اردواکادمی نئے پرانے چراغ کے انعقادکے مقصدمیں کامیاب:پروفیسرشہپررسول

اردواکادمی ،دہلی کے زیراہتمام بزرگ وجوان عمرقلم کاروں کا ادبی اجتماع نئے پرانے چراغ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

نئی دہلی:اردو اکادمی،دہلی کے زیراہتمام دہلی کے بزرگ اورجواں عمر قلم کاروں کے پانچ روزہ ادبی اجتماع ’نئے پرانے چراغ‘کا سلسلہ آج اپنے اختتام کو پہنچا۔نئے پرانے چراغ کے پانچویں روزکے پہلے تحقیقی وتنقیدی اجلاس کی مجلسِ صدارت میں پروفیسرمحمدذاکر،پروفیسروہاج الدین علوی اور ڈاکٹر خالد جاوید شامل تھے جب کہ نظامت دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرمحمدشاداب شمیم نے کی ۔آخری روز کے تحقیقی وتنقیدی اجلاس میں 11ریسرچ اسکالروں نے اپنے مقالات پیش کیے ۔نورین علی حق نے عبدالماجددریابادی کی آپ بیتی:ایک مکمل آپ بیتی کانامکمل تجزیہ،راکیش کمارنے ابوالکلام آزادکی خطوط نگاری،محمدمصطفی نے مکاتیب شبلی پرایک تنقیدی نظر،شہنازنے مجتبیٰ حسین بحیثیت مضمون نگار،سعدیہ پروین نے سرسیدکی مضمون نگاری،محمدعرفان احمدنے کلیم الدین احمداوراردوتنقید،عبدالواحدنے اردوناول کی تنقیداوراسلوب احمدانصاری،محمدفہیم نے آب گم ایک مطالعہ،خوشترزریں ملک نے منٹوکافن: خاکے اورمضامین کی روشنی میں،صدف فاطمہ نے ناظم علی خان ہجرشاہ جہاں پوری کی شاعری اورشاہدرضی نے شارب ردولوی کی تنقیدی بصیرت جیسے عناوین پرمقالات پیش کیے ۔
صدارتی تقریر کرتے ہوئے معروف وممتازافسانہ وناول نگارڈاکٹرخالدجاویدنے کہاکہ اردواکادمی کا یہ تاریخی وادبی اجتماع نئے پرانے چراغ ،نئی نسلوں کو صیقل کرنے کے لیے بہت ہی سودمند ہے ۔تمام مقالات محنت سے لکھے گئے ہیں ۔مجھے خوشی ہے کہ نئی نسل کے اسکالرز بھی کمال فن کو پیش نظر رکھ کر کام کررہے ہیں ۔نورین علی حق نے بہت اچھا مقالہ پیش کیا ۔اب تک میں اسے افسانہ نگارکے طورپرجانتا تھا اب سوچ رہاہوں کہ یہ زیادہ اچھے مقالے لکھتے ہیں یا افسانے ۔
اپنی صدارتی تقریر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیزپروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ چوبیس پچیس برس سے نئے پرانے چراغ کا یہ سلسلہ چل رہاہے۔ان چوبیس پچیس برسوں میں بہت سارے چراغ روشن ہوچکے ہیں۔اردو اکادمی اس پروگرام کے انعقاد کے لیے مبارک باد کی مستحق ہے۔تمام مقالات اچھے تھے لیکن تین مقالوں نے کافی متاثر کیا ۔ان میں نورین علی حق ،صدف فاطمہ اورخوشترزریں کے مقالے تھے۔ اس پروگرام میں آکر محسوس کرتاہوں کہ ہمارے بعدبھی اردوکاچراغ روشن رہے گا ۔
اس موقع پرپروفیسرمحمدذاکرنے ریسرچ اسکالروں کو زبان پر عبورحاصل کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ زیادہ ترمقالے قابل داد ہیں ۔مجھے خوشی ہے کہ نئے پرانے چراغ سے نئی نسل کے لوگ استفادہ کررہے ہیں۔زبان اور تلفظ کی درست ادائیگی پرتوجہ مرکوزکرنی چاہیے ۔
نئے پرانے چراغ کے پانچویں اورآخری روزکے تخلیقی اجلاس کی صدارت ڈاکٹرریاض عمراورڈاکٹرمظفرحسین سیدنے اورنظامت ڈاکٹرمحمدآدم نے کی ۔تخلیقی اجلاس میں 14 تخلیقات پیش کی گئیں۔انجم عثمانی نے دوسری چار،ڈاکٹرنگارعظیم نے دوآنکھیں،ڈاکٹرپرویز شہریارنے کہانی کی کہانی،تبسم فاطمہ نے مٹھی میں بنددھوپ،انوارالحق نے جمنا کے کنارے،ترنم جہاں شبنم نے گھورانرتھ، ڈاکٹرسفینہ نے پھرکی،نورالاسلام نے دکھی دلوں کا سہارا،شمیم اخترنے گھر کاسکھ،نجمہ انعم نے بون ژائی،محمدسلیم نے گناہ،مصطفی علی نے منتقلی،عرفات حسین شاہ نے جنت سے جہنم تک،سنتوش کمارنے دعوت جیسی تخلیقات پیش کیں ۔
ڈاکٹر مظفرحسین سید نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ نئے پرانے چراغ میں بیٹھ کر اندازہ ہوا کہ قلم مضبوط ہاتھوں میں ہے۔نئی نسل کے قلم کار تلفظ پر خصوصی توجہ دیں،جزئیات نگاری اور مکالمہ نگاری پر بھی نئی نسل توجہ دیں۔پرانے چراغوں پراظہاررائے کرنا کچھ آسان نہیں ہے ۔اس لیے میں سمجھتاہوں کہ ان پرکیا کہا جائے چوں کہ یہ سب ماہر لوگ ہیں اورانہیں سن کرنئی نسل کے لوگ سیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر جی آر کنول نے تخلیقی اجلاس پراپنے تاثرات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ افسانہ تو افسانہ ہے،افسانے کو تبلیغ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔نئے لوگوں کے افسانوں میںاضافیت بہت ہے ۔صفت کا استعمال کریں تو اس کی وجوہات بھی بتائیں۔کالا لفظ اگر کہانی میں آئے تو اس کی کوئی مستحکم وجہ ہونی چاہئے۔افسانہ پراسرار ہونا چاہئے۔افسانے میں کوئی تحیرتو ہو،اپنی بات افسانوی شکل میں کہنا سیکھیں۔
اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر ریاض عمر نے کہاکہ سارے افسانے بہت اچھے تھے۔ان تمام افسانوں میں اہم موضوعات کو اختیارکیا گیا ہے ۔میں تمام افسانہ نگاروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارک بادپیش کرتاہوں ۔
اردو اکادمی کے وائس چیئرمین اوراردو کے معروف وممتاز شاعرپروفیسر شہپر رسول نے اظہارتشکرکرتے ہوئے کہا کہ نئے پرانے چراغ کے تمام اجلاس کامیاب ہیں۔میں آپ سب کا ممنون ہوں کہ آپ اکادمی کی دعوت پر تشریف لاتے ہیں اور اکادمی کے پروگرام کامیاب ہوتے ہیں۔آج پانچ روزہ نئے پرانے چراغ کاآخری دن ہے آج بھی تمام اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقدہورہے ہیں ۔گزشتہ چارروز بھی تمام پروگرام کامیاب رہے ہیں ،اکادمی کی کامیابی کاتصوریہ ہے کہ یہاں نئی نسل کے لوگ کامیاب ہوں اور ان کا فن صیقل ہوجائے ۔نئے پرانے چراغ کے انعقادکامقصدصرف یہ ہے کہ نئے چراغ پوری طرح اپنے فن کو صیقل کریں اوروہ ادب کے تمام میدان میں اپنانام روشن کریں اوراس تصورکوکامیاب بنانے میں دہلی کی تینوں جامعات کے اساتذہ کابھی بڑاکارنامہ ہے اورسامعین بھی ان پروگراموں کی کامیابی میں برابرکے شریک ہیں ۔میں تمام تخلیق کاروں کو بصمیم قلب مبارک باد پیش کرتاہوں ۔ان پروگراموں کے انعقادکااصل سہرااردواکادمی کے تمام ملازمین کے سرجاتا ہے،یہ کامیابی ان ہی کی محنتوں کا ثمرہ ہے ۔
خیال رہے کہ پانچ روزہ نئے پرانے چراغ کی آخری شام کو محفل شعروسخن کی پانچویں اور آخری محفل منعقد کی صدارت اسلم دہلوی اورنظامت شکیل جمالی نے کی جس میں تقریباً66 شعرا نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram