ٹی این سیشن کا انتقال۔سیشن‘ نے منصفانہ انتخابات کونئی سمت دی

جاویدجمال الدین
ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کے انتقال کی خبرگزشتہ اتوارکی شب سوشل میڈیا سے موصول ہونے کے بعداس کی تصدیق کرنا ضروری تھا ،کیونکہ چند سال قبل پہلے بھی ان کی موت کی خبر وائرل کردی گئی تھی ،خیر یہ ایک صحیح خبر تھی ،اور سن کر احساس ہوا کہ ملک نے عظیم شخصیت کو کھو دیا ہے ،دراصل ٹی این سیشن کا نام جب ہندوستانی انتخابی تاریخ میں لیاجائے آئے گا،تب ان کے بارے میں یہی ایک سطرکہی کافی ہوگی کہ ”سیشن نے ملک میں آزادانہ ،منصفانہ انتخابات کے ساتھ ساتھ ، انتخابی اصلاحات کو نئی سمت دی تھی اور ایک ایسے انتخابی نظام کوفروغ دیا کہ بدعنوان سیاست دانوں اور ان کے دست راست کی کارستانیوں کا مکمل خاتمہ ہوگیا ۔“
ٹی این سیشن نے چیف الیکشن کمشنر کی ان دنوں باگ ڈورسنبھالی جب انتخابات ایک یا دوہی تاریخوں میں منعقد کیے جاتے ،پولیس اور سلامتی ایجنسیوں کی کم تعداد اور صحیح منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب انتخابی تشدد ،پولیس کی فائرنگ اور ہجومی تشدد اوربیلٹ باکس چھیننے اور بوتھوں پر قبضے کے معاملات ایک عام سی بات تھی ،شمالی ہند میں بڑی تعداد میں لوگ جانیں گنوانا بیٹھتے تھے۔سیشن کے عہدہ سنبھالنے کے چند سال میں کام کاج کا طورطریقہ ہی بدل گیا اوران کا نام تاریخ کے صفحوں کی زینت بن گیا ہے۔منصوبہ بندی اور ایک دودن میں نہیں بلکہ نظم کے ساتھ اب انتخابات کا عمل مکمل ہونے میں مہینہ بھر لگ جاتا ہے اور تشدد کے معمولی واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ نہیں پیش آتا ہے۔
ہندوستان کے دسویں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ٹی این سیشن نے ان دنوں سنبھالا جب میںبھی صحافت کی دنیا میں داخلہ لے چکا تھا،ویسے تو عام انتخابات اور اسمبلی الیکشن کے نتائج ظاہرکرنے کے لیے دوردرشن کے کوریج اورریڈیوپر نتائج کی خبریں سننے کا شوق تو 1977سے پیدا ہوچکا تھا ،جب کئی کئی دنوں تک رات رات بھر فیچر فلمیں دکھائی جاتی تھیں اور ان کے درمیان فلم روک کر تازہ ترین خبریں ناظرین کے سامنے پیش کی جاتی تھیں۔
لیکن بحیثیت ایک صحافی پہلی بارباضابطہ طورپرروزنامہ انقلاب میں1991کے عام انتخابا ت کوریج کرنے کا موقعہ ملا اور تب تک انتخابی جلسوںاور جلوسوںکا وہی حال تھا ،معروف اور مشہوررہنماﺅں کے انتخابی جلسے رات دیرگئے یا نصف شب کے بعد ہی پروان چڑھتے تھے اور ان کے چاہنے والوں اور عوام کو گھنٹوں ان کا انتظار کرنا پڑتاتھا،1991میں سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کے قتل سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ممبئی کے ایک انتخابی جلسہ میں صبح سویرے 4بجے پہنچے تھے،یہی حال پہلے کے دور میں رہا ،شورشرابے اور چیخ وپکار سے عام آدمی بے حال نظرآتا تھا ،حالانکہ سیشن سی ای سی بن چکے تھے ،لیکن یہ عام انتخابات میں وہ کچھ نہیں کرپائے ،مگر انہوںنے تمام قوانین ،اصول وضوابط اور زاویوں کا بغورجائزہ لے کر پھر ایسا چکرویوگھمایا کہ ہندوستان کی تاریخ اس تبدیلی کو بھلانہیں پائے گی۔
ملک کے انتخابی نظم ونسق کو مکمل طورپر ضابطہ میں لانے ،یعنی عام زبان میں پٹری پرلانا کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔ ان کی کوششوں سے انتخابی عمل کے دوران بیلٹ باکس لوٹنے ،اور بوتھ پرقبضہ کرنے کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئیں۔انہوںنے پولنگ کو پرُامن طریقے سے منعقد کروانے کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی قانون اور ضوابط کی کتابوں میں تحریر تمام قوانین کا نفاذ کردیا ،اور پُرامن عام انتخابات منعقد کرانے کا سہرا ٹی این سیشن کے سرہی جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے ہی ذکر کیا ہے کہ اس سے قبل انتخابات میں تشدد عام بات تھی، 1990 سے1996 کے دوران ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر رہے ٹی این سیشن کوانتخابی اصلاحات اور بہترین سرکاری خدمات انجام دیں اور انہیں اعزاز ت سے بھی نوازاگیا۔
سیشن 15 دسمبر 1932 کو کیرالا کے پر کڑپہ ضلع کے تھرو ریلی میں پیدا ہوئے تھے ،لیکن مدراس کرسچین کالج سے گریجویشن کی ڈگری لی اور پھر انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس(آئی اے ایس) کا امتحان پاس کرنے کے بعد امریکہ کی مشہور ہارورڈ یونیورسٹی میں پبلک ایڈمنسٹریشن کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔ان تعلیمی صلاحیوں اوردیگر چیزوں کا انہوں نے بھرپوراستعمال کرتے ہوئے بطور الیکشن کمشنر جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ،اس کے لیے یہ کہہ سکتے ہیںکہ انتخابی نظام میں اصلاح اور جمہوریت کو مستحکم کرنے میں ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔انہوںنے الیکشن کے نظام میں بہتری لا کر جمہوریت کو مضبوط ومستحکم بنانے کے لیے اہم رول اداکیا۔
بقول حالیہ الیکشن کمیشن ،آنجہانی چیف الیکشن کمشنر نے جوکچھ کیا ،اس کے اثرات سے لوگوں کو ووٹ کی طاقت کا احساس ہوا،جبکہ ووٹنگ کے عمل میں دولت کے بیجا استعمال اور طاقت کے غیراخلاقی اور غیرقانونی طریقوں سے پیدا اثرات کو روکنے کا عمل بھی ہوا۔ انہوں نے جامع وٹھوس اصلاحات کے لیے حکمت عملی تیار کی اورانہیں بھرپورعوامی تعاون بھی ملا تھا۔
ٹی این سیشن سے قبل ایک ایسا وقت تھا، جب الیکشن کمیشن صرف انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیتا اور پھر اس کا عمل دخل کہیں نظرنہیں آتا تھا ،لیکن ٹی این سیشن نے ایک خوداختیار ادارہ کے سربراہ کی حیثیت سے ایسے فیصلہ لیے اور انہیں نافذ کیا کہ ملک کوالیکشن کمیشن کی اصل طاقت کا پتہ چل سکا ۔کیونکہ انہوںنے ایک ایک قانون کو نافذ کیا بلکہ اس پر عمل بھی کروایا ۔ ملک کی جمہوریت کو ہمیشہ کی کوششوں پر نازل رہےگا ،کیونکہ ان کے اقدامات نے ہمیشہ جمہوریت کا پرچم بلند رکھا ،غالباًٰ ان کے زمانہ میں الیکشن کمیشن نے ووٹر شناختی کارڈ کی شروعات کر کے ہندوستان کے انتخابی نظام کو شفاف بنانے میں بھی اپنا اہم کردار نبھایاتھا اور اس کی بدولت بوگس رائے دہندگان کو انتخابی عمل سے دورکردیا گیا۔بلکہ عوام میں اور نوجوانوں میں اس کی بنیاد پر جوش نہیں بلکہ انتخابی عمل میں شامل ہونے کا جذبہ بھی پیدا ہوا ۔
ٹی این سیشن کے الیکشن کمیشن کا چیف الیکشن کمشنر بننے سے قبل کمیشن کو حکومت کے تحت یعنی مہرہ سمجھاجاتا تھا ،لیکن ان کے فیصلوں اور اقدامات نے اس کی حیثیت سے بدل کررکھ دی اور سبھی کو اس بات کا علم ہوا کے کمیشن درحقیقت ایک آزادخودمختیار دستوری ادارہ ہوتا ہے اور سیشن نے کمیشن کو ایسا ادارہ بنابھی دیا۔اسے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے حاصل وسیع اختیارات کا استعمال بھی کیا۔ انتخابی بدعنوانیوں کے خلاف ان کے دورمیں کیے جانے والے فیصلوں نے سیاست دانوں کی راتوںکی نیند یںحرام کردیں ۔اگر اسے ”انتخابی جمہوریت کا ایک سنہری دور“ کہا جائے تو کوئی عار نہیں ہوگا۔
حالانکہ یہ الگ معاملہ ہے کہ بعد میں انہوںنے 1997میں صدارتی الیکشن اور پھرگاندھی نگر لوک سبھا حلقہ سے بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی مدمقابل الیکشن لڑے اور ناکام رہے ۔مگر ان کی جو پہچان بطورہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر بنی ،اس نے ان کوشہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیاتھا اور ہندوستان میں انتخابات پُرامن اور منصفانہ طورپرہونے لگے بلکہ ای وی ایم کی شکایتوں کے درمیان اب بھی ہورہے ہیں ۔تشدد ،بوتھ پر قبضہ ،اور بیلٹ باکس کی لوٹ کے واقعات قصہ پارینہ بن چکے ہیں ۔
سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بالکل بجا کہاہے کہ ”وہ صحیح معنوں میں عظیم تھے،جنہوںنے ملک کے انتخابی نظام کو ایک نئی سمت دی جوکہ انصاف اور اصلاح سے وابستہ ہے۔“
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram