سپریم کورٹ کا مصالحتی فیصلہ ،بی جے پی اور سنگھ کے منہ پر طمانچہ

ممبئی:رام مندر بابری مسجد تنازعہ کے آج کے اہم شنوائی میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ کیا کہ بابری مسجد اور رام مندر کا تنازعہ آپسی سمجھوتے سے ختم ہو اور اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے تین رکنی پینل کی تشکیل کی گئی جو تمام فریقین کو سن کر آپسی سمجھوتہ بنانے کی کوشش کریں گے اور اپنی کوشش اور فیصلے کو آٹھ ہفتوں بعد سپریم کورٹ کو سونپ دے گی۔ اس معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عوامی وکاس پارٹی کے صدر اور سابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس نے شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ اس فیصلہ سے بی جے پی اور سنگھ پریوار کو ایک زوردار زناٹے دار طمانچہ لگا اور اس فیصلے کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کے چہرے اتر گئے کیونکہ تین رکنی پینل میں کسی بھی سیاسی لیڈر یا سنگھ پریوار کے کسی بھی رکن کو رکھا نہیں گیا اور کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس مصلحت کی کوشش کی رپورٹنگ کوئی بھی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا شائع نہیں کرے گا اس کی وجہ سے بی جے پی اور سنگھ پریوار کی بولتی بند ہو گئی اور آنے والے لوک سبھا کے الیکشن کے دوران بی جے پی اور سنگھ پریوار رام مندر کا مدعہ ووٹ پانے کیلئے نہیں بھنا سکے گی ۔ اس کی وجہ سے بی جے پی اور سنگھ پریوار میں مایوسی کا ماحول چھا گیا ہے اور آنے والے انتخاب میں وہ اپنی شکست کو بڑے پیمانے پر محسوس کر رہے ہیں ۔اس وقت مسلمانوں کو سوجھ بوجھ اور صحیح مصلحت سے کام لینا چاہیے اور خاص طور سے مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیموں کو بیان بازی اور کورٹ کے فیصلے سے دور رکھنا چاہیے اور جو کوئی بھی مسلم تنظیم یا فرد اس مصلحت کی کوشش میں الٹے سیدھے بیان دے اس کو جھکا دینا چاہیے ۔ شمشیر خان پٹھان نے مزید کہا کہ اگر مصلحت کی کوشش ناکام ہوئی تو دو صورت میں اس کیس کا فیصلہ آ سکتا ہے ۔ پہلا یہ کہ فیصلہ سنّی وقف بورڈ کے حق میں آ سکتا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ فیصلہ حق میں آنے کے بعد کیاہم اس جگہ جہاں مورتی رکھی ہے اس کو توڑ کر دوبارہ مسجد بنا سکتے ہیں ؟۔ اس کا جواب سو فیصدی منفی ہے کیونکہ یہ ملک کی سالمیت خطرناک ہو گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram