے انھیں کرامات کی جھپیاں دے رہے تھے ، ان کے دل و دماغ میں مسلک کا زہر انجکٹ کر رہے تھے ۔ قوم کو مصروف عمل کرنے کے بجائے انھیں خود ساختہ سازشوں کا افسانہ سنا رہے تھے۔

میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہماری قیادت پر فائز لوگوں نے کچھ نہیں کیا ، اس عرصہ میں کئی ایک قابل قدر کام ہوئے ۔ مگر مجموعی طور پر جتنے محاذوں پر جن انداز میں کام ہونے چاہیے تھے نہیں ہوئے۔ ہم نے زمان و مکان کی منطقی حقیقت کو سمجھنے میں کوتاہی کی ۔ مستقبل کے لائحہ عمل کا تصور تو ہمارے یہاں ہوتا ہی نہیں ہے، ماضی اور حال کے تجزیہ میں بھی غلطی کی۔

2019 ء کے پارلیمانی انتخابات میں میں بڑی اکثریت حاصل کرنے کے بعد شدت پسند محاذ پوری طرح سے اپنے اسلام مخالف منشور پر آچکی ہے ۔ وہ باتیں جسے وہ کبھی دبی آوازوں میں کہا کرتے تھے اب اعلانیہ اس پر برآوری شروع ہو چکی ہے ۔ پرسنل لاء میں مداخلت ، شہری حقوق کی سلبی ، کشمیر کے خصوصی حیثیت کی منسوخی اور قومی رجسٹریشن بل ، سب ایسے فیصلے ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو کافی خوفزدہ کر رکھا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے نوجوان اور نام نہاد قائدین قوم کو انتہائی خوف اور دہشت کے ماحول میں ڈال نے پر تلے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے امت کی چودہ سو سالہ تاریخ میں یہ کوئی پہلی بار ایسا نہیں ہوا کہ قوم انتہائی مشکل کے عالم میں پھنسی ہو۔ ملت اسلامیہ دنیا کے مختلف علاقوں میں اس کہیں زیادہ تاریک دور سے گزر چکی ہے۔

فی الوقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوف و ہراس کی نفسیات میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے حواس کو یکجا کریں، اپنی صفوں کو مضبوط کریں، آپسی تعاون اور تعامل کو بڑھائیں اور معاشرہ میں متحرک و فعال لوگوں کے دست و بازو بن جائیں یا خود فعال کردار ادا کرنے کے لیے کمربستہ ہو جائیں۔

آئندہ دنوں میں ہونے والے”شہریت رجسٹریشن”کے لیے ابھی سے پوری تیاری کر لینی چاہیے۔ خود بھی پوری طرح اس کے لیے تیاری کرلیں اور دوسرے ایسے لوگ جو کم پڑھے لکھے یا کمزور ہیں ان کے کاغذات تیار کرانے میں ہر طرح کی مدد کریں۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی غیر ضروری ہمت شکن باتوں پر توجہ نہ دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram