قومی تعلیمی پالیسی پر زعفرانی سایہ

کلیم الحفیظ
کنوینر انڈین مسلم اٹیلیکچول فورم جامعہ نگر ،نئی دہلی
9891929786
نئی قومی تعلیمی پالیسی میں زیادہ تر نکات قابل تعریف ہیں۔مثلاًتعلیم تک سب کی رسائی،تعلیم کے مساوی مواقع،اساتذہ کی تقرری میںشفافیت اور ترقی میں لیاقت کا لحاظ،پیشہ ورانہ تعلیم پر زور،تعلیم میں ٹکنالوجی کا استعمال،تعلیم بالغان کا نظم،ہندوستانی زبانوں کا فروغ،بچوں کی جسمانی نگہداشت کے لیے اسکولوں میں صحت کارکنان کا تقرر،حق تعلیم قانون کو مؤثر بنانے کی وکالت،مادری زبان میں پرائمری ایجوکیشن،ڈگری کالجز اور یونیورسٹیوں کے اختیارات میں توسیع،تعلیم سے محروم افراد کے لیے تعلیمی زون کی تشکیل وغیرہ ۔مذکورہ نکات پر اگر مثبت نقطئہ نظر سے عمل کیا گیا تو بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔
پالیسی میں واضح الفاظ میں تو کہیں بھی زعفرانیت نظر نہیں آتی لیکن اس کے پس منظر میں ضرور نظر آتی ہے۔مثلاً وزیر اعظم کی سربراہی اور وزیر تعلیم کی نگرانی میں راشٹریہ شکشا آیوگ کے گٹھن کی بات کہی گئی ہے جس کا مقصد ’’ہندوستان میں تعلیم کے نقطئہ نظر کی حفاظت ‘‘ہوگا۔یہ بات سب پر واضح ہے کہ موجودہ حکومت کا تعلیمی نظریہ ملک کے جمہوری تعلیمی نظریہ سے مختلف ہے۔آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس آیوگ کے ذریعہ حکومت کیا کیا گل کھلائے گی۔اس لیے ہماری تجویز ہے کہ حکومت واضح الفاظ میں تعلیم کے نقطئہ نظر کو واضح کرے۔اس آیوگ کی سربراہی سیاسی افراد کے بجائے ماہرین تعلیم کے ہاتھوں میں دی جائے۔تاکہ اس کا سیاسی استعمال نہ کیا جا سکے۔
قومی تعلیمی پالیسی میں پرائمری اسکولوں میںبچوں کی ’’ذہنی صحت‘‘ کی برقراری کے لیے ضلع سطح پر سماجی کارکنان اور صلاح کار پر مشتمل کمیٹیاں بنانے کی بات درج کی گئی ہے۔یہ سماجی کارکنان کون ہوں گے۔کس طرح منتخب کیے جائیں گے۔ان کے کیا ختیارات ہوں ۔یہ واضح نہیں ہے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ آر ایس ایس کے کارسیوک ہوں گے۔اس طرح حکومت ہر اسکول میںکارسیوکوں کا عمل دخل بڑھائے گی اور زعفرانی نظریہ تعلیم کو نافذ کرے گی۔اسکولی نظام کی نگرانی اور ان کی عمل کاری اور استحکام میں تعاون کے لیے ضلع شکشا پریشد بنائی جائے گی ۔اسی طرح ریاستی سطح پر اسکولوں کے لیے ضابطہ بنانے کی غرض سے ایک تنظیم بنائے جائے گی جسے ’’ریاستی اسکول ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ کہا جائے گا۔ معیاری تعلیمی تحقیق کو تحریک دینے کے لیے ’’قومی تحقیقی فائونڈیشن ‘‘قائم کیا جائے گا۔دراصل ان تمام نئے اداروں کی تشکیل صرف اس لیے کی جارہی ہے تاکہ زعفرانی نظام تعلیم کے ماہرین کے ذریعہ تعلیم کا بھگوکرن کیا جاسکے۔ہماری تجویز ہے کہ پہلے سے قائم سرکاری اداروں سے ہی کام لیا جائے۔ان کو ہی فعال کیا جائے۔نیز جو نئے ادارے ،کمیٹیاں اور فائونڈیشن قائم کیے جائیں تو ان میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو نمائندگی دی جائے۔
ہر بار کی طرح نئی تعلیمی پالیسی میں بھی یہ بات دہرائی گئی ہے کہ پرائمری ایجوکیشن مادری یا علاقائی زبان میں دی جائے گی۔بلکہ اس مرتبہ اس کو جونئیر تک کرنے کااشارۃً ذکر کیا گیا ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہندی بھاشی ریاستوں میں اس کا کوئی نظم نہیں کیا جاتا ۔اترپردیش جہاں اردو بولنے والوں کی تعداد ۱۹ فیصد ہے اور پانچ کروڑ لوگوں کی مادری زبان اردوہے،اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل ہے ۔وہاں ایک بھی اردو میڈیم اسکول نہیں ہے۔ہماری تجویز ہے کہ علاقائی اور مادری زبانوں کے ناموں کی وضاحت کے ساتھ یہ بھی متعین کیا جائے کہ کن علاقوں میں کس میڈیم کے کتنے اسکول قائم کیے جائیں گے۔
تعلیم سے محروم طبقات کے لیے مخصوص تعلیمی زون کی بات خوش آئند ہے۔مگر آزادی کے بعد حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد کی جوصورت حال ہے اس سے کسی مثبت انقلاب کی توقع نہیں ہے۔شمالی ہندوستان میں حکومت کے پرائمری اور جونئر اسکولوں کی جو بدترین حالت ہے اس کو دیکھتے ہوئے خصوصی تعلیمی زون کاا نجام سوچا جا سکتا ہے۔اس لیے ہماری تجویز ہے کہ خصوصی تعلیمی زون سے پہلے حکومت سرکاری اسکولوں کے نظام کو درست کرے اور ان اسکولوں کو پرائیویٹ اسکولوں سے ہر حال میں بہتر کرے،نیز آبادی کے تناسب سے اسکولوں میں اضافہ کرے۔ خصوصی تعلیمی زون کے قیام میں مسلم اقلیت کا خیال رکھا جائے،وہ اضلاع جہاں مسلمان پچیس فیصد ہیں انھین خصوصی تعلیمی زون میں شامل کیا جائے۔
نئی قومی تعلیمی پالیسی میں اسکولوں کے نظم و نسق کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ’’اسکولوں کے مجموعوں کے ذریعہ اسکولی تعلیم کا نظم و نسق کیا جائے گا‘‘یعنی چھوٹے چھوٹے کم تعداد والے اسکولوں کا ایک گروپ بنایا جائے گا۔اس گروپ کی نگرانی اس علاقہ کا بڑا اسکول کرے گا۔اس کا مقصد یہ بتا یا گیا ہے’’تاکہ وسائل میں اشتراک اور اسکولوں کے نظم و نسق کو زیادہ موثر بنایا جا سکے‘‘۔ہماری ناقص رائے میں ایسا کرنے سے اسکولوں کی خود مختاری و آزادی ختم ہوجائے گی۔بہتر ہوگا کہ حکومت اس کے بجائے اسکولوں میں جدید سہولیات مہیا کرائے تاکہ وہ چھوٹے اسکول بھی بڑے بن جائیں۔
نئی تعلیمی پالیسی میں تعلیم کی عمر اب تین سال کردی گئی ہے ۔لیکن کیا یہ چیز بچے کی جسمانی نشونما کے لیے بھی درست ہے یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔بچپن میں جسمانی طور پر بچے کی جو نشو نما ہوتی ہے وہ اسکول کے بوجھ تلے دب تو نہیں جائے گی!۔میری تجویز ہے کہ سرکار پہلے بچپن اور بچپنے کی کلکاریوں کو محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی کرے،اس کے بعد یہ نظام نافذ کیا جائے۔صرف مغرب کی تقلید میں ایسا نہ کیا جائے۔
قومی تعلیمی پالیسی میں جو پالیسی بنائی گئی ہے اور جن سہولیات کا ذکر کیا گیا ہے ظاہر ہے وہ بلا تفریق سب کے لیے ہیں ۔لیکن ایک جمہوری ملک میں اقلیتوں کے کلچر ،ان کی تہذیبی وراثت اور تعلیم کے تحفظ کے لیے آئین میں خاص ضمانتیں دی جاتی ہیں ۔آئین ہند میں بھی اس کا خیال رکھا گیا ہے۔لیکن قومی تعلیمی پالیسی میں اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔جس ملک میں کسی اقلیت کی آبادی ۲۰ کروڑ ہو۔اس کے اسکول جانے والے بچوں کی تعداد پانچ کروڑ ہو ۔اس کا اپنا بھی ایک مخصوص نظام تعلیم (مدرسہ سسٹم)ہو ۔اس کا قومی تعلیمی پالیسی میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ہماری رائے ہے کہ مدارس میںسرکاری مداخلت کے بغیرتعلیمی سہولیات مہیا کی جائیں۔مدرسہ ماڈرنائزیشن کے نام پراتر پردیش میں مدراس کا استحصال کیا جارہا ہے۔کئی سال سے اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ حکومت مخلص ہوکر مدارس کی جدید کاری کرے ،البتہ جدید کاری کے کے نام پر کوئی چیز تھوپی نہ جائے۔دستور ہند میں جو بنیادی حقوق دیے گئے ہیں وہ پامال نہ ہوں۔قومی تعلیمی پالیسی میں مدرسہ ایجوکیشن پر حکومت کو ایک چیپٹر شامل کرنا چاہیے تاکہ حکومت کی پالیسی واضح ہو ۔
قدیم بھارتی کلچر،قدیم تاریخ اورسنسکرتی و سبھیتا کے نام پر ہندتوا کو تھوپنے سے گریز کیا جائے۔معیاری تحقیق کے نام پر حقائق کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے۔بلکہ نظام تعلیم میں جمہوریت کی روح کو باقی رکھا جائے،ملک کی سا لمیت باشندگان ملک کے اتحاد میں پوشیدہ ہے۔باشندگان ملک میں محبت تبھی پیدا ہوسکتی ہے جب کہ اسکولوں میں آپسی بھائی چارہ،ہمدردی و غم گساری اور باہمی تعاون کی تعلیم دی جائے۔اقلیتوں کی زبان ،ان کا کلچر،ان کا مذہب،اسی صورت میں باقی رہ سکتا ہے جب کہ بچوں کو ان کے تئیں احترام کی تعلیم دی جائے۔تمام مذاہب یکساں احترام کے قابل ہیں ۔تعلیم کے ذریعہ آپ جانور کو انسان بنا سکتے ہیں اور تعلیم کے ذریعہ ہی آپ انسان کو حیوان بنا سکتے ہیں۔یہ ذمہ داری ملک چلانے والوں کی ہے کہ وہ کیا بنانا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest