’’عورت ایک معلم ‘‘

ابراہیم نثار اعظمی ،ریسرچ اسکالر یونیورسٹی اف حیدرآباد انڈیا

تین سال کا سن تھا جب ایک عجیب سی چینکھیں سن کر دوڑتا ہو آیا ۔اور یہ منظر دیکھا ،گالی ٹھپڑ ،گھونسا ،دھکا ایک کشادہ کمرے میں جس کے در میان میں بڑا سا بیڈ جس پر خوبصورت مخملی چادر بچھی ہوئی تھی ۔ سامنے سنگھار دان اس میں لگے شیشے سے صاف نظر آیا کہ ایک حسین و جمیل عورت کولات اور گھونسو ں سے زدو کوب کررہا ہے۔مارتے مارتے جب تھک جاتا تو اس کے نرم اور ریشمی بالوں کو پکڑ کر زمین پر گھسیٹنے لگتا ،لاچا ر سمینہ ،کی آہیں ،سسکیاں پورے کمرے کے سکوت کو چیررہی تھی،مگر اس پتھر دل ،ساجد ، کو زرہ برا بر احساس نہیں ہوا کہ میں اس دنیا کی ایک ایسی ہستی کا گلہ گھونٹ رہا ہوں جس کے وجود سے یہ کائنات وجود میں آئی تھی۔اسی کے طفیل سے اس جہہاں میں رنگا رنگ کی فضائیں اور پھول جھڑیاں نظر آتی ہیں ۔
عورت کسی کی ماں ہے، تو کسی کی بہن ہے ،کسی کی بیٹی ہے تو کسی بیوی ہے،کسی کی دادی ہے تو کسی نانی ہے،کسی کی خالہ ہوتی تو کسی کی پھوپھی ،ان تمام رشتوں کی بنیاد صرف ایک عورت ہے ۔عورت سمینہ بھی ہے جو اپنے شوہر کا ہر حکم پورا کرنے کے لیے صبح و شام ایک پیر پر کھڑی رہتی ہے ۔جب ساری دنیاں سو رہی ہوتی ہے تو سمینہ نہار منھ پرندوں کے چہچہانے کی صدائیں سن کربیدار ہوجاتی ہے ۔گھر کی صاف صفائی کھانا بنانا بچوں کو نہلانا صاف ستھرے کپڑے میں بچوں کو ملبوس کرنا اس کا فرض اولین تھا ۔وقت پر بچوں کو اسکول کے لیے تیار کرکے ان کو اسکول کے رکشہ پر روانہ کرکے پر سکون ہوتی یہ اس کا روزانہ کا معمول تھا۔
آج صبح اپنے پڑوس کی اس ہنگامی آراز کو سن کر جلدی بیدار ہو گیا اس نے شہادت کی انگلی سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے باہر دیکھاکہ ساجد نے آج بری طرح سے سمینہ کے بالوں کو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اس کو زمین پر لٹایا ہوا تھا۔ وہ روتی رہی چلاتی رہی ،بلکتے ہوئے آہ وزاریکر رہی تھی ۔ اس کی رہی سہی طاقت بھی اپنا دم توڑتی رہی مگر ساجد تھا کہ اس کی اس حرکت پر جلاد بھی کانپ اٹھے ۔ساجد تیزی سے سمینہ کی جانب لپکا اور سامنے آکر اس کے سینے میں ہاتھ ڈال کر بلارز کو پھاڑ ڈالا۔ یک لخت میں اس کا سینہ کھل گیا قید پھندنے ازاد ہو گئے ۔اطراف میں چھوٹے چھوٹے موصوم بچے بھی اپنی ماں کی اس بے بسی کا حیرت انگیز نظارہ کررہے تھے ۔
ساجد غصے میں ابلتا ہوا سمینہ کی کو پستان کو اپنے دونو ں ہاتھوں میں لیا دبوچا اور اسے اپنے حسب طاقت دانت اور ہونٹوں کی مددسے چبانے لگا اس۔ دوران منھ سے گندی گندی گالیاں بکتا رہا ۔ ایسا کرنے سے سمینہ کی حالت غیر سے غیر تر ہوتی چلی گئی ،وہ بلبلانے لگی،سامنے کھڑے بچے اپنی ماں کی آہوں کو محسوس کرکے مدد کے لئے صدائیں دینے لگے ۔
اس طرح کے گھنونے عمل سے تھکنے کے بعد ساجد نے سمینہ کو ایک طرف دھکا دے کر گرا دیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شراب کی بوتل لیا اور ایک سانس میں پوری بوتل کو کھالی کر دی۔ شراب نوشی کرنے کے بعدبوتل کو بزور بازورزمین پر مارکر توڑدیا ایک ہاتھ میں نصف ٹوٹی ہوئی بوتل لیا اور داہینے ہاتھ سے سمینہ کو پھر مضبوطے کے ساتھ پکڑ کراس کے سر کو بالکل اپنی آنکھوں کے سامنے کیا اور پھر انکھوں میں آنکھیں ڈال کر مخاطب ہوا ۔
’’کیو تم مجھے بے عزت کرنے میں کوی کسر نہیں چھوڑتی ‘‘
’’ہین ہین،، ہون ،ہون ،ہان، ہان سمینہ زور زور سے چلانے لگی ‘‘
’’کیا میں تمہار ی خواہش پوری نہیں کرتا؟؟؟؟
’’ہاتھ جور کر سمینہ نفی میں سر ہلاتی رہی مگر اس کی آواز نہیں نکلی ‘‘
’’تڑپتی آواز میں ساجد نے پھر کہا کیو تم گھر سے غائب رہتی ہو میری غیر موجودگی میں؟؟؟
سمینہ اپنے گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے پڑوس میں جاکر بچوں کو ٹیوشن دیا کرتی تھی ۔
’’روتے ہوئے سمینہ بھی بولنے کی کوشش کی میں تو بچوں کو ،،،،،،،،،کو ،،،اس کی آواز پھر روندھ گئی ‘‘
’’کیا بچوں کو ۔۔۔۔۔
ـــــ’’میں نے تم کو بچے نہیں دیئے ہیں ؟؟؟
’’ایک جھٹکے سے ساجد نے سمینہ کو زمین پر گرا دیا ،اور اپنے بچوں کی گردن کو بے رحمی سے اپنی گرفت میں لیا اور ان کوسامنے لاکر بو لا ‘‘
’’’کیا یہ بچے میرے نہیں ہیں ؟؟؟؟
’’اس بار سمینہ بھی تھوڑہی ہمت جٹا کر ،،ہاں ہان یہ میرے بچے ہیں۔،،،،اپنی گھٹی ہوئی آواز میں سمینہ نے ادھورا جواب دیا پھر رونے لگی ‘‘
تھوڑی دیر دم لینے کے بعد پھر سمینہ کو اپنی گرفت میں لیا۔ دوسرے ہاتھ میں شراب کی ٹوٹی ہوئی بوتل جس کا اوپری حصہ کسر ہو کر بالکل نیزہ کے مانند دمک رہا تھا ۔ اس کی آنکھوں کے قریب لے جا کر بولا حرامزادی کیا چاہتی ہے مجھ سے ؟؟؟؟
’’ایک دفع میں ختم کر دونگا ۔تمہارے گھر والے میراکوئی کچھ نہیں کر سکتے ۔
ہر باپ اپنی بیٹی کو بہت لاڈ وپیار سے پالتا پوستا ہے بڑا کرتا ہے۔ اچھی تعلیم سے آراستہ کرتا ہے ۔شادی بیاہ کر تا ہے گویا کی اس باپ کی سب سے بڑی دولت اس کی بیٹی ہے جو کی اس کے بڑھاپے کا سہارا بھی بنتی ہے ،،،،،
اس شہزادی کا یہ حشر مرد ذات جو اس پھول کو مسل رہا ہے ،اسی اثنا میں سمینہ بھی اپنے زورے بازو کی مددسے اپنے آپ کو ساجد سے آزاد کر لیتی ہے اور میری جانب بھاگتی ہوئی ہاتھ جوڑ کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے ۔خوف و دہشت اس کی آنکھوں میں ابل رہاتھا ۔ خون کے آنسو سمینہ کی آنکھوں سے دریا بہارہے تھے مارے دہشت کے وہ اپنی پیشاب کو نہ روک سکی اور پوری شلوار پیشاب کے نکل جانے کی وجہ سے تر ہوچکی تھی ۔پسینے میں شرابورہاتھ جوڑ کر سمینہ ادھر اودھر بھانے لگی جب کی اس کے بدن کا سارا کپڑا ساجد نے پھاڑ دیا تھا ،۔بر ہنہ جسم کو اپنے دونو ں ہاتھوں کی مدد سے ستر پوشی کرتی،،،،
اس سے پہلے کی ساجد اس مجبور سمینہ پر پھر وار کرتا ۔میں نے جلدی سے اپنی نم ناک آنکھوں کو صاٖ ف کیا۔اور سسکیاں لیتے ہوئے اس کے سامنے کھرا ہو گیا ۔یوں جیسے کی ایک دیوار کھڑی ہو گئی ہو گرجتی ہوئی آواز میں ساجد سے بولا ‘‘
’’ہٹ جا میرے سامنے سے ،،کیو ماررہے ہو ،،یہ تمہاری بیوی ہے ،،،؟؟؟؟
’’’آجک اس کا آخری دن ہے ‘‘
’’خبر دار اب جو ایک قدم اگے بڑھایا تو ،،آج تمہارا آخری دن ہو گا ‘‘‘
’’ارے تم کون ہو ہمارے درمیان میں دخل اندازی کرنے والے ‘‘‘
’’میں اس کا باپ ہوں ‘‘
’’ابے عقل کے دشمن یہ تمہاری بیوی ہے ‘‘
’’ہاںہان مجھے معلوم ہے یہ میری بیوی نہیں ایک طوایف ہے ‘‘
ــ’’مرد کا عورت پر ہاتھ اٹھانا اچھی بات نہیں ہے وہ بھی اپنی بیوی پر ‘‘
؎’’چلے جائو یہاں سے یہ صرف میری بیو ی نہیں بلکہ پورے گاوں کی بیوی ہے ۔اب میں کچھ بھی کرون تم کون ہو ؟؟؟؟
’’کیو ں تمہاری بھی تو بہن ہے اگر کوئی تمہاری بہن کے ساتھ ایسا کرے توتم کیسا محسوس کروگے ‘]
’’ہاں ہاں ‘
’’میں نہیں چھوڑونگا اسے بس چلے جاؤ یہاں سے ‘‘
اب میرے صبر کا پیمانہ بھی سمجھا کر لبریز ہو چکا تھا ایک دھکا دے کر اسے زمین پر گرا دیا ۔شراب اور نشے سے لت پت دھڑام سے ساجد زمین پر ڈھیر ہو گیا ۔چیخنے چلانے لگا۔ نشہ بھی اپنے عروج وشباب پر تھا ۔میں نے جلدی سے سارے بچوں کو ان کی ما ں کے ساتھ ایک کمرے میں بند کر دیا ،،،کمرے میں داخل ہو کر سمینہ نے جلدی سے اپنے کپڑے بدل دیئے۔بال کو درست کیا بچوں کو اپنے دونو بازو میں لے کر چپ کرانے لگی۔ مگر ناکام رہی بچے کافی ڈر چکے تھے ۔بچے بھی روز روز کے اس ظلم و ستم لو دیکھتے ہوئے نبرد آزما ہو چکے تھے ۔بڑے بیٹے کی عمر ابھی صرف چھ سال کی رہی ہوگی ۔مگر اب اس کی آنکھوں میں بھی غصے کی لالی ابھر نے لگی تھی ’’
’’بولا ماں اب ہم ابو سے بات نہیں کریں گے ‘‘
’[وہ روز رات میں آپ کو مارتے ہیں ‘‘
’’اپ اچھے ہو ہمیں روز کھانا بھی بنا کر کھلاتے ہو ‘‘
’’ ابو تو کبھی پیسے بھی نہیں دیتے ‘‘
’’ اور اپ کو اتنا کیو مارتے ہیں ،،اپنے ہارتھوں سے سمینہ کے آنسو پوچھتے ہوے کہا
’’ مت رو امی اب مت رو پا پا اچھے نہیں بہت گندے ہیں ‘‘
اپنے بیٹے کی بات سن کر ایک بار سمینہ کا دل بھر آیا اس کی سسکیام پھر تیز ہو چکی تھیں کیو ں بچے کو ماں کے درد کا احساس تھا مگر بچے کے باپ ساجد کو نہیں ہوا ۔ ایک دس منٹ کا وقفہ ہوا تھا کی اب چھوٹے بچے بھی بھوک کی شدت سے رونے لگے رو رو کر ان سب کا برا حال ہو چکا تھا ۔سمینہ نے جلدی سے ببلو کو اپنی گود میں لیا ۔جو ابھی صرف چھ مہینہ کا تھا ۔ اور اپنی گھایل پستان سے ببلو لگا یا تا کہ وہ سیکم سیر ہو سکے ۔مگر جیسے ہی بچے نے ماں کی پستان کو دیکھا تو اس کی آواز بند ہو گئی اور حیرت و تعجب سے دیکھا پھر بلند آواز سے چلایا ۔اور ہاتھ کے اشارے سے اپنی ماں کو زخمی پستان کی طرف توجہ دلائی ،روتے ہوئے ماں کو لہولہان پستان کو دیکھایا ۔،،،
کھانے پینے کے زرایع اگر کسی انسان کے بند ہو جائیں یا پھر اس پر جبر اور ظلم کی بر چھیاں گریں تو انسانیت چینخ اٹھتی ہے ۔شاید اس بچے کو بھی یہ بات ستانے لگی تھی ۔کہ یہ خون جہان سے تیزی کے ساتھ ریس کر بہر ہا ہے جہان سے میرا کھانا نکلتا تھا کسی جانور نے اسے کاٹ ڈالا ہے ۔پستان بری طرح سے زخمی ہو چکی تھی ۔جگہ جگہ دانتوں کے گہرے نشان جو بالکل اندرگہرائی تک سوراخ بن گئے تھے ۔ساتھ ہی ساتھ خون بھی جاری تھا۔ مگر درد کی شدت ساجد کے بالمقابل سمینہ کو اپنے پستان پر لگے زخم کا احساس بھی نہیں ہوا ۔خون بہنے کی وجہ سے اس کے تبدیل شدہ کپڑے پھر سے گیلے ہو گئے اس نے ببلو کو ایک طرف رکھ دیا۔ اور خون صاف کرنے لگی ۔اس درمیان میں باہر سے ساجد کی تیز آواز بار بار سمینہ کو لر زادیتی۔
آج اسے اس بات کا شدید احساس ہوا کی مجھے اب بچوں کو فراغت کے اوقات میں ٹیوشن دینا منقطع کرنا پڑے گا ۔اگر ساجد کو یہ بات پسند نہیں تو کل سے میں رشید میاں کے گھر بچوں کو تعلیم دینے نہیں جاؤں گی۔حا لانکہ ان پیسوں سے گھر کے اخراجات میں مدد ملتی تھی اب میں ساجد کی خوشی کے لیے یہ روز گار بھی تر ک کر دونگی ۔
اتنا سوچ کر باہر کا دروازہ کھولا۔ ڈرتے ہوئے باہر آئی دیکھا تو ساجد اب خاموش ہو چکا تھا ۔گمان ہو اکہ اب اسکا نشہ کمزور ہو چکا ہے ۔مگر ساجد طاق میں تھا اور کمزوری کا بہانہ کررہاتھا ۔کہ جیسے ہی سمینہ باہر آے گیاس پر حملہ کر دے گا یہ ناٹک کرکے ساجد خاموش پڑ گیا بلا خوف خطر سمینہ ساجد کی طرف برھ رہی تھی اس کے قریب آتے ہی ساجد تیزی سے سمینہ کی جانب لپکا اور ایک جھٹکے میں اس مر تبہ مضبوطی کے ساتھ اس کا سر پکڑ کر دیوار سے ٹکرا دیا اور اسی لمہ سمینہ کی سانسیں روک گئیں پھر ساجد خموشی سے سمینہ کو تکنے لگا اتنے میں بچے دوڑتے ہوئے آکر اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگے ،،،،،،،،،،،،،،
ریسرچ اسکالر’’ ابراہیم نثا ر اعظمی ‘‘اتر پر دیش انڈیا ، فون نمبر ،، 9036744140
mdibrahi289@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest