دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ ممکن نہیں:سشما

پاکستان کے وزیراعظم عمران اتنے ہی بلند حوصلے والے ہیں تو مسعود اظہرکو ہمیں سونپ دیں

نئی دہلی:وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان جب تک اپنی زمین پر قائم دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں کرتا ، تب تک اس سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اگر اتنے ہی بلند حوصلے والے ہیں اور بات چیت کے لیے تیار ہیں تو مسعود اظہر کو ہمیں سونپ دیں۔ تفصیلات کے مطابق کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو ہندوستان کو سونپ كر وزیر اعظم عمران خان اپنی سیاسی سوجھ بوجھ ثابت کر سکتے ہیں۔مسز سوراج نے کہا’’اگر (مسٹر) عمران خان (پاکستانی وزیر اعظم) اتنے عالمی ہمت ہیں تو دے دیں مسعود اظہر کو ہمیں‘‘۔مسز سوراج نے بدھ کو یہاں ایک پروگرام میں دہشت گردی پر پاکستان کی دوہرائی گئی بات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ پلوامہ کے بعد بھی ایسے دوہرے کردار کی کئی مثالیں ہیں۔ ایک زاویہ پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جیش محمد سربراہ مسعود اظہر پاکستان میں ہے اور دوسری طرف، پاک فوج نے کہا کہ جیش محمد کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے۔پاکستان کے خلاف 27 فروری کے ایئر اسٹرائیک پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا’’جیش محمد کی جانب سے پاکستانی فوج نے ہم پر حملہ کیوں کیا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف جیش محمد کو اپنی زمین پر سرگرمیاں چلانے کی اجازت دیتا ہے بلکہ اسے رقومات بھی دستیاب کرتا ہے۔ اور اگر کوئی ملک جوابی کارروائی کرتا ہے، تو پاکستان اس دہشت گرد تنظیم کی جانب سے اس پر حملہ کرتا ہے۔انہوں نے پوچھا’’آپ کو حملہ کیوں کرنا پڑا، کیا آپ نے مسعود اظہر کی جانب سے انتقام نہیں لیا؟”وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تک پڑوسی ملک اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، ہندوستان ،پاکستان کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے حکومت ہند کی پالیسی کو بالکل واضح بتاتے ہوئے کہا’’ہم دہشت گردی پر بات نہیں کرنا چاہتے ہیں، ہم اس پر کارروائی چاہتے ہیں‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest