دہشت گردی کی أگ میں سلگتا ہندوستان

کیا یہ وہی ہندوستان ہے جس پر صدیوں مسلمانوں کا تسلط رہا ؟ کیا یہ وہی ہندوستان ہے جسے غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے شہادت کا جام پی لیا ، کیا یہ وہی ہندوستان ہے جس جمہوری ہندوستان کا خواب پنڈت جواہر لال نہرو نے دیکھا تھا؟ ووٹوں کی فصل کاٹنے کے چکر میں سیاست دانوں نے جس معاشرے کی تشکیل کر دی ہے اس میں قدم قدم پر جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے، ہر روز انسانیت شرمسار ہو رہی ہے ،دن بہ دن ہم ذلیل اور خوار ہو رہے ہیں ۔ہندوستان کی گنگا جمنی تہزیب میں نفرت کے وہ بیج بو دیئے گئے ہیں جن سے دہشت گردی کی فصل لہلہا رہی ہے تعصب،فرقہ واریت اور مزہب کی بنیاد پر ہجومی تشدد اور وہشیانہ قتل کی وارداتیں سرِ عام انجام دی جا رہی ہیں ۔کبھی گائےکی حفاظت کے نام پر ،کبھی گائے کی چوری کے نام پر ،کبھی گوشت کھانے کے شک میں ،کبھی چوری کے شک میں ، ہجومی تشدد اور حیوانیت کی داستانیں عام ہو رہی ہیں ، ہر روز انسانیت کا خون ہو رہا ہے ،کہتے ہیں بھیڑ کی کوئی شکل نہیں ہوتی ان کا کوئی دین نہیں ہوتا کوئی مزہب نہیں ہوتا مگر یہ کیا مزہب کے نام پر ہی یہ وحشیانہ وارداتیں انجام دی جا رہی ہیں موب لنچنگ کی وارداتیں ہر روز بڑھتی جا رہی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بھیڑ کو اکساتا کون ہے ، کون شہ دیتا ہے ؟ اتنی ہمت ان میں کہاں سے آ رہی ہے کہ انسان کی جان جانور کی جان سے بھی سستی سمجھتے ہیں اور بنا کسی خوف و خطر کے انسانیت کا بے رحمی سے قتل کر دیتے ہیں ، جواب ہم سبھی کے علم میں ہے پھر کس بات کا خوف ہے جس نے ہمارے لبوں پر قلنچ لگا رکھے ہیں ،کیوں نکہ ہم جانتے ہیں قانون بھی انکا ہے اور عدالت بھی انکی ،حاکم بھی ان کا ہے اور محکوم بھی ان کا جرم بھی ان کا اور مجرم بھی ان کا ،ہماری لب کشائی کہیں ہمیں مہنگی نہ پڑ جائےیہی سوچ کر ہم خاموش رہتے ہیں ۔کیا ہم اتنے کمزور ہو گئے ہیں جو اپنی جان کا بدلہ نہیں لے سکتے ؟ کیا ہم اتنے لاچار ہیں جو اپنے اوپر ہوئےظلم کا جواب نہیں دے سکتے۔لیکن اگر قانون ہر ہاتھ کا کھلونا ہو جائےتو پولیس، عدالت ،انصاف، سب صرف اور صرف لفظ بن کر رہ جائیں گے محمد اخلاق سے لیکر اکبر خان تک چار سالوں میں موب لنچنگ کے 134 معاملے سامنے آ چکے ہیں ایک ویب سائڈ کے مطابق ان معاملوں میں اب تک 60 لوگوں کی جان جا چکی ہے ،ان میں مسلمانوں کے ساتھ دلتوں کے ساتھ ہوئےتشدد بھی شامل ہیں اگر صرف گائے کی حفاظت کے نام پر ہوئی دہشت گردی کی بات کریں سال 2014 میں ایسے تین معاملے آئے اور 11لوگ زخمی ہوئے2015 میں یہ گنتی بڑھ کر 15 ہو گئی ان 15 معاملوں میں 10 لوگوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا اور 48 لوگ زخمی ہوئے2016 میں گائےکی حفاظت کے نام پر دہشت گردی کی وارداتیں دوگنی ہو گئیں 24 ایسے معاملوں میں آٹھ لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی جبکہ 58 لوگوں کو پیٹ پیٹ کر بد حال کر دیا گیا ۔2017 میں گائےکی حفاظت کے نام دہشت گردی پھیلانے والے ایسے بے قابو ہوئےکہ معاملے بڑھ کر 37 ہو گئےجن میں 11افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے 158 لوگ زخمی ہوئے ،کل ملا کر صرف گائے کی حفاظت کے نام پر اب تک دہشت گردی اور ہجومی تشدد کے 85 معاملے سامنے آئے جن میں 34 افراد کی موت ہو گئی اور 289 افراد ادھمری حالت میں چھوڑ دیئے گئے لیکن یہ سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا 2018 میں بھی کئی موب لنچنگ کی وارداتیں انجام دی گئیں ۔اج سے 10 مہنے پہلے 20 اگست 2018 کو سنت پور کے انتظار احمد سمیت تین لوگوں کی پٹائی کی گئی ۔۔اس پٹائی کے بعد انتظار صاحب کی یاد داشت چلی گئی وہ بے ہوش رہنے لگے افسوس صد افسوس اس طویل علاج کے باوجود انکی جان نہیں بچائی جا سکی اور 25 جون 2019 کو وہ اس سرائےفانی سے رخصت ہو گئے ان کی موت ابھی ذہن سے اتری بھی نہیں تھی کہ جھارکھنڈ کے تبریز انصاری نام کے نوجوان کو محض چوری کے الزام میں بھیڑ نے وحشیانہ تشدد کیا اسے کھمبے سے باندھ کر جانوروں کی طرح پیٹا گیا جس کی شادی کو ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئےتھے، تبریز کی نئی نویلی دلہن اپنے شوہر کا۔انتظار کرتی رہی اور بھیڑ گھنٹوں اس پر تشدد کرتی رہی یہ سب قلم بند کرتے ہوئےذار ذار میری انکھوں سے اشک رواں ہیں ،تحریر مانوں تبریز کے خون کی روشنائی سے لکھی جا رہی ہے تبریز سے بار بار کہا جا رہا تھا بول ”جئےشری رام “ یہ کون سا مزہب جس نے انسان کو انسان سے حیوان بنا دیا ایک پل کو بھی انہیں پولس عدالت قانون کیوں نہیں یاد آیا ،کیوں نہیں احساس ہوا تبریز بھی ان ہی کی طرح انسان ہے اس جمہوری نظام میں لنچنگ انفرادیت اس قدر طاقت ور ہو چکی ہے کہ اسے کسی کی بھی جان لینے میں کوئی ڈر نہیں کوئی خوف نہیں ،اور ہو بھی کیوں نہ کوئی ان پر روک لگانے کو تیار ہے، نہ پولیس اس پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہے، بلکہ معلوم ہوتا پولیس ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے شرمائی لجائی دلہن کی طرح دہشت گرد ہجوم کے خوف سے ایک طرف تماش بین بنی کھڑی ہے مانو اگر اس نے ان انسان نماء وحشیوں کو روکنے کی کوشش کی تو یہ لوگ پولیس کو بھی مار ڈالیں گے یہ شر پسند طبقہ اپنی بیمار ذہنیت کو تسکین دینے کے لیے ایک بھوکے گدھ کی طرح معصوم اور بے قصور انسان پر ٹوٹتا ہے ۔یہ ہجوم موقعے پر ہی فیصلہ کر دیتا ہے ، اسے کسی عدالت کسی انصاف کی ضرورت نہیں معلوم ہوتا ہے گنگا جمنی تہزیب کے ترجمان اس ملک پر ظلم اور دہشت گردی کی ہی حکومت ہے لیکن تاریخ گواہ ہے جب جب مسلمان نے اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف تحریک چھیڑی ہے انصاف کا پرچم لہرا کر ہی دم لیا ہے صرف ایک لفظ مسلمان میں ہی وہ ہمت اور طاقت ہے جو ایک 70 پر بھاری رہتا ہے پھر کیا وجہ ہے آج مسلمان صرف اس لیے پٹ رہا ہے کہ کہ وہ مسلمان ہے، تاریکیاں ہمارا مقدر بنتی جا رہی ہیں ،مایوسیوں نے ہمارے دل میں گھر کر لیا ہے اسلام کا پرچم لہرانے والی یہ قوم پستی کی طرف مائل ہوتی جا رہی ہے شاید اس کے ذمہ دار ہم خود ہی ہیں ،جو قوم اپنی حالت خود نہیں بدل سکتی اسکی حالت کوئی اور کیا بدلےگا ہم اب مسلمان کہاں ہیں ہم تو دیوبندی ،سنی، شیعہ ،جماعتِ اسلام ،اہلِ حدیث اور نہ جانے کیا کیا بن گئے ہیں ۔کب ہمیں اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے نقصان کی پرواہ کرتے ہیں ،کب ہم کسی کی مدد کے لیے اپنا وقت برباد کرتے ہیں ہمارے اتنے بڑے بڑے کاروبار چل رہے ہیں اس میں نقصان نہ ہوگا اگر ہم اپنا وقت برباد کریں گے ؟کب ہم غیر کے سامنے متحد ہوکر اپنے حق کے لیے لڑتے ہیں؟ ۔کب ہم انتخابات کے وقت متحد ہوکر اپنے رہبر کو چنتے ہیں ؟ اگر ہم حقیقتاً صرف اور صرف مسلمان ہوتے تو شاید اج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے اگر اب بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو ہمیں ایک ایک کرکے نہ جانے کتنے تبریز ،موت کے گھاٹ اتارے جاتے رہیں گے اب وقت آ چکا ہے کہ یہ قوم نیند سے بیدار ہو اور اپنے حق کے لیے لڑائی لڑے اور اس لڑائی کو تب تک جاری رکھیں جب تک خونی تشدد کی یہ داستان ختم نہ ہو جائےاور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کل اس ظلم اور تشدد کا شکار آپ بھی ہو سکتے ہیں آپ کا نوجوان بھائی بھی ہو سکتا ہے آپ کاکمسن بیٹا بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ اس کو کچھ شرپسند عناصر کی طرف سے منظم طریقے سے نافذ العمل کیا جا رہا ہے تاکہ یہ خونی سلسلہ بدستور جاری رہے ۔
عارفہ مسعود عنبر ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest