اردو ہماری روح ہے کے زیر اہتمام مشاعرہ منعقد

پرتاپ گڈھ: بزم شاعر ‘اردو ہماری روح ہے’کی جانب سے گذشتہ روز منعقدہ طرحی مشاعرے کے ١٣٢ واں دور میں شامل احباب کے کلام سے منتخب اشعار قارئین کے ذوق کےلئے پیش ہیں

جواب دیتے بھلا کیوں ہم اسکی باتوں کا
ہمیں تو اپنی شرافت کی حد میں رہنا تھا
درد دہلوی
کسی کی خاص عنایت سے اے اسد پہلے
نہ میری روح تھی زخمی. نہ دل شکستہ تھا
اسد سلونوی
جلا کے بیٹھے ہیں ہاتھوں کی انگلیاں ساری
دیا جلانے سے پہلے ہی تم کو روکا تھا ابو العرفان شجاعت
مجھے یقین تھا اک دن وہ لوٹ آئے گا
اسی گمان میں برسوں تلک میں بیٹھا تھا
رستم الہابادی
میں اپنے آپ سے جس وقت روشناس ہوا
مری حیات کا وہ بہترین لمحہ تھا
صابر جوہری
سپاس نامہ لکھا جائے گا اسی کے لئے
جو ساتھ تحفہء نذرانہ لیکے آیا تھا
احمد حفیظ جونپوری
جو چاک چاک ہوئے سب گلوں کے پیراہن
کسی نے اس طرح گلشن کو میرے روندا تھا
تنویر فاطمہ
امیر شہر جسے قتل کر دیا تو نے
ضعیف باپ کا اپنے وہی سہارا تھا
رئیس نصیرآبادی
لئے فرات کو آغوش میں وہ بیٹھا تھا
کہ تشنہ کامی پہ دریا کی جس کا قبضہ تھا مولانا عمران ندوی
تو منتظر تھا کسی کا یا پھر سبب تھا کوئی
کہ ڈھلتی شام کو پنگھٹ پہ تجھکو دیکھا تھا
ذاکر علوی
زمانہ ناپ نہیں پایا اسکی گہرائی
وہ اپنے آپ میں ایسا اتھاہ دریا تھا
کیف جرولی
نہ نے وفائی کا الزام دو اسے ہمدم
جو یاد راتوں کو کرتا تھا اور روتا تھا
انعم پرتابگڈھی
مری وفا کی صداقت کا کچھ ہو اندازہ
اسی لئے وہ کئی روز مجھ سے روٹھا تھا
ضمیر پرتابگڈھی
اسی کو مانگ لیا میں نے پھر مقدر میں
فلک پہ ایک ستارہ جو آج ٹوٹا تھا
ہمدم
اسی کے نور سے دونوں جہاں منور ہیں
حرا کے غار میں جو آفتاب چمکا تھا
ڈاکٹر آفتاب جونپوری
شکم پہ باندھ کے پتھر میں مر گیا لیکن
مرا ضمیر تو اس حال میں بھی زندہ تھا
فہیم پرتابگڈھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram