وقف ٹربیونل چیئرمین کی تقرری نہ ہونے پر ہائی کورٹ برہم

ہائی کورٹ نے دہلی حکومت سے تاخیر کے لئے ذمہ دار افسران کے نام دو دن کے اندر حلف نامہ میں دینے کے لئے کہا

نئی دہلی:28مارچ کو نئی دہلی جامع مسجد بنام دہلی وقف بورڈ مقدمہ کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے معزز جج اس وقت سخت ناراض ہوگئے جب انھیں یہ بتایا گیا کہ دہلی وقف ٹربیونل میں اس وقت چیئرمین کی کرسی خالی ہونے کی وجہ سے دہلی اوقاف سے متعلق معاملہ آپ کی عدالت میں لایا گیا۔جج صاحب نے ناراضگی کے ساتھ جب اس کی وجہ پوچھی تودہلی حکومت میں افسر شاہی کی لیٹ لطیفی کا معاملہ سامنے آیا۔دراصل گزشتہ کئی ماہ سے دہلی وقف ٹربیونل میں چیئرمین کی تقرری کی فائل سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ رہی ہے جبکہ اوقاف سے متعلق نزاع کے نئے نئے معاملے روز سامنے آتے ہیں ایسے میںہائی کورٹ کا یہ سوال واجب ہے کہ اوقاف سے متعلق جھگڑے نمٹانے کے لئے جب ایک علیحدہ ٹربیونل قائم ہے تو پھر معاملات ان کے سامنے کیوں لائے جارہے ہیں۔ذرائع کے مطابق معزز جج نے ناراضگی کے ساتھ دو دن کے اندر دہلی حکومت کو ٹربیونل میں چیئرمین کی تقرری نہ ہونے کے لئے ذمہ دار افسران کی لسٹ حلف نامہ کی شکل میں عدالت میں جمع کرانے کے لئے کہا جبکہ اگلی سماعت کی تاریخ دو اپریل مقرر کردی ۔غور طلب ہے کہ دہلی وقف ٹربیونل کا قیام بھی ہائی کورٹ کی دخل اندازی کے بعد تین سال کی لیٹ لطیفی کے بعد عمل میں آیا تھاجس کے چیئرمین گورو رائے بنائے گئے تھے تاہم ان کی سبکدوشی کے بعدیہ عہدہ تقریبا کئی ماہ سے خالی پڑا ہے جبکہ سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اقلیتی معاملات میں ہمیشہ تساہلی سے کام لیا جاتا ہے جبکہ وقف املاک اسی تساہلی کی وجہ سے بڑے پیمانہ پر خرد برد کا شکار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram