ہمیں اردو کے دائرے کو وسیع کرنا ہوگا : پروفیسرصادق

اردو تہذیب کا بنیادی نکتہ’’ پیغام محبت‘‘ ہے :پروفیسر شریف حسین قاسمی
اردو کے تحفظ کے لیے نئے خیالات اور وسائل پیدا کرنے ہوں گے: مشرف عالم ذوقی
اردو کی بنیادی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت : پروفیسر شہزاد انجم
پرگتی شیل مزدور جن کلیان سیوا کی جانب سے’’ اردو ذریعہ تعلیم اور سرکاری ادارے : مسائل اور امکانات ‘‘کے موضوع پر یک روزہ قومی سمینار

نئی دہلی:معروف سماجی تنظیم پرگتی شیل مزدور جن کلیان سیوا(رجسٹرڈ) آزادپور اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت برائے فروغ انسانی وسائل ، حکومت ہند کے اشتراک سے غالب اکیڈمی، حضرت نظام الدین، نئی دہلی میں یک روزہ قومی سمینار بعنوان ـ’’’’ اردو ذریعہ تعلیم اور سرکاری ادارے : مسائل اور امکانات ‘‘‘‘منعقد کیا گیا۔سمینار میں اردو زبان و ادب اور درس و تدریس سے وابستہ معروف اور اہم شخصیات نے شرکت کی اور اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کیا۔سبھی مقررین نے اردو کی بنیادی تعلیم کے حصول پر زور دیااور اردو تعلیم کے بنیادی مسائل اور ان کے حل کے موضوع پر سیمینار کے لیے سماجی تنظیم کو مبارکباد دی۔
سیمینار کا آغاز خالد رضا خاں کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا۔ انھوں نے تنظیم کا تعارف پیش کرتے ہوئے اس موضوع پر سیمینار کرانے کی غرض و غایت بیان کی۔ساتھ ہی تنظیم کی گزشتہ برسوں کی حصولیابیوں اور کامیابیوں کی تفصیلات بھی پیش کی۔
سیمینار کے مہمان خصوصی پروفیسر شریف حسین قاسمی ،سابق صدر ،شعبہ فارسی ، دہلی یونیورسٹی نے کہا کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام ہے ،وہ تہذیب جو ہمارے ملک میں پید اہوئی۔ اردو کا ہندوستان سے وہی تعلق ہے جو یہاں پیدا ہوئی دیگر زبانوں کا ہے۔ اردو تہذیب کا بنیادی نکتہ پیغام محبت ہے جسے ہمیں پوری دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر صادق نے افتتاحی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے نام سے ذرا بھی ایسا نہیں لگتا کہ یہ اردو کے فروغ کا کام کر رہے ہیں لیکن ان کا کام دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ انھوں نے جھگی جھونپڑیوں میں بچوں کے درمیان سلیٹ پنسل اور اردو کتابیں تقسیم کی ہیں اور اردو لکھنا پڑھنا سکھا رہے ہیں۔ اصل میںاردو کی یہی خدمت ہے۔ہمیں اردو کے دائرے کو وسیع کرنا ہوگا تبھی اردو مزید پھلے پھولے گی۔اس سے قبل سمینار کے مہمان ذی وقار اور روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر و معروف فکشن نگار جناب مشرف عالم ذوقی نے کہا کہ آج ٹکنالوجی کا دور ہے اور ہمیں اردو تعلیم کے وسائل میں انٹرنیٹ اور نئی ٹکنالوجی کو شامل کرنا ہوگا۔ آج ہمیں نئے خیالات پیدا کرنے ہوں گے۔ نئے آئیڈیاز ہوں گے تبھی ہم اردو کا تحفظ کرسکتے ہیں۔ہماری نئی نسل موبائل فون میں اپنا وقت برباد کرتی ہے جب کہ اصل علم ہمیں مطالعے سے ملے گا۔ اس لیے آپ سب اردو بولیے، اردو لکھیے اور اردو پڑھیے۔اردو اور ہندی مشترکہ طور پر زندہ زبانیں ہیں۔ ہمیں اردو میں روزگار مہیا کرانے کی بھی کوشش کرنی ہوگی۔این آئی او ایس کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر شعیب رضا خاں نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے اردو ذریعہ تعلیم کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمیں اردو کا دامن سمٹتا ہوا نظر آرہا ہے اس لیے ہمیں ابتدائی تعلیم اپنی مادری زبان اردو میں دلانا بہت ضروری ہے۔
سیمینار کے تکنیکی سیشن کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر پروفیسر شہزاد انجم نے سمینار کی منصوبہ بندی پر اظہار خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس سمینار میں پورے ملک میں اردو تعلیم اور ذریعہ تعلیم پر گفتگو کی گئی۔یہ سمینار اس لیے بھی قابل تعریف ہے کہ اس میں میوات،جبل پور، گورکھپور، حیدرآباد وغیرہ شہروں کے مقالہ نگاروں نے شرکت کی اور مختلف موضوعات پر پرمغز مقالے پیش کیے۔اردو کی بنیادی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہم محض سرکار کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔
سیمینار کے تکنیکی سیشن میں سلیم انصاری، ڈاکٹر مظفر اسلام، ڈاکٹر علاء الدین خاں،ڈاکٹر قدسیہ نصیر،ڈاکٹر نوشاد عالم، ڈاکٹر محمد امان اللہ،ڈاکٹر حافظ محمد عمران، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر مسرت، ڈاکٹر شاہانہ مریم شان،ڈاکٹر جسیم الدین، معراج الا سلام اور نازیہ حسن نے مقالے پیش کیے۔سمینار میں اردو کی ابتدائی تعلیم،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اردو ذریعہ تعلیم، کالج اور یونیورسٹیوں میں اردو تعلیم، اگنو میں اردو درس و تدریس، جامعہ ملیہ کی اردو خدمات،این سی ای آرٹی اور اردو کی نصابی کتب،قومی اردو کونسل کی اردو خدمات،دہلی کے سرکاری اسکولوں میں اردو تعلیم،جنوبی ہند میں اردو تعلیم کا منظرنامہ، سرکاری مدارس میں اردو تعلیم جیسے موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔سیمینارکی نظامت کے فرائض جناب زبیر خان سعیدی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔تنظیم کے جنرل سکریٹری جناب صابر علی نے مالی تعاون کے لیے قومی اردو کونسل اور اس سیمینار میں شرکت کے لیے سبھی مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔اس سمینار میں جبل پور سے تشریف لائے جناب سلیم انصاری صاحب کی کتاب ’’مطالعے کا سفر‘‘ کا اجرا بھی معزز مہمانان کے ہاتھوں کیا گیا۔سیمینار میں جے این یو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اور دیگر عمائدین شہرموجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *