تقدیر کریں، تدبیر کریں، آؤ ملت تعمیر کریں!

فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
تربیت یعنی انسان کی پوشیدہ اور چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور کار آمد بنانا ، معاشرہ کو پستی سے نکال کر بلندی اور تکمیل کی راہ پر گامزن کرنا، اسے آگے بڑھانا ، جن صفات کی ضرورت ہو ان کی دیکھ بھال کرکے صحیح پروان چڑھانا ، کسی کے اندر مناسب رفتار پیدا کرنا، اس کو اچھے ہدف تک پہنچانا، اس کی استعداد کو اجاگر کرنے کے لیے کمالات کی طرف حرکت دینے کا نام تربیت ہے۔
قرآن کریم نے گزشتہ نبیوں کے قصوں کو کبھی تفصیل سے تو کبھی اختصار سے جگہ بجگہ ذکر کیا ہے۔ ان کہانیوں کی نوعیت قصہ گوئی اور قصہ خوانی سے بالکل مختلف ہے۔ ان کے تدبرانہ مطالعہ سے ان کی جو خصوصیات سامنے آتی ہیں ان میں تربیت کے ذریعہ تعمیر معاشرہ کا پہلو بہت ہی اہم اور واضح ہے۔
اللہ رب العزت نے سابقہ قوموں کی تربیت کا انتظام انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے ذریعہ فرمایا۔ وہ سب ہدایت ربانی کے ذریعہ ان کی ایمانی تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاق، کردار، انفرادی طرز حیات اور طرزِ معاشرت کی تربیت کیا کرتے تھے۔ قرآنی آیات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو انجام دینے کے لیے صبر، حکمت، تدبر اور تدریج کا پورا پورا خیال رکھا گیا۔
اللہ رب العزت نے آخری امت یعنی امت محمدیہ کی تربیت کا انتظام اپنے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ فرمایا۔ یہ تربیتی دورانیہ پورے 23 سالوں کے لمبے عرصہ پر محیط تھا ۔ اس کا پہلا 13سال انتہائی مشقت ، قربانیوں اور مظلومیت کی ہولناکیوں سے بھرا ہوا تھا ۔ اگر قادر مطلق چاہتا تو اپنے پیارے نبی کو بادشاہت عطا کر کے فوری طور پر اسلام کو دنیا میں نافذ کرا دیتا مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا، بلکہ انہیں ایک لمبے مشقت بھرے تربیتی پروگرام سے گزارا گیا جس سے گزرنے کے بعد قوم کا ہر فرد ایک چمکدار ستارہ کی مانند تھا۔ پہلی صورت میں ایک ایسا معاشرہ ملتا جو وقتی تابعدار بھیڑ کے مانند ہوتا جو اپنے قائد کے گزرنے کے فوراً بعد فنا کے گھاٹ اتر جاتا۔
جب موسی علیہ الصلاۃ و السلام نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو فرعون سے آزاد کرایا اور انہیں لے کر سمندر کی دوسری طرف پہنچے تو اللہ تعالی نے انہیں کسی شہر میں جانے کے بجائے چالیس سالوں تک ایک صحرا میں قیام کا حکم دیا۔ اس کی مقصدیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علمائے کرام بیان کرتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ جو لوگ غلامی میں پروان چڑھ کر غلامانہ ذہنیت کی خامیوں کے عادی ہو چکے تھے ان میں بہت زیادہ تبدیلی کی گنجائش ممکن نہیں تھی، لہذا انھیں قوم کے ساتھ ایک صحرا میں ٹھہرا کر نئی نسل کو چشمہ نبوت سے تربیت یافتہ ہونے کا صاف شفاف موقع فراہم کیا گیا، وہیں دوسری جانب غلامانہ ذہنیت کے حامل نسل کے خاتمہ کا انتظار کیا گیا جن میں زیادہ تبدیلی کی گنجائش باقی نہیں تھی۔
مذکورہ بالا تمہید سے چند باتیں سامنے آتی ہیں ۔
(1) قوم کی تعمیر کے لیے تربیت ہی ایک واحد راستہ ہے۔ (2) تربیت ایک تدریجی عمل ہے ۔
(3) یہ عمل علمی، فکری، عملی، اخلاقی، انفرادی اور معاشرتی تمام امور کو شامل ہے۔
(4) صبر، تحمل، بردباری، حکمت اور اقدام اس کے خاص عناصر ہیں۔
(5) قبول تربیت میں نوخیز عمر زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔
مذکورہ بالا نتائج کی روشنی میں دیار ہند کے ملی خستہ حالی کی وجوہات کا ایک سرسری جائزہ لینا مناسب رہے گا۔
گذشتہ چند دہائیوں میں یہ مشاہدہ رہا ہے کہ ملت کے نام پر غیر واقعی اتحادی نعروں ، جوشیلی تقریروں ، عملی سیاست میں نشستوں کے فوری حصول اور کچھ غیر منظم تگ و دو کو اس کی تعمیر کا ذریعہ سمجھ لیا گیا۔ اس کی بنیادی عناصر سے صرف نظر کا رویہ عام رہا۔ لہذا روز نت نئے جلسوں کا انعقاد کر کے جوشیلی تقریریں کی جاتی ہںں ۔ اتحاد کے مضحکہ خیز فارمولے پیش کئے جاتے ہیں۔ مختلف انتخابات کے موقع پر برساتی مینڈکوں کی طرح اچھل کود کی جاتی ہے ۔ اپنی ٹرٹراہٹ سے آسمانِ سیاست کو غیر مفہوم بنایا جاتا ہے۔ کسی پارلیمانی یا اسمبلی سیٹ پر کسی مسلم نام والے امیدوار کے جیت جانے کو ملت کے وسیع تر مفادات کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔
تربیت کے لیے تدریجی اور بہتر لائحہ عمل سے لاعلمی یا بے اعتنائی کا رویہ بالکل عام ہے۔ مکاتب کا مفقود الاصل کردار اس بات کا شاہد ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور پروفیشنل کورسیز میں ہمارے نمائندگی کی کمی اس بات کی گواہ ہے۔ انتخابات کے موقع سے مچنے والے بے سر و پا کے شور غوغے اس بات کا ثبوت ہیں ۔
دعوتی تنظیموں کی خود پسندی، عدم تعاون اور تعامل کا رویہ، تربیت کے جملہ عناصر کو ملحوظ نہ رکھنا اور ان کی باہمی رسہ کشی دعوت و تربیت کے اثرات کو بہت محدود کرتی ہیں۔ تنظیمیں کام کی عمدگی سے زیادہ خود کے تشہیر کی فکر مند ہوتی ہیں۔ ذمہ داران اپنے اپنے عہدوں سے چپکے رہنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، ان کا مطمح نظر قوم کی فلاح سے زیادہ اپنی کرسی اور تنظیم کی ساکھ ہوتی ہے۔
پیران حرم نے عوام الناس کا مزاج ایسا بنایا ہے کہ اگر ان سے کسی ایسے کام کے لیے کہا جائے جو بہت ہی مشکل بھرا اور وقت طلب ہو، مستقبل قریب میں اس کا کوئی بڑا فائدہ نہ دکھ رہا ہو ، تو وہ آپ کو کسی بھی طرح خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اس کے برعکس ایک قائد نما شخص جوشیلی تقریریں کرتا ہے اور خود ساختہ سازشوں کی گتھیاں سلجھاتا ہے تو عوام الناس اسے ہاتھوں ہاتھ لیتی ہے، اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے اور اپنا حقیقی مسیحا تصور کرتی ہے۔
موجودہ وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ نوجوان سامنے آئیں ، موجود تنظیموں اور تحریکوں سے بغیر کسی ٹکڑاؤ اور تنازعہ کے زمینی سطح پر کام شروع کریں، مثلاً: مکاتب کی تنظیم نو، اس کے لیے ایک ایسا نصاب ترتیب دیا جانا چاہیے جو مسلم نونہالوں کو پرائمری درجات تک عصری درس گاہوں سے آزاد کر دے۔ ایسا curriculum بنائیں جس کو مکمل کرنے کے بعد ہمارے بچے دینی درسگاہ اور عصری درسگاہ دونوں میں جانے کے لیے یکساں طور پر اہل ہوں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ مستقبل کے نسل کی تعمیر کرتے ہیں ، اسے من چاہی شکل دیتے ہیں اور آپ اسے مطلوبہ انداز میں ڈھالتے ہیں۔ اس مرحلہ سے نکلنے کے بعد اس کی تعمیر نو بڑی ہی دشوار اور مشکل ار اور مشکل کام ہوتی ہے۔ مکاتب کے روایتی اور غیر واقعی نظام کی وجہ سے ہم مسلسل نسل در نسل کو کھوتے چلے جا رہے ہیں۔
میڈیکل، سول سروسیز اور دیگر پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز کے لئے بڑے پیمانہ پر کوچنگز چلائی جائیں جو مسلم نوجوانوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق مناسب جگہوں پر پہنچا سکیں ۔ الحمدللہ اس سلسلے میں کافی بیداری آئی ہے اور متعدد جگہوں پر کام کیا جا رہا ہے مگر ضرورت ہے کہ اسے بہت بڑے پیمانہ پر کیا جائے، کیونکہ اس سلسلہ میں ہمارے اور غیروں کے درمیان جو فاصلہ ہے اس کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دو گنی رفتار سے دوڑ لگائیں ۔
تحریکیں اور تنظیمیں مفید اور ضروری ہیں مگر کافی نہیں ہیں۔ ان کے طریقہ کار اور اصول و ضوابط پر بے جا تنقید سے بہتر ہے کہ ان کے درمیان تال میل اور تعاون کے ماحول کو فروغ دیا جائے۔ ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان کے طریقہ کار سے کسی بھی چھیڑ چھاڑ کے بغیر کچھ مختلف الجہات دعوتی کاموں کا آغاز کیا جائے جو آفاقیت اور جامعیت کی حامل ہو۔
گزشتہ زمانوں میں ہر ایک کی اپنی فکر بزعم خویش صائب ہوا کرتی تھی، ہر فرقہ اپنے گروہی اعتقادات کے اعتبار سے خود کو درستگی کے آخری معیار پر سمجھتا تھا۔ مگر موجودہ وقت میں باہمی مکالمہ اور اظہار خیال کے تبادلہ کو کافی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ فی الوقت زمانہ کا مزاج یہ ہے کہ سیاسی، خانگی، معاشرتی اور معاشی ہر طرح کے مختلف فیہ معاملات میں مکالمہ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے درمیان مسلکی و اعتقادی اختلافات کے سلسلہ میں اس مزاج کو فروغ دینے کی بہت سخت ضرورت ہے۔
ملت کے قائدین اور مخلصین کو چاہیے کہ وہ جوشیلی اور غیر ضروری چیزوں میں لوگوں کو نہ الجھا کر ان کاموں کی طرف توجہ دلائیں جو تربیتی نقطئہ نظر سے مفید ہوں ۔ اپنی نگاہوں کو وقتی الجھاؤ کے بجائے دور رس، پائیدار اور تدریجی سلجھاؤ پر مرکوز کریں۔

الله هو الموفق و المستعان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest