اردو اکادمی اوراردو سیل قائم کیا جائے

منی پور میں ڈائرکٹر قومی کونسل کا مطالبہ

نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمدنے منی پور کے چیف سکریٹری سریش بابو سے سکریٹریٹ میں منی پور میں ابتدائی سطح پر اردو کی تعلیم اور فروغ کے سلسلے میں تبالہ خیال کیا۔ اس میٹنگ میں منی پور کے چیف سیکریٹری کے علاوہ ڈائرکٹریٹوریٹ کی ٹیم جس میں کمیشنر تعلیم، ڈائریکٹر تعلیم، ڈائیرکٹر اقلیتی امور، ڈائرکٹر دیگر بیک وارڈ کلاس، ڈائرکٹر لینگویز پلاننگ اینڈ امپلینٹیشن، ڈپٹی سیکریٹری منی پور وغیرہ شامل تھے۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد کی قیادت میں این سی پی یو ایل کی ایک ٹیم جس میں ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ اور انتخاب احمد بھی شامل تھے، نے اردو زبان کی تعلیم اور اس کے فروغ کے سلسلے میں وسیع تبادلہ خیال کیا اور حکومت منی پور سے مطالبہ کیا کہ وہاں اردو کی تعلیم ابتدائی سطح شروع کی جائے گی اور اسی کے ساتھ اردو ادب کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جائیں۔دونوں ٹیموں کے درمیان ریاست منی پور میں ابتدائی سطح پر اردو زبان وادب کے فروغ اور اردواور منی پوری تہذیب کو مشترکہ طور پر ریاست منی پور میں پھیلانے کے امکانات کے موضوع پروسیع طور پر بات چیت ہوئی۔
مسٹر شیخ عقیل احمد نے کہاکہ دونوں ٹیموں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا کہ این سی پی یو ایل حکومت منی پور کے ساتھ مشترکہ طور پر منی پور میں 21 نومبر سے 30 نومبر کے درمیان ہونے والے سنگھائی نیشنل فیسٹیول میں مشترکہ طور پر اردو غزل، اردو ڈرامہ پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ اردو میں منی پوری کتابوں کا ترجمہ کرایا جائے گا۔ مٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر ایک اردو سیل کا قیام کرے گی تاکہ کونسل اپنے اسکیموں کے نفاذ کے لئے اردو سیل سے رابطہ قائم کرسکے۔قبل ازیں این سی پی یو ایل کے ڈاکٹر نے چیف سکریٹری اور ان کی ٹیم سے ریاست منی پور میں اردو اکیڈمی اور اردو سیل قائم کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ این سی پی یو ایل کے تمام اسکیموں کو ریاست میں نافذ کرنے کے لئے اردو اکیڈمی کا قیام ضروری ہے۔ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے منی پوری زبان کی کتابوں کو اردو میں اور اردو کتابوں کو منی پوری زبان میں ترجمہ کرانے پر زور دیا۔ساتھ ہی دونوں زبانوں کی تہذیبی پروگراموں کو مشترکہ طور پر کرانے کی بات کی تاکہ دونوں زبانوں کو تہذیبی طور پرایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے اور دونوں زبانوں کے فروغ کی راہ ہموار کی جاسکے۔
میٹنگ میں مدرسہ بورڈ کا قیام، سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں اردو کی تعلیم کے لئے اردو ٹیچرس کی تقرری، اردو کی کتابوں کی فراہمی جیسے اہم مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest