وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے*کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے

سنسکرتی اینڈ آرٹس کے زیر اہتمام ایوان غالب میں مشاعرے کا اہتمام

نئی دہلی:ادبی اور ثقافتی تنظیم سنسکرتی اینڈ آرٹس کی جانب سے ایوان غالب میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ ’احساس‘ کے عنوان سے منعقد ہوئے اس مشاعرے کے مہمان خصوصی ساگر مالا ڈیولپمنٹ لمٹیڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر دلیپ کمار گپتا ،آئی اے ایس تھے۔ راگنی گپتااورایس پی اے کیپٹل لمٹیڈ کے وائس پریسیڈنٹ پردیپ کمار اور اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے بانی جنرل سکریٹری محمدطارق فیضی مہمان ذی وقار کے طور پر موجود تھے۔سنسکرتی آرٹس کی بانی سیا سچدیو اورہندستان گلاس کے اسٹنٹ وائس پریسیڈنٹ اودے ترپاٹھی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ اودے ترپاٹھی نے تعارٖی کلمات پیش کیے۔اس موقع پر امریکہ میں مقیم کوتری ڈاکٹر انیتا کپور اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والے صحافی اور شاعر شاہ عرفی رضا زیدی (سینتھل، بریلی) کا اعزاز کیا گیا۔مشاعرے کی نظامت معین شاداب نے کی ۔جن شعرا نے شرکت کی ان کے منتخب اشعار پیش کیے جاتے ہیں:
نہ بڑھائے اور دوری کوئی آنے والا موسم
چلو فاصلے مٹالیں کہ ابھی دراڑ کم ہے
ؑؑعصمت زیدی شفاؔ
ہر ایک ذہن میں سارا حساب رہتا ہے
سوال سننے سے پہلے جواب رہتا ہے
آلوک یادو
ان زاہدوں کو چاہئے مسجد الگ الگ
ہم مے کشوں کو ایک ہی مے خانہ چاہئے
معین شاداب
تنا مضبوط رہا ہے تری یادوں کا حصار
دل کی بستی میں کوئی دوسرا آیا نہ گیا
سیا سچدیو
میروغالب کے سبھی خواب بھلا بیٹھے ہیں
ہم غزل پڑھنے کے آداب بھلا بیٹھے ہیں
شاہد جمال
دریا تلاشنا کبھی صحرا تلاشنا
مشکل ہے خود کے جیسی ہی دنیا تلاشنا
رنجیت چوہان
گلے وہ ایسے ملا اڑ گیا ملال کارنگ
خوشی سے کھل گیا چہرہ کھلا گلال کا رنگ
رحمٰن مصور
کھڑکی، دریچے بام وغرفے سب کر گئے اندھیارے چاند
ہجر افق میں کالے پڑ گئے اندر اندر سارے چاند
کمیل شفیق
شب تنہائی میں کچھ یوں غم حسرت پگھلتا ہے
کہ جیسے آگ کا دریا مرے اشکوں میں ڈھلتا ہے
ڈاکٹر وارزا
اب تو اک بار کو بنتاہے پلٹنا میرا
اب تو آئی ہے اس انکار کی رونق ہم پر
رینو نیّرؔ
بعد میں دنیا پیچھے پیچھے چلتی ہے
پہلے اک کردار بنانا پڑتا ہے
پونم یادو
وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے
کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے
وسیم راشد
ہمارے صبر کو اتنا نہ آزماؤ کہ ہم
تمہیں اتار دیں دل سے کسی تھکن کی طرح
رفعت شاہین
کہتی ہے اپنی بات اب اپنی طرح سے وہ
عورت نے پھینک دی ہیں زبانیں ادھار کی
نینا سحر
مجھ میں کیول مٹی مٹی اگتی ہے
مظلب میں اپجاؤ بھی ہوں بنجر بھی
سچن اگروال
لہریں دیکھتی رہتی ہیں
دریا دیکھنے والوں کا
پرکھر مالویہ کانہاؔ
یہ حقیقت ہے کہ اس کے کھیل کا ساماں ہوں میں
جب بھی اس کا من کرے گا توڑ دالے گا مجھے
امت شرما میتؔ
تو کہاں میری بات سمجھے گا
تیرے سر پر سوار ہے دنیا
طارف نیازی
اس نے اس انداز سے پوچھا مزاج
زخم میرا اور بھی گہرا ہوا
شردھا سنگھ
اس کے علاوہ انیتا کپور،شاہ عرفی رضا زیدی، اودے ترپاٹھی اور میناکشی ججی وشا وغیرہ نے بھی اپنا کلام پیش کیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest