طلاق سے بھی زیادہ اہم مسائل خواتین کو درپیش ہیں

کلیم الحفیظ
کنوینر انڈین مسلم انٹیلیکچولس فورم
نئی دہلی ۲۵
9891929786
رواںلوک سبھا میں فتح کے بعد وزیر اعظم نے جو بیان دیا تھا اس میں اقلیتوں کے وکاس اور وشواس کی بات کہی تھی ۔جس سے تمام اقلیتوں کو خوشی ہوئی تھی۔بیان کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔امید جگی تھی کہ اس مرتبہ وزیر اعظم ملک اور اہل ملک کے مفاد میں کام کریں گے۔لیکن نئی پارلیمنٹ کا آغاز جس طرح جے شری رام کے نعروں اور بدلے میں نعرہ تکبیر کی گونج سے ہوا ہے ،اس سے اندازہ ہوگیا ہے کہ آئندہ کے پانچ سال پارلیمنٹ میں کیا ہونے والا ہے۔سابقہ پارلیمنٹ کے آخر کے دو سال مسلم مطلقہ کے مسائل حل کرنے کے نام پر طلاق بل کی نظر ہوگئے تھے ۔نئی پارلیمنٹ کا آغاز بھی اسی بل سے ہوا ہے یعنی حکومت کے ذمہ داروں کی نہ نیت بدلی ہے نہ نیتی۔ہمارے وزیراعظم کو نہ جانے کیوں مسلم مطلقہ خواتین سے اتنی ہمدردی ہے کہ وہ ان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑ گئے ہیں۔حالانکہ ملک میں اس سے زیادہ سنگین مسائل موجود ہیں۔ملک معاشی اعتبار سے پچھڑتا جاتا رہا ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری سے عوام دوچار ہیں ۔جہالت،غربت اور بیماری بڑھ رہی ہے ۔ماب لنچنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ہندو جنونیوں کے ہاتھوں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں ۔مگر ان باتوں سے کیا لینا دینا ۔یہ سب تو صاحب کے علم میں لاکر ہی ہورہا ہے۔انھیں تو طلاق کی آڑ میں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرنا ہے۔اسلام کو بدنام کرنا ہے۔اپنے ناسمجھ ہندو ووٹروں کو خوش رکھناہے ۔
جہاں تک خواتین کے مسائل کا تعلق ہے تو ہندو مسلمان کی تفریق کیے بغیر ملک کی خواتین کو نہایت سنگین مسائل درپیش ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ خواتین کے تحفظ کا ہے۔جان،مال ،عزت و آبرو کا تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔نیشنل کرائم بیورو کی 2016کی رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں خواتین پر ایک سال میں 84746حملے ہوئے جن کی FIRدرج کی گئی ۔یعنی روزانہ 232خواتین حملہ کا شکار ہوئیں۔دہلی میں جہاں کی پولس ڈائریکٹ مرکزی حکومت کے ماتحت ہے وہاں 4165حملے ہوئے۔مہاراشٹر جہاں حکمراں اتحاد کی حکومت ایک عرصہ سے ہے وہاں 11396حملے ہوئے،اتر پردیش جہاں ایک سنیاسی راج پاٹ سنبھالے ہوئے ہے وہاں 11335حملے ہوئے۔اس دوران4485خود کش حملے ہوئے ۔شوہر یا ان کے اہل خانہ کی طرف سے مظالم کا شکار خواتین کی تعد اد2016میں ایک لاکھ دس ہزار چار سو چونتیس (110,434)درج کی گئی ۔یہ اعداد و شمار وہ ہیں جن کی FIRدرج ہوئی ہے۔ اس سے کہیں زیادہ وہ تعداد ہے جن کی کوئی رپورٹ درج نہیں ہوتی۔ اس کے باوجودخواتین کے تحفظ کے لیے مزید قانون سازی کا ہمارے وزیر اعظم کو کبھی خیال پیدا نہیں ہوتا۔
جنسی زیادتی ،جنسی تشدد،زنا بالجبر ،اجتماعی عصمت دری کے واقعات روزہی اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ان واقعات میں ہر ماہ اور ہر دن اضافہ ہورہا ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروجو حکومت کا اپنا ادارہ ہے۔اس کی2016کی رپورٹ کے مطابق 38947واقعات ایک سال میں درج کیے گئے۔اس میں 16863 واقعات نابالغ بچیوں کے ساتھ ہوئے۔اس کا مطلب ہے 106واقعات روزانہ درج کیے گئے۔یعنی ہر بارہ منٹ میں ایک عورت کی عزت لوٹ لی جاتی ہے ۔یہاں بھی قارئین اندازہ کرسکتے ہیں کہ ایسے واقعات کی تعداد کتنی ہوگی جن کیFIRبھی درج نہیں ہوتی۔کتنی متأثرہ خواتین بدنامی کے خوف سے پولس میں نہیں جاتیں۔کتنی متأثر خواتین دبنگوں کی دبنگئی سے منھ بند رکھتی ہیں ۔ اس ایک سال کے عرصہ میںاجتماعی عصمت دری کے 2171واقعات ہوئے۔تعجب اور حیرت کی بات تو یہ ہے اس دوران 10واقعات ایسے ہوئے جس میں متأثرہ حکومتی عملہ کی کسٹدی میں تھی۔یہ واقعات اسکول ،کالج،ہسپتال ،ٹرین ،بس اور مذہبی آشرموں تک میں ہوئے ۔ان میں معصوم بچیوں کے ساتھ بھی اجتماعی زنا کیا گیا ۔خواتین کی عصمت کے لٹیروں میںپولس،سیاسی رہنما،سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں۔اترپردیش میں محض دس مہینے کی BJPکی حکومت میں (APRIL17 TO JAN18)عصمت دری کے 3704واقعات درج ہوئے۔کیا حکومت اور ہمارے وزیر اعظم کو خواتین کی عصمت کے تار تار ہونے کی کوئی فکر نہیں۔
ایک اہم مسئلہ جہیز کی خاطر جلاکر ماردیے جانے کا ہے جسے ہم DOWRY DEATHکہتے ہیں۔یہ سنگین جرم ہے ۔اس پر قانون بھی ہے ۔اس کے باوجود جہیز کے نام پرخواتین کو آج بھی موت کی نند سلادیا جاتا ہے۔2016میں جہزکی خاطر خواتین کو جان سے ماردئے جانے کے 7621واقعات ہوئے۔جس میں سب سے زیادہ اتر پردیش میں2223واقعات کی FIRدرج کی گئی۔ماں باپ کے پاس جہیز کے نہ ہونے پر کنواری خواتین کی تعداد بھی ملک میں لاکھوں میںہے۔شادیاں سر عام ہوتی ہیں ،تلک اورجہیز کی نمائش بھی ہوتی ہے،قانون نافذکرنے والے افراد اور قانون بنانے والے والے نیتا بھی شادی کی تقریب میں شامل ہوتے ہیں ۔لیکن مسلم مطلقہ کے ہمدردوں کو یہ برائی نظر نہیں آتی۔
مسلم مطلقہ خواتین کے ہمدردوں کو کبھی ان خواتین کا خیال کیوں نہیں آیا جن کو حکومت نے عزت فروشی کا لائسنس عطا کررکھا ہے۔ملک میں قانونی قحبہ خانے اور عصمت فروشی کے اڈے جنھیں عرف عام میں کوٹھے کہا جاتا ہے ان پر جسم فروشی کرنے والی خواتین کی تعداد 657829ہے۔یہ اعداد و شمار Wikipediaکی 2016کی رپورٹ سے لیے گئے ہیں ۔ان کے علاوہ لاکھوں خواتین اور کم عمر لڑکیاں پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر روزانہ اپنی عزت بیچتی ہیں۔کیا حکومت کے پاس ان کی باعزت زندگی کا کوئی منصوبہ نہیں۔کیا ملک کے وزیر اعظم کو ان خواتین کی آبرو کی کوئی فکر نہیں۔کیا ان خواتین کو گھر بسانے کا کوئی حق نہیں ۔
قتل جنین(FOETICIDE)اگرچہ قانونی طور پر جرم ہے۔مگر 20ہفتہ کے حمل کو ضائع کرنے (ABORTION)کی قانونی چھوٹ دے کر یہ راستا اب بھی کھلا ہوا ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں جنسی تناسب میں فرق آتا جا رہا ہے۔۔2011کی مردم شماری کے مطابق 1000لڑکوں پر 943لڑکیاں ہیں۔پنجاب میں یہ شرح صرف 834ہے۔یہ مسئلہ صرف خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے اہم مسئلہ ہے ۔لڑکیوں کی کم ہوتی تعداد اور کنوارے لڑکوں کی بڑھتی تعداد ملک میں جنسی جرائم میں اضافہ کا سبب ہے۔
ان مسائل کے علاوہ خواتین کے اغوا کے واقعات ایک سال میں 33796درج کیے گئے ،جن میں یوپی میں 13226اغوا کے واقعات ہوئے۔خواتین کی اسمگلنگ کے واقعات بھی ملک میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔لاکھوں بیوہ عورتیں آشرموں میں دو مٹھی چاول کے لیے سارادن کام کرتی ہیں،لاکھوں بیمار عورتیں اسپتالوں میں دھکے کھارہی ہیں۔کروڑوں مائیں بچوں کی بے روزگاری کے سبب دووقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیںاور لوگوں کے گھروں میں جھوٹے برتن صاف کرتی ہیں۔بڑی تعداد میں’ عزت گھر‘(TOILET) بنانے کے باوجود لاکھوں مہلائیں کھلے میں قضائے حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔لاکھوں عورتیں شرابی شوہر کے ہاتھوں روزانہ مارکھاتی ہیں ،لاکھوں بوڑھی مائیں تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بزرگوں کے لے اولڈیج ہوم کی تعداد ملک بھر میں 728ہے ۔ان میں تقریباً 72000بوڑھی خواتین اپنی موت کا انتطار کررہی ہیں ۔کتنی ہی خواتین کو ان کے شوہرں نے بغیر طلاق کے چھوڑ رکھا ہے اور اپنی محبوبہ کے ساتھ عیش کرہے ہیں۔خود وزیر اعظم نے شادی کے بعد اپنی بیوی کو تنہا ایشور کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔جسے وہ بلی دان اور تیاگ کا نام دیتے ہیں،گھر کی خواتین کو چھوڑدینا ،انھیں پیار اور محبت سے محروم کرنا۔ان کی ضروریات زندگی کا خیال نہ رکھنا۔ان کی فطری ضرورتوں کی ان دیکھی کرنا کونسا تیاگ ہے ۔اگر پورے دیش کے مرد یہ تیاگ کرنے پر آجائیں تو ملک کا کیا ہوگا؟؟
حکومت کو مسلم خواتین سے نہ کل ہمدردی تھی اور نہ آج ہم دردی ہے ۔یہ بل اور آرڈینینس مگر مچھ کے آنسو اور ہاتھی کے دانت ہیں۔انھیں طلاق کے نام پر ملک کو گم راہ کرنا ہے۔انھیں طلاق کے نام پر مسلمانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا ہے تاکہ وہ سنجیدہ مسائل پر بات نہ کرسکیں ۔انھیں طلاق کے نام پر شدت پسند ہندئوں کو خوش کرنا ہے ،انھیں طلاق کے نام پر مسلکی اختلافات کو ہوا دینا ہے۔طلاق کی آڑ میں ملک کی دم توڑتی معیشت اور بڑھتی فسطائیت کی جانب سے باشندگان ملک کی توجہ ہٹانا ہے،وہ طلاق بل کی آڑ میںسیکولر سیاسی پارٹیوں کو ہندو مخالف ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ورنہ انھیں ذرا سی بھی مسلم خواتین سے ہمدردی ہے تو وہ ان کی تعلیم کے لیے اسکول قائم کریں ،ان کے علاج کے لیے اسپتال بنائیں،ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے اسکالر شپ دیں ،بے گناہ نوجوانوں کو جیل سے رہا کریں جن کی مائیں ان کی صورتیں دیکھنے کو ترس رہی ہیں ،وہ نجیب کو ڈھونڈھ کر لائیں ،جس کی ماں گھرکی دہلیز پر بیٹھی اپنے لال کا انتظار کرہی ہے۔
میری رائے ہے کہ ملک کے دانشور اور اہل علم و قلم حضرات آگے آئیں اور باشندگان ملک کو خواتین کے حقیقی مسائل سے آگاہ کریں ۔طلاق کی آڑ میں حکومت کے ایجنڈے پر سے نقاب اٹھائیں۔اس سلسلے میں خواتین اہل قلم اگر پیش پیش ہوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔میں مسلمانوں سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ صبرو تحمل سے کام لیں،ملک کے حالات کو سمجھیں ۔شریعت کو مذاق نہ بنائیں۔طلاق کے احسن طریقے پر عمل کریں۔ابھی حکومت طلاق نہ دینے کا قانون نہیں بنا رہی ہے بلکہ طلاق کو کس طرح دینا ہے ؟اس پر قانون بنارہی ہے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ حکومت کی منشا اس کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرنا ہے آج ایک قانون میں ترمیم کرکے وہ یہ اشارہ دینا چاہتی ہے کہ پرسنل لاء قابل ترمیم ہے ۔پرسنل لاء کے قابل ترمیم ہونے سے ملک میں یکساں سول کوڈ کا راستا آسان ہوجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest