’دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘

ہندوستانی اداکار وویک اوبرائے نے معروف اداکار اور سیاست دان کمل حسن کی بات پر کہا کہ’ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ایک ہندو تھا‘ جواب میں کہا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
ذرائع کے مطابق معروف اداکار اور سیاسی جماعت ’مکال نیدھی مایئم‘ کے سربراہ کمل حسن نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں کہا تھا کہہندوستان کی آزادی کے بعد یہاں سب سے بڑی دہشت گردی کی واردات ایک ہندو ’نتھو رام گوڈ‘ نامی شخص نے مہاتما گاندھی کو قتل کرکے کی تھی۔ یہ ہندوستان کا پہلا دہشت گرد تھا جو ایک ہندو تھا۔ مہاتما گاندھی کا قتل کیا تو کیا ساری ہندو کمیونٹی دہشت گرد ہوگئی؟کمل حسن کے اس خطاب کے بعد سے اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، بھارتی اداکاروویک اوبرائے نے بھی کمل ہاسن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ یہ کہیں کہ نتھو رام گوڈ ایک دہشت گرد تھا تو یہ درست ہے کیونکہ میرے لیے مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے شخص کے لیے بالکل ہمدردی نہیں ہے، لیکن یہ کیوں کہا کہ وہ ایک ہندو تھا؟‘اداکار ویوک اوبرائے جو کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زندگی پر بننے والی فلم میں مودی کا کردار ادا کررہے ہیں، نے مزید کہا کہ کمل ہاسن ایسی بات کرکے ’ہندو فوبیا‘ کو کیوں پھیلا رہے ہیں ؟ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پروویک اوبرائے نے کملحسنکے خطاب کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’آپ ایک بہترین آرٹسٹ ہیں اور جیسے آرٹ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ویسے ہی دہشت گردی کا بھی کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ آپ کہتے نتھو رام گوڈ دہشت گرد تھا، یہ کیوں واضح کیا کہ وہ ہندو تھا؟
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں مزید کہا کہ ’آپ نے ایسا اس لیے کہا کیوں کہ آپ ایک مسلمان اکثریت علاقے میں رہتے ہیں اور وہاں سے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest