کیا وزیراعظم پر کوڈآف کنڈکٹ لاگو نہیں ہوتا؟

’’ہندوستان دشمن کے سیٹلائٹ کو خلا میں مار گرانے کی صلاحیت حاصل کر کے دنیا کا چوتھا خلائی سپرپاور بن گیاہے‘‘ یہ بیان ہے جناب وزیراعظم کا، اس سلسلے میں دوبات مجھے کہنی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت جب کہ الیکشن میں صرف پندرہ دن رہ گئے ہیں ایسے وقت میں سائنسدانوں کی کامیابی کو سیاسی رنگ کیوں دیاگیا، اور یہ کیا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے کہ جب سارے چینلز مودی کی زبان بول ہی رہے ہیں تو پھر ایسی کیا ضرورت پڑگئی کہ الیکشن کے شباب پر ضابطۂ اخلاق توڑ کر اپنی کامیابیاں گنائی جائیں۔ الیکشن کمیشن سے بھی یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ جب کوڈ آف کنڈکٹ لاگو ہے تو کیا اس ملک کے وزیراعظم پر یہ کوڈ آف کنڈکٹ لاگو نہیں ہوتا؟جب وزیراعظم ہی کسی اصول و ضوابط کی عزت نہیں کریں گے، تو پھر باقی پارٹیوں سے آپ کیا امید رکھیں گے؟
دوسری بات یہ کہ یہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہے، پہلی بار 1974 میں اندراگاندھی کے دور میں یہ تجربہ کیا گیا اور 1998میں اٹل بہاری واجپئی کے دور میں بھی یہ تجربہ کیاگیا تھا۔ نتن گڈکری شیخی بگھارتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے تو ’آربٹ سیٹلائٹ ‘کو مار گرایا، تو کوئی دشمن کا سیٹلائٹ تھا جسے آپ نے مار گرایا؟ کسی دشمن کا ملک پر حملہ ہوا تھا؟ تجربہ تو مار گرانے کے لیے نہیں ہوتا، ’مار گرایا‘ لفظ کسی بھی وزیراعظم کے لیے مناسب نہیں ہے۔
یہ ٹسٹ 2012سے 2018تک کبھی بھی کیا جاسکتا تھا ، پوری تیاری تھی، اب سوال یہی ہے کہ الیکشن سے صرف دو ہفتے پہلے سالوں سال پرانی اسرو اورسالوں سال پرانے ڈی آر ڈی او کے تجربہ کا سہرا اپنے سر کیوں لے لیا؟
کانگریس کے جتنے بھی تجربے پورے ہوچکے تھے صرف ان کو لانچ ہی کرنا تھا اس میں ایک منگل یان بھی تھا اُس کو بھی انہوں نے اپنے کھاتے میں لکھوا لیا تھا۔
اس وقت پورا سوشل میڈیا نریندر مودی کا مذاق اڑا رہا ہے کہ یہ سب اسی وقت کیوں؟ وہ سارے لیڈران جو اس اسرو اور ڈی آر ڈی او کے کام میں شامل تھے ان میں نہرو جی بھی تھے، ان میں سارابھائی اور اس دور کے سائنس داں بھی شامل تھے اور بعد میں اندرا گاندھی اور منموہن سنگھ اس پورے پروجیکٹ میں حصہ لیتے رہے۔ ان سب کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
ٹویٹر پر ، فیس بک پر مودی کے اس بکھان کا مذاق تواڑہی رہا ہے۔لوگ یہ بھی سوال کررہے ہیں کہ نہ تو مودی کی تقریر میں بے روزگاری کا ذکر ہے ، نہ غریبی کا کوئی ذکر ہے، نہ ہی کسانوں کی مشکلات کا نہ ہی خواتین کی سیکورٹی کا، نہ ہی مذہبی منافرت کا بلکہ ذکر ہے تو یہ کہ ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا، ہم وہ کرچکے ہیں، ہم کامیاب ہیں۔
کاش کہ وزیراعظم ملک کے عوام کی زیادہ فکر کریں ،نہ کہ اپنی شبیہ کو بہتر بنانے کی۔ کاش کہ وزیراعظم کا مدعا غریبی ، بے روزگاری ہو نہ کہ شیخی بگھارنا۔
چوکیدار جی ملک لُٹ رہا ہے ، عوام بے حال ہیں، آپ ادھر بھی دیکھئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest