عوامں مشاعر کو اردو سے قریب کرنے میں سمینارو ڈراموں کا اہم کردار رہاہے :پروفیسر شہپر رسول

اردو اکادمی دہلی کا 31 واں چھ روزہ اردو ڈرامافیسٹول کامیابی کے ساتھ جاری ،آج پیش کئے گئے ڈرامے ’سر اقبال‘کو خوب پسندکیا گیا
محکمہ فن،ثقافت والسنہ خطہ قومی راجدھانی حکومت دہلی اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام شری رام سینٹر صفدر ہاشمی مارگ منڈی ہاؤس نئی دہلی میں ۳۱واں چھ روزہ اردو ڈراما فیسٹول کامیابی کے ساتھ جاری ہے جس میں حسب روایت ناظرین کی بھر پور تعداد پہنچ رہی ہے ۔آج تیسرے دن پیروٹس ٹروپ نے ڈاکٹر ایم سعید عالم کی ہدایت میں ’’سر اقبال‘‘ڈرامہ پیش کیا جس کو خوب پسند کیا گیا ۔ڈرامے کے مرکزی کردار سر اقبال کو ڈاکٹر ایم سعید عالم نے اس خوبی سے ادا کیا کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھے ۔ڈاراما میں علامہ اقبال کی پوری زندگی کا احاطہ نہایت خوبصورت انداز میں کیا گیا ۔ان کا بچپن ،شاعری ،فلسفہ ،دورۂ ولایت ، مسلم لیگ کی صدارت ،کلام شکوہ ،کفر کا فتویٰ ،شاعری ترک کرنے کا ارادہ غرض ان کی زندگی سے جڑے ایک ایک واقعے سے ناظرین کو روشناس کرایا گیا ۔ڈراما کے دیگر کردار نوریٰ بی ،مولوی امیر حسن ،جاوید اقبال ،حالی ،سالک وغیرہ کو بھی عوام نے داد و تحسین سے نوازا ۔
وائس چیئر مین اردو اکادمی دہلی پروفیسر شہپر رسول نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو اپنی شگفتگی اور مٹھاس کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے گی یہ الگ بات کہ اردو زبان کی ترویج و ترقی لکھنے اور پڑھنے کے عمل کے بغیر نا ممکن ہے مگر اس بات کو بھی تسلیم کرنا پڑیگا کہ مشاعرے اور تھیٹر بھی اس کی بقاء اور تحفظ کی راہ میں ایک اہم کڑی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈرامے ہماری قدیم روایت کا حصہ ہیں تھیٹر اور آرٹ سے انسان کو فطری لگاو ٔ ہوتا ہے اس لیے ان پروگراموں کے ذریعہ ان لوگوں کو اردو کا اسیر بنایا جا سکتا ہے جن کے دل میں محبت کی زبان کہلائی جانے والی اردو کی ذرہ برابر بھی جگہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشاعروں ،سیمیناروں ،ڈراموں اور فنون لطیفہ کے دیگر پروگراموں کا عوام پر خاصہ اثر محسوس کیا گیا ہے آج غیر مسلموں کی بڑی تعداد اردو کی طرف راغب ہو رہی ہے جس کا مشاہدہ اکادمی کے ذریعہ چلائے جارہے اردو سینٹرس میں کیا جا سکتا ہے ۔ ۔انہوں نے کہا کہ آرٹ اور کلچر کا یہ خوبصورت فیسٹول دہلی سرکار کی مروہون منت ہے ۔عالیجناب منیش سسودیا اور اروند کیجریوال کسی بھی زبان کی طرح اردو کے فروغ اشاعت میں پوری طرح سنجیدہ ہیں ان کی توجہ خاص کے بغیر اس طرح کے پروگراموں کا خواب شرمندہ ٔتعبیر نہیں ہوسکتا ۔پروفیسر شہپر رسول نے اچھی پیش کش کے لئے دل کھول کر فنکاروں اور ٹیم سے جڑے منجملہ ممبران کی محنتوں کی سراہنا کی اور ناظرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بغیر یہ محفل بے سود ہے آپ حاضر ہوتے ہیں اردو سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں تو قلبی سکون میسر آتا ہے ۔ ڈراما میں مختلف کردار ادا کرنے والوں میں بلال میر ،عارفہ ،آرین ،اتیہ بلومنگ ،انجو ،امان ،گنیش ،جسکرن اورراہل وغیرہ کے نام شامل ہیں۔مذکورہ ڈراماکے تخلیق کار خود ڈاکٹر ایم سعید عالم تھے ۔اس موقع پر شعرا ،ادبا ، اور تھیٹر سے وابسطہ اہم شخصیات موجود رہیں ۔پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اردو اکادمی دہلی کے عملہ نے اہم رول ادا کیا ۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram