تلنگانہ میں جیت کے بعد ٹی آر ایس کا حوصلہ بلند

تلنگانہ راشٹرسمیتی کے کارگزار صدر کے تارک راما رائو نے کہا، ہماری پارٹی مرکز میں اہم رول ادا کرے گی

حیدرآباد:حالیہ دنوں میں ہوئے تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں ٹی آر ایس کی زبردست جیت سے خوشی میں چور تلنگانہ راشٹرسمیتی کے کارگزار صدر و سرسلہ کے رکن اسمبلی کے تارک رامارائو نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی ٹی آرایس ریاست کی لوک سبھا کی ۱۷؍میں سے ۱۶؍نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور یقینی طورپر ٹی آر ایس مرکز میں اہم رول اداکرے گی۔ انہوں نے کہاکہ علاقائی جماعتیں بعض ریاستوں میں مستحکم ہیں اور ان کے والد و ٹی آرایس سربراہ کے چندر شیکھر رائو منصوبہ کو حتمی شکل دے رہے ہیں تاکہ وفاقی محاذ قائم کیاجاسکے جس کے ذریعہ ملک کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں ریاست کی ۱۷؍نشستوں کے منجملہ ۱۶؍پر کامیابی ہی ان کی پارٹی کا نشانہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ملک کے وزیراعظم کا فیصلہ کرنے کی طاقت تلنگانہ سے آئے گی۔ میڈیا کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور ناقابل فراموش کامیابی ان کی پارٹی کی تلنگانہ میں رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی آرایس پارٹی کو ان انتخابات میں ۹۸؍لاکھ ووٹ حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ۱۰۳؍حلقوں میں ضمانت ضبط ہوگئی۔حالانکہ بی جے پی کے لیے تلنگانہ میں مودی اور امت شاہ نے بھی انتخابی مہم چلائی تھی۔ کے ٹی راما رائو نے ریاست میں سرکاری اسکیمات کی کامیابی پر زور دیا اور کہا کہ اگر اس طرح کی اسکیمات مرکز میں متعارف کی جاتی ہیں تو عوام کا فائدہ ہوگا اور اس سے ملک میں معیاری تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو بھی حکومت میں رول دینا چاہئے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ سہ ماہی میں تلنگانہ کی آمدنی میں ۲۹ء۴؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سرمایہ کاروں کو راغب کرے گی کیونکہ یہاں پر سیاسی استحکام ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے متحد ہوکر ان کی پارٹی کوشکست دینے کی کافی کوشش کی۔ایک طرف متحد اپوزیشن تھی تو دوسری طرف ٹی آرایس تھی تاہم رائے دہندوں نے رائے عامہ ٹی آرایس کے حق میں دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest