طرحی مشاعرہ۔انجمنِ ترقی اردو ہند۔دہلی

 غالب کے یومِ وفات کے موقع پر انجمنِ ترقی اردو(دہلی شاخ) غالب انسٹی ٹیوٹ،نیشنل امیر خسرو سوسائٹی اور غالب اکیڈمی کے تعاون سے 15؍فروری2020 بروزِ سنیچر ۳بجے سہ پہر کو مزارِ غالب پر یومِ غالب کا اہتمام کیاگیا۔اس موقع پر مزارِ غالب پر گل افشانی، فاتحہ خوانی، تقاریر اور غالب کو منظوم خراج عقیدت پیش کیاگیا۔اس جلسے میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر ابن کنول موجود تھے اور صدارت پروفیسر شمیم حنفی کی۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی، ڈاکٹر عقیل احمد اور ڈاکٹر خالد علوی نے غالب کی زندگی اور شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مزارِ غالب پر غالب کی یومِ وفات کے موقع پر پچھلے 50سالوں سے خراجِ عقیدت پیش کیا جارہاہے۔اس موقع پر ڈاکٹر رضاحیدر،ڈائرکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ غالب کی شاعری کا اعجاز یہ ہے کہ آج بھی غالب کی شاعری کو سمجھنا، سننااور گفتگو کرنا ہرعام اور خاص آدمی اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہے۔ انجمن ترقی اردو دہلی شاخ کے صدر مسعود فاروقی،جناب خورشید عالم، جنرل سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری ڈاکٹر ادریس اور محترمہ ہاجرہ منظور نے اس جلسے کے اہتمام و انتظام میں اہم کردار ادا کیا۔ بڑی تعداد میں اہل علم مزار غالب پر غالب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے موجود تھے۔ آخر میں طرحی مشاعرہ کا اجلاس شروع ہوا۔اس اجلاس میں نظامت کے فرائض معین شاداب نے اورصدارت ظفر مرادآبادی انجام دی۔جن شعراء نے اپنے کلام سے محظوظ کیا ان کے اسماء گرامی اور ان کے کلام حسبِ ذیل ہیں:

پہلے تو تتلیوں کو ضیانے پڑھایاپاٹھ

پھر جاتے جاتے کان گلوں کے بھی بھر گئی

معین شاداب

جانے کتنے ہیں زمانے میں بھتیجے اُن کے

مرزا غالب کو سبھی لوگ چچا کہتے ہیں

اقبال فردوسی

 کیا عجب ہم کبھی یاد آجائیں

mushairaبھول جانا تری عادت ہی سہی

نسیم عباسی

ہم ترے ناز اُٹھا لیں گے سبھی

بے نیازی تری عادت ہی سہی

متین امروہوی

 کھلتے جاتے ہیں سبھی زخم گلوں کی صورت

ہم تری یاد و، یوں بادِ صبا کہتے ہیں

ظفر مرادآبادی

] کوشش اپنی سی تو کرنی ہے مجھے

نامرادی مری قسمت ہی سہی

وقار مانوی

 آپ کیوں عرضِ تمنا کو گلا کہتے ہیں

درد کو درد نہیں کہتے تو کیا کہتے ہیں

جمیل مانوی

سر جھکانا ہمیں منظور نہیں

خواہ فرفانِ حکومت ہی سہی

آشکارا خانم کشف

  میں جھک گیا ہوں شاخ ثمردارکی طرح

دنیا کو لگ رہاہوں گنہگار کی طرح

صہیب احمد فاروقی

درد جب حد سے گزر جائے دوا کہتے ہیں

تیز اندھی کو بھی کچھ لوگ ہوا کہتے ہیں

ڈاکٹرعفت زریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *