9/11:امریکہ پر دہشت گردانہ حملہ ،ایک صیغہ راز

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جاوید جمال الدین

امریکہ کے لیے تقریباً18سال قبل 11 ستمبر 2001 کا سورج قیامت صغریٰ بن کرطلوع ہوا تھا ،جب خلیج اور جنوبی ایشیاءکے چند ممالک کے مبینہ دہشت گردوں نے امریکی ایئرلائنس کے چار طیاروں کو ہائی جیک کرلیا اوران میں سے دو طیارے نیویارک میں چچا سام کی شان سمجھے جانے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹرکی جڑواں عمارتوں سے ایک کے بعد دیگر ٹکڑا دیے گئے اور دنیا کی یہ بلند ترین عمارتیںلمحہ بھر بعدہی زمین بوس ہو گئیں، اس حملے میں تین ہزار امریکی اور غیر ملکی باشندے مارے گئے اور چھ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ دس ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا تھا۔ اسی روز دوسرے دو طیارے بھی ہائی جیک کیے گئے جن میں سے ایک پینٹاگون کے احاطہ سے ٹکرایا گیا اور دوسرا جنگل میں گر کر تباہ ہوا تھا۔ان حملوں کو عرب اور افغانستان میںسرگرم تنظیموں سے جوڑا گیا ،لیکن9/11 کوامریکہ پرہوا دہشت گردانہ حملہ آج بھی ایک صیغہ رازبنا ہوا ہے ۔حکومت کی تھیوری پر خود امریکیوں کا ایک طبقہ اب بھی یقین نہیں کرتا ہے اور اسے امریکی خفیہ ایجنیسیوں کی کارستانی قراردیتا ہے ،جنہوں نے خلیجی ممالک کی تیل کی دولت پر قابض ہونے کے لیے القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کامبینہ طورپرہوا کھڑا کیا ۔آگے بڑھنے سے پہلے میں بتاتا چلوں کہ چندسال قبل دورہ امریکہ کے دوران وہاں کی شاہراہیں اور ان پر دوڑی تیزرفتار موٹرگاڑیاں امریکہ اور یورپ کے منصوبوںکی قلعی کھول دیتی ہے کہ ہزاروںمیل دورخلیج اور اس کے اردگرد افراتفری پھیلانے کا سامراجی طاقتوںکا مقصد کیا ہے ،کیونکہ مسلمان ممالک کا قصورصرف یہ ہے کہ انہیں قدرت نے تیل جیسی بیش قیمتی دولت سے نوازا ہے اور وہ امریکہ اور یورپ کی کمزوری ہے۔بقول ایک ہندوستانی فلم ساز یہی وجہ ہے کہ ان علاقوںمیں القاعدہ اورپھر داعش جیسی تنظیموں کو کھڑاکرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔اور پھروقت ضرورت انہیں خود ہی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔
خیر ذکر 9/11 کو امریکہ پر ہوئے حملے کا ہورہا تھا، امریکہ میں11ستمبر 2001کے دہشت گردانہ حملوں نے امریکہ اور یورپ کے ساتھ ساتھ دنیا کاسیاسی و سماجی منظر نامہ بھی تبدیل کرکے رکھ دیا۔1991سے مشرق وسطیٰ میں قدم ڈیڑہ ڈالے ہوئے امریکہ اور اس کے ہمنوا اتحادیوں نے القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو اس کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے افغانستان کے سربراہ ملا عمر سے اسامہ کو سونپنے کا مطالبہ کردیا اور ان کے مطالبہ کو مسترد کیے جانے کے بعدعراق پر 1990کے عشرہ میں”نیو ورلڈ آرڈر“کا اعلان کرتے ہوئے کویت کو اس کے چنگل سے چھڑانے کے لیے حملہ کرنے والے سنیئر بش کے صاحبزادہ جارج ڈبلیو بش نے افغانستان پر بھی اتحادیوں کے ساتھ یلغار کردی ۔اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی ،ایسے ایسے بموں کا استعمال ،تجربے کے طورپر کیاگیا ،جس کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا ہے ،لیکن طالبان کی طاقت ان علاقوںمیں امریکہ کی موجودگی کے باوجودبڑھتی چلی گئی اور امریکہ کو ان سے گفتگو کے لیے ایک میز پر بیٹھنا پڑا ہے،بات چیت ضرورناکام ہوچکی ہے ،لیکن امریکہ کے رویہ میں نرمی پیدا ہونا ایک خوش آئند بات ہے،جوکہ اس ناکامی کے بعد سخت ہوجائے گی،جیسا ٹرمپ کے بیان سے ثابت ہورہا ہے۔
11ستمبرکوہوئے حملوں کی 18 ویں برسی منائی گئی اور مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا ،جن مرنے والوں کی یادگاروں پر پھول چڑھائے گئے ۔ اس موقع پر وائٹ ہاو ¿س کی تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انداز جھنجھلایا ہوا تھا ،کیونکہ نہ چاہتے ہوئے بھی امریکیوںکوطالبان کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا پڑا تھااور وہ گفتگونا کام چکی تھی ،یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے طالبان کو بدترین طریقے سے نشانہ بنانےکی بات کہی کہ جس کی مثال نہیں ملے گی اوران کا انجام عبرت ناک ہوگا۔کیونکہ طالبان نے افغانستان میںحالیہ دنوں میں امریکی فورسز کو شدید ضرب پہنچائی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہا تو امریکی صدرکا وضاحت کیے بغیر کہنا تھاکہ اس کے لئے کچھ طاقتیں افغانستان میں طالبان کی مددگار ہیں اور طالبان کو بخشا نہیں جائے گا۔واضح رہے کہ ایک حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنے کے بعد حکم دیا کہ طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کیے جائیں۔مذکورہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم القاعدہ کی جانب سے امریکہ ،یورپ ،اسرائیل اور روس کے مفادات پر حملے کیے جانے کے بیانات جاری کیے جارہے ہیں۔
آخر ان ان تنظیموں کا پالن ہارخود امریکہ ہے اور ضرورت نہ ہونے پر انہیں تباہ کرنے کا دعویٰ خود امریکہ اور اس کے چند اتحادی کرتے رہے ہیں۔کیونکہ دنیا اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں گیارہ ستمبر 2001 ایک سیاہ ترین دن ہے ،جس نے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ کو دہلا کر رکھ دیا تھا،اور ان کی وجہ سے دنیا بھر میں سیاسی و سماجی منظر نامہ تبدیل ہوکر رہ گیا۔حالانکہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان کے حکمرانوں سے مطالبہ کیاتھاکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کردیا جوکہ ان حملوں کا سرغنہ قراردیاگیا تھا۔،امریکہ نے القاعدہ اور طالبان کو اس دہشت گردی کے لیے ضرور ذمہ دار قراردیا ہے ،لیکن حقیقت یہ بھی ہے ، اس کے باوجود اب تک یہ ثابت نہیں ہوسکا ہے کہ امریکہ پر کن عناصر نے حملے اور اس کے مفادات کو دنیا بھر میں نقصان پہنچا یا اور اس سب کے لیے ذمہ دار کون لوگ تھے ،صرف امریکی سامراج کے ذریعہ دیئے گئے ،بیانات اوردعوؤں کو یورپ اور دیگر ہمنواممالک نے تسلیم کرلیا اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور افغانستان میں جنگ وجدل کا ایسا کھیل کھیلا گیا کہ آج تقریباً دودہائی گزرجانے کے بعد بھی وہ افغانستان میں موجودہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں قیام کی تین دہائیاں گزرچکی ہیں۔اس کے باجودامن نہیں قائم کیا جاسکا ہے اورامریکہ کا بات چیت کی میز پرآنا،اس کی شرمناک شکست سے تعبیر کہا جاسکتا ہے۔
آخر طالبان کی پیداوار کیسے ہوئی اور اس کا سہراکس کے سربندھتا ہے ،اگر ہم چار عشرے کا جائزہ لیں تو اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ 1970کی دہائی میں روس نے افغانستان میں فوج بھیج دی تھی جوکہ سرد جنگ کا زمانہ تھا اور صدرداؤد کا تختہ پلٹ کر نجیب اللہ کو تخت نشین کردیا گیا تھا ،تب امریکہ نے پاکستان میں پناہ لیے ہوئے لاکھوںافغان مہاجرین کو روس کی فوج سے لڑنے کی تربیت دی اور انہیں مجاہدین کا نام دے دیا ،یہیں سے اے کے 47کا عروج ہوا اور گن کلچرنے سراٹھایا ،پاکستانی صدرجنرل ضیاءالحق کو اپنی کرسی بچانی تھی ،اس لیے انہوںنے امریکہ کا بھرپورساتھ دیا جوکہ پاکستان کی تباہی کا سامان بن گیا۔ان مجاہدین کا سربراہ سعودی عرب کے شہری اور صنعتی گھرانے کے چشم وچراغ اسامہ بن لا دن کو بنایاگیا جوکہ اس عرصہ میں امریکہ کا لاڈلابن چکا تھااور اسی امریکہ نے افغانستان کے صدر نجیب اللہ کا تخت پلٹ کرملا عمر کی قیادت میں طالبان کو تیار کرکے افغانستان بھیجا تھا۔امریکہ کی پشت پناہی میں طالبان نے افغانستان میں اقتدار کی باگ ڈورسنبھال لی ،اس طرح روس کی حامی نجیب حکومت ختم ہو گئی اور انہیں چوراہے پر پھانسی پرلٹکادیاگیا۔جب طالبان نے امریکہ سے رُخ موڑ لیااور اس کی کٹھ پتلی بننے سے انکارکردیا ، تب روس کے خلاف لڑنے والے مجاہدین ، دہشت گرد قراردے دیئے گئے ۔امریکہ نے ان دودہائیوں کے دوران صدام حسین،کرنل معمرقذافی ،حسنیٰ مبارک سمیت کئی مسلم ملکوں کے سربراہوں کو اقتدار سے بے دخل کردیا گیا،شام میں بشرالاسد نے اس کی بات تسلیم نہیںکی تو ملک میں خانہ جنگی کرادی گئی ہے اور اب تک روس اور اسرائیل بھی کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے ہیں اور شام کے مختلف علاقوںمیں ظالمانہ بمباری کررہتے ہیں،جتنے ممالک امریکہ کی مسلم ممالک اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوںکی مخالفت کی ان کے سربراہوں کو سازش کے تحت اقتدار سے بے دخل کردیا گیا ،یا موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ صدر صدام حسین کے ساتھ جوکچھ کیا گیا اس کا پہلے ذکرکیا جاچکا ہے ۔پہلے ان پر الزام لگایا گیا کیونکہ ملک میں جوہری توانائی کا پلانٹ ہے اس کے ذریعے صدام حسین کو نشانہ بنایا گیا تھا وہ ختم کرنا لازمی ہے، اسکے بعدکیمیکل اسلحہ کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد امریکہ نے اپنی نگرانی میں حکومت قائم کی ،دراصل جن سربراہوںکا رویہ امریکہ کی جی حضوری کا نہیں تھا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت رکھتے تھے ،انہیں نیست و نابود کر دیا گیا۔مصر میں مرسی کو اقتدار سے ہٹایاگیا حالانکہ وہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے سربراہ تھے اور اسرائیل نواز جنرل کو اقتدار سونپ دیا گیا ۔مرسی کا حال میں عدالت میں ان کی موت واقع ہوگئی۔
افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے باوجودحالات بہتر نہ ہوئے اور طالبان کی حیثیت انتہائی طاقتورہوگئی ہے اور امریکہ کووہاں دال نہیں گلتی نظرآئی تب امریکہ نے مختلف ذرائع سے طالبان کی قیادت کو ثالثی کی میز پر آنے کی پیش کش کی ،لیکن دونوں کی سخت شرائط اورکچھ کچھ طالبان کے اڑیل رویہ نے بھی امن کی اس کوشش کو ناکام بنادیا،البتہ یہ خوش آئند بات ہے کہ امریکہ کو اس کا احساس ہوچکاہے کہ طالبان کی حیثیت اور طاقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اب جبکہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گفت وشنید ناکام ہوچکی ہے ،تو امریکہ دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور انہیں عبر ت ناک سزا کی باتیں کررہا ہے بلکہ ایک فوجی کی موت کے بعد بھیانک حملے بھی کیے گئے ہیں، امریکہ کے لیے افغانستان میں برقراررہنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا وہ سمجھ رہا ہے،کیونکہ ایک عرصے سے پابندی عائد ہونے کے باوجودطالبان آج بھی کافی طاقتورہیں، امریکہ کے لیے یہی کہنا لازمی ہوگا کی اسے چاہیے کہ افغانستان ہی نہیں بلکہ دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کر کے ایسی منصوبہ بندی کرے اور ایسے کام کیے جائیں،جن کی وجہ سے دنیا بھر میںامن قائم ہوسکے،لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کی پیشانی پر ہمیشہ بل نظرآرہے اورزبان قینچی سے تیز چلتی ہے ، اس عرصہ میں ان کا اگلا نشانہ ایران بن چکا ہے ،کیونکہ انہیں سعودی عرب اور اسرائیل کی حفاظت کرنا ہے۔سعودی اور دیگر عرب ممالک کو ایران کے نام سے ڈرا کرامریکہ اپنے اسلحہ فروخت کررہاہے،یہی دوسرے یوروپی ممالک کررہے ہیں۔اس لیے وہ ایرانی حکمرانوں کو آنکھیں دکھانے سے باز نہیں آرہا ہے ،یعنی امریکہ کسی بھی طرح چین سے بیٹھنے والا نہیں ہے۔لیکن جوحالات پیداہورہے ہیں ،ان سے محسوس ہوتا ہے کہ ایران ،امریکہ کے لیے ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگا۔

javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram