ہماری سیاسی بصیرت اور تبریز انصاری کی بیوی کادرد

جھاڑکنڈ میں ہجمومی تشدد کے نام پرجس طرح پولیش کی مدد سے تبریز انصاری کو مارا دیا گیا اور وہاں کی حکومت تماشاں بیں کی طرح سارے واقعات کو دیکھتے ہوئے بھی انجان بنی رہی اور آج بھی تبریز کا قاتل کھولے عام گھوم رہا ہے۔ان دنوں ملک میں ہجومی تشدد اور گائے کے نام پر قتل کے معاملے میں روز بروز اضافہ ہوتے ہوئے دیکھائی دے رہا ہے۔امت کا یہی حال رہا تو اب وہ وقت دور نہیںجب ہم سب بھی اس تشدد کا حصہ بن جائے گے ۔تبریز کا واقعہ سے جہاں پوری دنیا دہل گئی اور احتجاج و مظاہرہ کے لے لوگ سڑکوں سے باہر نکل پڑے ونہی پر مغربی بنگال میں اس واقع کو لیکر کوئی خاص احتجاج و مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملی۔کولکاتا کے بعد سب سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی والا علاقہ آسنسول میں بھی جمود طاری رہی۔آسنسول میونسپل کارپوریشن میں چودہ مسلم کانسلروں کی تعداد ہیں جہاں کارپوریشن کی بورڈ میٹنگ جمعہ میں منعقد ہونے کی وجہ سے کچھ کانسلروں نے تحریری طور احتجاج درج کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی وہ امت کہ بہی خواں ہیں۔لیکن تبریز کو لیکر یہاںپر مظاہرہ اور احتجاج کو لیکر جو جمود طاری ہے اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کومسلمانوں سے زیادہ اپنی مستقبل کی فکر ہے۔اس علاقے میں بیشتر تنظیمیں مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کے دم بھرتے رہے اور خبروں کی زینت بھی بنتے رہے انکے یہاں بھی برف پگھلتے ہوئے نہیں دیکھائی دیں۔ ملک میں ازادی دلانے میں علمائے کرام کی قربانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ان لوگوں کی وجہ سے ہی انگریز ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے،لیکن اب لگتا ہیں ایسے علماء کرام ہمارے درمیان نہیں رہے۔اسی وجہ کر آج امت مصیبت سے دوچار ہیں۔اب وقت اگیا ہے کہ ہمیںاپنا محاشبہ کرتے ہوئے مسلم رہنمائوں اورچندہ خور دینی بھائیوں کے بھروسے نہیں رہنا ہوگا ۔
آج کا ہندوستان یقینی طور پر اقلیتوں کے لے بہت اچھی نہیں ہے۔ووٹ بینک کی سیاست کرنے والوں نے جونفرت کی بیچ بوئی ہے اس سے ابھرنا بہت ہی مشکل دیکھائی دیتا ہے۔لیکن ماتم کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوگے۔اب مسلمانوں کو بوجھ بننے کے بجائے ضرورت بننا ہوگا۔تجارت میں ایمانداری لانے ہوگی۔غیر مسلموں میں نفرت کے بجائے محبت اور اخوت کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔تعلیمی میدان میں بہتر صلاحیت پیدا کرنا ہوگا۔اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہوتاریکی دور کرنے کے لے ماچس کی ایک تیلی ہی کافی ہوتی ہے۔ہمیں زندگی سے ہار ماننے کے بجائے اب اپنا راستہ خود بنانا ہوگا۔قسمت کا رونا چھوڑ کر ہمیںاپنی صلاحیت اور اہمیت سے لوگوں کو مسلمانوں کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہیں۔اگرہم دوسروں پرانحصار کرنے کے بجائے خود ہی اپنا معاملہ حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو انے والا کل ہمارا ہوگا ۔ہاں اسکے لے ہمیں بوجھ کے بجائے ضرورت بن کر دیکھانا ہوگا۔یہاں پر مجھے اسد اجمیری صاحب کا یہ شعر یاد ارہا ہے۔

یارب تو بڑھا او ر ذرا اس کی ضرورت
آتی ہے میری یاد ضرورت پے ہی اس کو
محمد خورشیدعالم،ڈیشرگڑھ، 9126267486

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram