اردواکادمی ،دہلی کے تعلیمی وثقافتی مقابلے جاری

اردواکادمی ،دہلی کے زیراہتمام قمررئیس سلورجبلی ہال،کشمیری گیٹ میں تعلیمی وثقافتی مقابلے جاری ہیں۔ان مقابلوں میں فی البدیہ تقریری مقابلہ،تقریری مقابلہ(اکادمی کے منتخب موضوعات پر)بیت بازی،مقابلہ غزل سرائی(ترنم سے بغیر ساز)مقابلہ اردوڈراما،مقابلہ سوال وجواب(کوئز)مقابلہ مضمون نویسی،مقابلہ مضمون نویسی اورخطوط نویسی،مقابلہ خوش خطی اورامنگ پینٹنگ مقابلے شامل ہیں جو 13؍دسمبر تک جاری رہیں گے ۔ ان مقابلوں میں دہلی کے پرائمری، مڈل،سیکنڈری اورسینئرسیکنڈری اردومیڈیم اسکولوں یا جہاں اردو بحیثیت مضمون پڑھائی جاتی ہے کے طلباوطالبات شریک ہورہے ہیں ۔
آج غزل سرائی مقابلہ برائے سیکنڈری زمرہ کاانعقاد کیا گیا جس میں جج کی حیثیت سے ڈاکٹر عفت زرّیں اور جناب شکیل جمالی نے شرکت کی جب کہ مشاہد کی حیثیت سے اکادمی کی گورننگ کونسل کے ممبر جناب ایف۔ آئی۔ اسماعیلی شریک ہوئے۔ آج کے مقابلے میں دہلی کے 36اسکولوں کے تقریباً 63طلباو طالبات شریک ہوئے۔
مقابلے کے اختتام پراظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب ایف ۔آئی۔ اسماعیلی نے کہا کہ اکادمی اس طرح کے مقابلے منعقد کراکر طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی تو کرتی ہی ہے ساتھ ہی ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا سبب بھی بن رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ انہی میں کوئی بچہ اس فن میں مہارت حاصل کرلے اور ملک کا نام روشن کرے۔
جناب شکیل جمالی نے تمام طلبا و طالبات کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی کے ذریعہ آپ کو ایک اسٹیج فراہم کیا گیا ہے تاکہ آپ کی صلاحیت کو ابھارا جائے۔ انھوں نے غزل گائیکی کے فن، نغمگی اور ادائیگی کے رموز و نکات بھی بتائے اور اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا بچوں سے زیادہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ معیاری کلام کا انتخاب کریں اور تلفظ کی ادائیگی پر خصوصی توجہ دیں۔ ساتھ ہی اساتذہ سے کہا کہ اسٹیج پر کھڑے ہونے کے آداب اور سامعین کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرنے کا ہنر بھی بتائیں۔
ڈاکٹر عفت زرّیں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا طلبا وطالبات کو چاہیے کہ مقابلہ جاتی پروگرام میں شرکت کرنے سے قبل پروگرام کی ریہرسل پر خصوصی توجہ دیں۔ طلبا میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے بس انھیں نکھارنے کی ضرورت ہے۔ اردو اکادمی دہلی ہرسا ل طلبا و طالبات کو یہ موقع فراہم کرتی ہے، اس لیے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ دیگر مقابلہ جاتی پروگراموں میں طلبا کی کارکردگی بہتر ہو اور وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین اور اسکول کانام بھی روشن کریں۔
جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق محمد کیف ولد محمد ناصر(اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ) اور افراح خان بنت ندیم احمد خان(جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ) کو نمبر مساوی ہونے کی بنیاد پر اول انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔ دوسرے انعام کے لیے رومائسہ بنت سلیم احمد(ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار) کو منتخب کیا گیا اور تیسرے انعام کے لیے محمد طالب ولد محمد فیض(اینگلوعربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ)،نازیہ حسن بنت اعجاز احمد(گورنمنٹ سروودیہ کنیا ودیالیہ، کھجوری خاص) اور تسکین انصاری بنت عبداللہ انصاری(راجکیہ سروودیہ کنیا ودیالیہ، رادھے شیام پارک) کو منتخب کیا گیا جب کہ فرحین اعظم بنت ایم۔ اعظم انصاری( گورنمنٹ گرلز سینئر سیکنڈری اسکول، چشمہ بلڈنگ)،صائمہ بنت شوکت(زینت محل گورنمنٹ سروودیہ کنیا ودیالیہ، جعفرآباد)،خوشنما بنت شاہنواز(ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد)،صفورہ مدنی بنت شہنواز عالم (کریسنٹ اسکول، موجپور)،سامعہ گلزار بنت گلزار احمد(کریسنٹ اسکول، موجپور)،سکینہ بنت اسرار حسین(گورنمنٹ سروودیہ کنیا ودیالیہ، نور نگر)،صائم سیفی ولد ظریف سیفی(گورنمنٹ سروودیہ بال ودیالیہ، پٹودی ہائوس) اور زنیرہ عنبر بنت عزیزالحسن(گورنمنٹ گرلز سینئر سیکنڈری اسکول ، چشمہ پلڈنگ) کو حوصلہ افزائی انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *