وقف بورڈ کے ڈھائی سو اسکولوں کی تجویز کو مولانا ارشد مدنی نے سراہا

بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کرکے مجوزہ اسکولوں کی تفصیل سے آگاہ کیا،اسکول پوری دہلی میں تمام طبقات کے غریبوں کے لئے کھولے جائیں:مولانا مدنی،مولانا مدنی کی تجویز پر عمل کیا جائے :اروند کجریوال

نئی دہلی:آج دہلی وقف بورڈ کے چیئرمیں امانت اللہ خان نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کی ۔امانت اللہ خان نے آئندہ کچھ دنوں میں وقف بورڈ کے ذریعہ کھولے جانے والے مجوزہ ڈھائی سو اسکولوں کی تفصیل مولانا مدنی کو فراہم کرتے ہوئے کہاکہ یہ اسکول مسلم اکثریتی علاقوں میں غریبوں کے لئے کھولے جائیں گے تاکہ مسلم طبقہ میں تعلیم کو عام کیا جاسکے اور مسلم علاقوں میں اسکولوں کی قلت پر قابو پایا جاسکے۔وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے مولانا مدنی سے کہا کہ دہلی حکومت بھی ہماری اس تجویز سے متفق ہے اور بورڈ نے پہلے مرحلہ میں 50اسکول دہلی کے مختلف علاقوں میں کھولنے کا عمل بھی شروع کردیا ہے جس کے لئے ایسی بلڈنگ کرایہ پر لی جارہی ہیں جنھیں آسانی کے ساتھ اسکول میں تبدیل کیا جاسکے اور اس کے لئے اخبارات میں اشتہار بھی جار ی کردیاگیا ہے اور امید ہے کہ جاری سیشن سے ہی تمام اسکولوإ تعلیم شروع ہوجائے گی۔تفصیل کے مطابق مولانا ارشد مدنی دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ کھولے جانے والے ڈھائی سو اسکولوں کی تجویز سے کافی خوش نظر آئے اور انھوں نے تجویزکو سراہتے ہوئے مفید مشوروں سے بورڈ چیئر مین کو نوازا۔مولانا مدنی نے تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ دہلی وقف بورڈ ایک تاریخی قدم اٹھانے جارہا ہے اور اس نے معاشرہ میں تعلیم کی کمی کو دور کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر غریبوں کے لئے اسکول کھولنے کی تجویز کو نہ صرف اپنے مقاصد میں شامل کیا ہے بلکہ اس پر عملی قدم بھی بڑھادیئے ہیں تاہم مولانا مدنی نے کہا کہ یہ اسکول مسلم علاقوں میں نہ کھولتے ہوئے پوری دہلی میں جہاں جہاں بھی اسکولوں کی کمی ہے وہاں کھولے جائیں اور صرف مسلمانوں کے لئے نہ کھولے جائیں بلکہ تمام غریب طبقات کے بچوں کے لئے کھولے جائیں تاکہ سماج کے تمام طبقات ان اسکولوں سے فائدہ اٹھائیں اور ملک میں سماجی ہم آہنگی کا ایک اچھا پیغام جائے ۔مولانا ارشد مدنی نے اسی وقت دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال سے فون پر بات کی اور کہا کہ دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ کھولے جانے والے اسکول دہلی کے تمام علاقوں میں اورتمام مذاہب و تمام طبقات کے بچوں کے لئے کھولے جائیں ۔وزیر اعلی اروند کجریوال نے مولانا مدنی کی اس تجویز سے اتفاق کیا اور وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کو ہدای دی کہ وہ مولانا ارشد مدنی کی تجویز اور مشوروںکی روشنی میں قدم اٹھائیں۔ امانت اللہ خان نے بتایا کہ وزیر اعلی اروند کجریوال نے حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔غور طلب ہے کہ دہلی وقف بورڈ کافی دنوں سے کرایہ کی عمارتوں میں بڑے پیمانے پر اسکول کھولنے کی تجویز پر غور کر رہا تھااور اس سلسلہ میں گزشتہ دنوں اوکھلا کے ابو لفضل میں ہوٹل ریور ویو میں ایک سیمینار کا انعقاد بھی عمل میں آیا جس میں دہلی کے وزیر تعلیم اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر منیش سسودیا نے بھی دہلی وقف بورڈ کی اس تجویز اور امانت اللہ خان کے ذریعہ غریب طبقات میں تعلیم کو عام کرنے کے لئے کی جارہی کوششوں کو نہ صرف سراہا تھا بلکہ حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی تھی ۔اب جبکہ یہ تجویز اپنی عملی شکل لیتی ہوئی نظر آرہی ہے تو امانت اللہ خان کافی پرجوش ہیں اور اس سلسلہ میں ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ تمام مسلم انٹلیکچول سے اس بارے میں رائے لے رہے ہیںاور امید ہے کہ جلد ہی دہلی کے مختلف علاقوں میں 50 اسکول عملی شکل لے لیں گے اور دہلی کے غریب طبقات کے بچے وقف بورڈ کے ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کرسکیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest