جوانوں کو پیروں کا استاد کر

.فیروز عالم ندوی
.معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں آنے والی تمام قومیں (سوائے انگریزوں کے)یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ اس وسیع اختلاط نے ملک کی تہذیب کو ایک ایسا رنگ دیا جو تمام رنگوں سے جدا گانہ ہے۔ اسی ممتاز ثقافت کو ادباء اور دانشوران نے گنگا جمنی تہذیب کے نام سے موسوم کیا۔ جب ہم اس ثقافت (گنگا جمنی)کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد اس کثیر طبقاتی معاشرہ کا وہ رکھ رکھاؤ ہوتا ہے جو اس کو متحد، یکجا اور شیر و شکر کئے ہوا ہے۔ یہ تہذیب اس گلشن کے بہار کی ضامن ہے۔ اس چمن میں اس کی حیثیت روح کی سی ہے جس کے بغیر جسم لاش کہلاتی ہے۔
آزادی کے وقت ہمارے قائدین اس نتیجہ پر پہونچے کہ اس ملک کے خوشحالی اور ترقی کی ضمانت یہاں کے گنگا جمنی تہذیب کی بقا میں پنہاں ہے اور اس کو دوام بخشنے کے لیے ایک جمہوری نظام لازمی ہے۔ یہ ہمارے قائدین کی دور بینی تھی، اور ملک کے تئیں ان کا مخلصانہ رویہ تھا جو اس گلستاں کی آزادی کے سرخیل اور ہیرو تھے۔
2014 کے عام انتخابات کے بعد بھارتی جنتا پارٹی نے جس انداز میں کھل کر اپنے فاشسٹ نظریہ پر عمل درآمد کرنا شروع کیا اس نے پورے ملک کے معتدل اور امن پسند لوگوں کو بیچین کر دیا۔ بی جے پی کے تمام اقدامات توقع کے عین مطابق تھے۔ ان سب کے درمیان حیران کن بات یہ تھی کہ وہ تمام پارٹیاں جو دن و رات اپنے سیکولر ہونے کا جاپ جپ رہی تھیں وہ ان کے تمام غیر جمہوری، غیر انسانی اور غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی تھیں۔ یا تو انھوں نے پوری طرح پسپائی اختیار کر لی تھی یا پھر سب کے سب ایک ہی چشمہ سے سیراب ہو رہے تھے۔
یہ بات پہلے سے بھی بار بار کہی جا رہی تھی کہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں سنگھ کے زیر اثر ہیں، مگر موجودہ پارلیمانی انتخابات آتے آتے یہ خود بخود کھل کر سامنے آ گئی کہ اس انتہاء پسند تنظیم نے تمام سیاسی جماعتوں پر اپنی پکڑ کافی مضبوط بنا رکھی ہے جس سے ابر پانا اور گلو خلاصی حاصل کرنا ان کے لیے بالکل مشکل ہو چکا ہے۔
اس پس منظر میں حالات کا سامنا کرنے کے لیے جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ نئی نسل کے پڑھے لکھے اور کشادہ ذہن نوجوانوں کو آگے بڑھایا جائے، پورے اخلاقی جرات کے ساتھ ان کے پشت پر کھڑا ہوا جائے۔ وہ پرانی ہڈیاں جو مصلحت کا جام، موقع پرستی کا بھنگ اور منافقت کا نشا کر کے اپنے اعصاب کو کمزور اور بوسیدہ کر چکی ہیں ان سے پیچھا چھڑا کر نوجوانوں کی ایسی کھیپ کو آگے بڑھایا جائے جو بیباک، نیڈر، قابل اور روشن دماغ ہوں ۔
گزشتہ چند سالوں میں ملک کے طول و عرض سے کئی ایسے نوجوان چہرے سامنے آئے جو بڑی بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فاشسٹ طاقتوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ انھیں ترکی بترکی جواب دیا۔ ان کے بے تکے فلسفوں کو کھوکھلا ثابت کیا۔ ان کے بے سر و پا کے نعروں کی ہوا نکالی اور انھیں علمی و استدلالی میدان میں ننگا کر کے چھوڑ دیا۔
انھیں میں سے ایک آدھ نوجوان اس انتخاب میں خم ٹھونک کر اتر گئے ہیں۔ یہ بہت مناسب وقت ہے جب ہم انھیں کامیاب بنا کر باقی ایماندار نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ آؤ! ملک کی قیادت تمہارا انتظار کر رہی ہے، تمھیں اس ملک کا مستقبل ہو، اس کی خوش حالیاں تمھیں سے وابستہ ہیں اور آئندہ اس کے گیسوء دراز کو سنوارنے کی ذمہ داریاں بھی تمھارے ہی ہاتھوں کی محتاج ہیں۔
اگر بر وقت ان کی پشت پناہی نہ کئ گئی اور میدان کار زار میں انھیں رسوا ہوتے ہوئے چھوڑ دیا گیا تو آئندہ ہونے والی بربادیوں کا ذمہ دار ہم میں سے ہر شخص خود ہو گا۔ اس وقت ہمارا رونا گانا ایساہی ہو گا جیسا کہ ایک شخص خود کو اونچائی سے گرانے کے بعد روتا اور بلبلاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram