دہلی کاگنگاجمنی مزاج جشن وراثت اردوکی کامیابی کاضامن:شہپررسو

جشن وراثت اردوکاخمار

اردواکادمی ،دہلی کے زیراہتمام منعقدچھ روزہ جشن وراثت اردوکاسلسلہ جاری ،مزاحیہ ڈرامااکبردی گریٹ اورانڈین اوپیرافیوژن سے سامعین ہوئے لطف اندوز
نئی دہلی:اردواکادمی،دہلی کے زیراہتمام چھ روزہ جشن وراثت اردوکاسلسلہ سینٹرل پارک،کناٹ پیلس میں جاری ہے۔حسب روایت سابق جشن وراثت اردوکے پانچویںروز بھی سامعین کی خاصی تعدادموجود رہی اور تمام پروگراموں سے لطف اندوزہوئے ۔چوتھے روزکے پروگراموں کاآغازبچوں کی قصہ گوئی سے ہوا۔ٹیلنٹ گروپ (دہلی) کے بچوں نے قصہ گوئی کے ذریعہ دہلی اورشاہ جہاں آبادکی تاریخ بتائی ۔بچوں کی زبانی ہندوستان کے دارالحکومت کی تاریخ سن کرسامعین محظوظ ہوئے ۔بچے پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ٹیلنٹ گروپ(دہلی) پسماندہ بچوں کوپڑھاتاہے اورانھیں اس پروگرام کے لیے تیارکرتاہے ۔ قصہ گوئی کے بعدغزل سرائی کامقابلہ ہوا جس میں دہلی کی جامعات کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔ججزکی ذمہ داری جواہرلعل نہرویونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹرشفیع ایوب اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذڈاکٹررحمان مصورنے اداکی اور آبزروراردواکادمی،دہلی کی گورننگ کونسل کی رکن ڈاکٹروسیم راشدتھیں جب کہ اس مقابلے کی نظامت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹرخالدمبشرنے کی ۔مقابلے میں عمدہ غزلیں عمدہ اندازمیں پیش کی گئیں۔اس مقابلے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بی اے آنرزکے طالب علم محمدمہتاب عالم کواول،سینٹ اسٹیفن کالج کی بی اے پروگرام کی طالب علم طٰہٰ فردوس کودوم،دہلی یونیورسٹی کی ایم اے میوزک کی طالبہ شروتی مشرااورجواہرلعل نہرویونیورسٹی کے بی اے عربی کے طالب علم وسیم احمد کوسومجب کہجامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علمسیف الرحمان اورعبدالرحمان کو حوصلہ افزائی کے انعامات دیے گیے ۔
مقابلے کے اختتام پراظہارخیال کرتے ہوئے ڈاکٹرشفیع ایوب نے کہاکہ تمام شرکانے اپنی کوشش کے مطابق اچھی طرح غزلیں پیش کیں۔غزال سرائی کے مقابلے میں غزل کے انتخاب کے ساتھ ہی ساتھ غزل سرائی کے نوک وپلک پربھی توجہ رکھنی پڑتی ہے ۔تمام شرکاکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے مزیدکہاکہ جنھیں اول ،دوم اورسوم قراردیاگیاہے۔ان کے علاوہ دیگرشرکانے بھی اچھی کارکردگی پیش کی ۔جشن وراثت اردوکے ذریعہ اردوکے فروغ کے امکانات روشن ہورہے ہیں ۔میں اردواکادمی اوردہلی حکومت کومبارک بادپیش کرتا ہوں اورتمام شرکااوراول ،دوم اورسوم آنے والوں کوبھی مبارک باددیتاہوں ۔
ڈاکٹررحمان مصورنے تمام شرکاکومبارک باددیتے ہوئے کہاکہ غزل سرائی اورغزل گائیکی میں فرق کرناضروری ہے ۔کچھ لوگ غزل گائیکی اورغزل سرائی کوایک ہی فن سمجھتے ہیں جو غلط ہے ،ان دونوں فنوں میں تفریق کرناچاہئے ۔یہاں غزل سرائی کامقابلہ ہواغزل گائیکی کانہیں ۔آپ تمام شرکانے محنت کی ہے ،لیکن فنی اورتکنیکی مسائل اورتلفظ کی درست ادائیگی پربھی بھرپور توجہ رکھیں،اس سے آپ کے فن میں مزیدبہتری آئے گی ۔فنون لطیفہ کی پیش کش کے ساتھ طلباوطالبات کواکادمی یادرکھتی ہے۔جس سے طلباوطالبات کوحوصلہ ملتاہے ۔میں اکادمی اور اس کے ذمہ داران وعہدیداران اوراراکین وملازمین کومبارک بادپیش کرتاہوں۔ڈاکٹروسیم راشدنے تمام شرکاکومبارک باددیتے ہوئے کہاکہ غزل یا اردوکی کسی بھی صنف کوپیش کرتے ہوئے سب سے زیادہ اورسب سے پہلے تلفظ کی درست ادائیگی کی طرف توجہ مرکوزکرنی چاہئے ۔تلفظ کی درست ادائیگی کے بغیربات بنتی نہیں ہے اوردرست ادائیگی سے آپ کی شخصیت پربھی مثبت اثرہوتاہے ۔اردوکادمی اردوکے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔اردواکادمی اوردہلی حکومت کی اس کوشش کویقیناسراہاجاناچاہئے ۔
جشن وراثت اردوکے پانچ روز کے کامیاب سفرپربات کرتے ہوئے اردواکادمی کے وائس چیئرمین اورمعروف وممتازشاعرپروفیسرشہپررسول نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ دہلی حکومت اوراردوکادمی کی کوششیں رنگ لارہی ہیں۔سامعین تمام پروگراموں سے محظوظ ہورہے ہیں ۔جشن وراثت اردوکے انعقادکاجومقصدہمارے پیش نظررہتاہے،اس میں ہم کامیاب ہیں ۔میں کس پروگرام اورکس فن کارکی ستائش کروں ،یہاں توتمام فن کارشاندارمظاہرے کررہے ہیں ۔میں توجامعات کے طلباوطالبات کی پیش کش سے بھی خوش ہوں ۔سامعین کی تعداداوران کی رنگارنگی صرف مجھے ہی نہیں اکادمی کے تمام ذمہ داران ،اراکین اورحکومت کوبھی مزیدکچھ بہترکرنے پرترغیب دیتی ہیں ۔اردوکاجمہوری مزاج یہاں سامعین کوکشاں کشاں کھینچے لیے آتاہے۔ دہلی کے عوام خواص کامزاج بھی کافی حدتک جمہوری اورمشترکہ ہے ۔گنگاجمنی مزاج ہی ہمارے اس پروگرام کی کامیابی کاضامن ہے ۔پیرکوجشن کاآخری دن ہے،مجھے لگتاہے کہ آخری روزسامعین اورزیادہ ہوں گے اورآخری روزبھی اچھے پروگرام منعقدہوں گے ۔
محفل قوالی کے تحت دانش حسین وہمنوا(بدایوں)نے بہترین اور منتخب قوالیاںپیش کیں جنھیں سن کرسامعین خوب محظوظ ہوئے۔محفل قوالی کے بعدمحفل غزل کاانعقاکیاگیا جسمیںکمال خان (لکھنؤ)نے اپنے فن سے چارچاندلگادیے۔مشہورومقبول غزلوں کوپیش کرکے سامعین بالخصوص نوجوانوں کاکمال خان نے دل جیت لیا ۔اس کے بعد انڈین اوپیرافیوژن پیش کیاکابکی کھنہ نے ۔کابکی کھنہ گزشتہ دوتین برسوں سے جشن وراثت اردومیں اپنافن پیش کررہی ہیں اورسامعین کی خوب داد وصول کرتی ہیں ۔دہلی کی صوفی گلوکارہ کابکی کھنہ نے صوفی موسیقی کے ساتھ نوجوانوں کابھی خاص خیال رکھا۔انڈین اوپیرافیوژن کے بعدمزاحیہ ڈرامااکبردی گریٹ نہیں رہے پیش کیاگیا،جس کے ڈائرکٹریشراج ملک تھے ۔ڈرامے میں معاصرسیاست پرسخت ترین تنقیدیں کی گئیں۔اکبردی گریٹ کے عہد کی جمہوریت اورموجودہ جمہوریت کاموازنہ بھی کیا گیا ۔میتری آرٹس اینڈکلچرسوسائٹی (دہلی)کی اس پیش کش میں تھیٹرکے معروف اداکاروں نے شرکت کی ۔
ڈرامے کے بعدشام غزل میں منجری(ممبئی) نے غزلیں پیش کیں۔جشن وراثت اردوکے پانچویں روزکاآخری پروگرام شلپاراؤ(ممبئی)نے پیش کیا ۔صوفی محفل میں اخیرتک سامعین نے شرکت کی اورفن کارہ کودادسے نوازا۔جشن کے چوتھے روز بھی دہلی کے معززین کے علاوہ دہلی کی جامعات کے اساتذہ ،طلباوطالبات اوراردواکادمی کے گورننگ کونسل کے اراکین فریدالحق وارثی ،ڈاکٹروسیم راشد،فرحان بیگ وغیرہ نے خصوصی طورپرشرکت کی ۔جشن وراثت اردوکے چوتھے روز کے فن کاروں کااستقبال اردواکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسرشہپررسول ،اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمداوراے اوآرکے اگروال نے گلدستے پیش کرکے کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram