مخالفت رنگ لائی:ٹھیکے پر اساتذہ کی تقرری کی تجویز پاس نہیں ہوسکی

تجویز کو لے کر اساتذہ میں بے چینی پائی جارہی تھی، میٹنگ بے نتیجہ رہی

نئی دہلی: ٹھیکے پر اساتذہ کی بحالی کی خبر سن کر کہیں خوشی تھی تو کہیں غم بھی تھا، زیادہ تر پروفیسر حضرات اس خبر کو اچھی خبر نہیں مان رہے تھے۔ کہیں بشاشیت تھی تو کہیں زبردست مخالفت۔آپ کو بتادیں کہ اساتذہ کی زبردست مخالفت اور ہنگامے کی وجہ سےدہلی یونیورسٹی کی ایکزیکیوٹیو کونسل میں ٹھیکے پر اساتذہ کی تقرری کی تجویز پاس نہیں ہوسکی۔جمعہ کو دوپہر تین بجے سے پوری رات چلی میٹنگ میں زبردست ہنگامہ آرائی اور مخالفت ہوئی جس کی وجہ سے میٹنگ ملتوی کرنی پڑی اور ٹھیکے پر اساتذہ کی تقرری کی تجویز پر کوئی بات نہیں ہوسکی۔دہلی یونیورسٹی ٹیچرس ایسوسی ایشن (ڈیوٹا) کے نائب صدر سدھانشو کمار نے بتایا کہ ایکزی کیٹیو کونسل کے منتخب ممبران نے ٹھیکے پر اساتذہ کی تقرری کی زبردست مخالفت کی کہ وائس چانسلر کو میٹنگ ملتوی کرنی پڑی۔انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ خود ساختہ طریقے سے بھی یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) قانون۔2018 کا نفاذ کرسکتی ہے جو غیر جمہوری اور قانون کے مطابق نہیں ہے۔ اکیڈمک فار ایکشن ڈیولپمنٹ سےمنسلک ٹیچرز لیڈر راجیش جھا نے کہا کہ ایکزی کیٹیو کونسل کے دو ممبران کمرے کے دروازے پر مخالفت میں لیٹ گئے جنہیں عبور کرکے وائس چانسلر میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے کمرے میں داخل ہوئے۔ مسٹر جھا نے کہا ہے کہ چھ ممبران نے اساتذہ کے مارچ پر ہوئے لاٹھی چارج کے خلاف مذمتی قرار بھی پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram