بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن برائے خواتین (INHRCCW) کی پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس

نئی دہلی: بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن برائے خواتین (INHRCCW) کی پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس ہوئی، جس کا مقصد خواتین کی فلاح و بہبود کےلیے کام کرناہے۔ اس وقت جو حالات پوری دنیا میںہیں، اور جس طرح خواتین کا استحصال کیا جارہا ہے، جنسی تشدد کے واقعات بڑھتے چلے جارہے ہیں، چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنایاجارہا ہے، بڑے پیمانے پر فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں، اور وہاں پر کم سن لڑکیوں کو اغوا کر کے بیچا جارہا ہے، اور ان سے جبراً جسم فروشی کرائی جارہی ہے۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے جناب فرحان حسینی ،نیشنل صدر( INHRCCW)(کولکاتہ) جو کہ تقریباً دس سال سے سماجی فلاح وبہبود کے لیے کام کررہے ہیں۔ اب انہوں نے اس آرگنائزیشن کے تحت کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو صرف او رصرف خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اور ان کی بہتری کے لیے کام کرے گا۔ جناب فرحان حسینی خواتین کو ان کا اصل مقام دلانے کے ساتھ ساتھ مختلف یتیم خانوں ، اولڈ ایج ہوم، سیلاب زدگان، جھگی جھونپڑیوں میں رہ رہی خواتین کے لیے برابر کوشاں ہیں۔ وہ ’پنکھ‘فائونڈیشن کے چیئرمین بھی ہیں، اور صحیح معنوں میں بنگال کے نوجوان لیڈر اور سماجی کارکن ہیں جو بے غرض اور بے لوث کام کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کرنے کا ان کا مقصد حال ہی میں تشکیل دی گئی دہلی کی ٹیم کو اسناد اور اپوائٹمنٹ لیٹر دینا تھا۔ دہلی سے محترمہ رینا بھارتیہ (چیئرمین مدر آرگینک)کو قومی نائب صدر اور ڈاکٹر وسیم راشد (چیف ایڈیٹر صدا ٹوڈے)کو دہلی اسٹیٹ صدر بنائے جانے پر انہوں نے کانفرنس میں اپوائٹمنٹ لیٹر دئے اس کے علاوہ محترمہ آبگینہ کو ضلع کمشنر سائوتھ دہلی، شروتی کوضلع کمشنرنارتھ دہلی اور نوشابہ کو ضلع کمشنرسینٹرل دہلی بنائے جانے پر اپوائٹمنٹ لیٹر دیے گئے۔ ساتھ ہی ہیمنت شرما کو قومی ترجمان بنائے جانے پر اپوائٹمنٹ لیٹر دیا گیا۔
پریس کانفرنس کا انعقاد دہلی ریاستی صدر ڈاکٹر وسیم راشد اور قومی نائب صدر محترمہ رینا بھارتیہ نے کیا تھا۔ ڈاکٹر وسیم راشد نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ادارے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہم شہروں میں نہیں بلکہ گائوں دیہاتوں میں اندر تک جاکر موبائل وین کے ذریعہ خواتین کی پریشانیوں کو سنیں گے اور ان کا تدارک کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہمارا ہیلپ لائن ۲۴؍گھنٹے کام کرے گا۔ ہم جیلوں سے رہا ہونے والی خواتین کی بازآبادکاری کاکام بھی کریں گے۔ ہماری آرگنائزیشن عورتوں کے استحصال ، ان کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد،اور دوسری جو بھی خواتین کی پریشانیاں ہیں، ان سب کاحل نکالنے کی کوشش کریں گے۔
محتررینا بھارتیہ نے کہا کہ ہم بیس ہزار کی ساڑی نہیں پہنیں گے، دو ہزار کی ساڑی پہن کر باقی پیسہ اپنی آرگنائزیشن میں لگائیں گے۔ کینسر سے نبرد آزما خواتین ، بچوں کے ذریعہ باہر نکال دینے والی مائوں ، شوہر کے ذریعہ ستائی جانے والی تمام خواتین ہماری ترجیحات میں شامل ہوں گی۔ مسٹر فرحان حسینی نے بھی آرگنائزیشن کے اغراض و مقاصد کے ساتھ ساتھ وہ تمام اہم کام کی پوری تفصیلات پریس کے سامنے بیان کیں۔ مسٹر حسینی نے کہا کہ نہ صرف کولکاتہ ، دہلی بلکہ یوپی اور بہار میں بھی کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں،اس کے علاوہ نہ صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہماری چار کوآرڈینیٹنگ ممالک ہیں، جن میں دو آسٹریلیا، ایک جرمنی اور ایک دبئی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی لکھنؤ اور بہار میں بھی اسی طرح کی پریس کانفرنس کرکے تفصیلات کااعلان کیا جائے گا، اور اس کے بعد قومی سطح پر تمام کام کیے جائیں گے۔ قومی ترجمان ہیمنت شرما نے تمام پریس کے نمائندوں کو تسلی بخش جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اس مسٹر فرحان حسینی، محترمہ رینا بھارتیہ اور ڈاکٹر وسیم راشد نے میڈیا کے تمام نمائندوں کو تسلی بخش جوابات بھی دئے اور پوری طرح سے یہ احساس کرایاکہ یہ صرف نام کی آرگنائزیشن نہیں ہوگی ، بلکہ یہ حقیقت میں کام کرے گی۔
کانفرنس میں پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور نیوز پورٹلس کے اڈیٹرز اور رپورٹرز بڑی تعداد میں موجو د تھے۔ اور ساتھ ہی محترمہ ترشلا کوٹھاری، ریاستی صدر مغربی بنگال نے خصوصی طور پر اس پریس کانفرنس میں شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram