سپریم کورٹ کے ذریعہ پونے پولیس کے خلاف مفاد عامہ عرضی کو خارج کیا جانا مایوس کن: پاپولر فرنٹ

پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین ای ابوبکر نے اپنے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر اپنی مایوسی ظاہر کی ہے جس میں معروف سماجی کارکنان گوتم نولکھا، سُدھا بھاردواج،وراورا راؤ، ارون فریرا اور ویرنان گونجالوس کو کالے قانون یو اے پی اے کے تحت بھیما کورے گاؤں تشدد سے جوڑنے کے لیے ان کے خلاف پونے پولیس کو اپنی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے پونے پولیس کی کہانی کے خلاف کافی ثبوت ہونے کے باوجود اسے مان لیا ہے۔ اسی وجہ سے کورٹ نے رومیلا تھاپر، دیوکا جین، ستیش دیش پابنڈے، پربھات پٹنائک اور ماجا دروولا کے ذریعہ داخل کی گئی پی آئی ایل (مفاد عامہ عرضی) میں ظاہر کی گئی تشویش کو خارج کر دیا ہے۔ یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہے کہ سپریم کورٹ اس بات کو سمجھ نہیں پائی کہ ملک میں برسرِاقتدار لوگوں کی جانب سے پولیس اور دائیں بازو کے غنڈوں کی مدد سے جمہوری آوازوں کو خاموش کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پونے پولیس نے سماجی کارکنوں کے خلاف ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ اور کردارکُنی سے لے کر میڈیا سے ساز باز تک متعدد غیرجمہوری طریقے اپنائے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود کورٹ نے تفتیش کو ایس آئی ٹی کے حوالے کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے، جو کہ پونے پولیس کو کھلی معافی دینے کے مترادف ہے۔
ای ابوبکر نے اس معاملے میں یواے پی اے کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ یواے پی اے جیسے قوانین ایک جمہوری سماج کے لیے بدنما داغ ہیں۔ چونکہ اس قسم کے قوانین کی شقیں ملزمین سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیتی ہیں اور پولیس کو بے جا اختیارات دیتی ہیں، اس لیے مخالفت کی آوازوں کو دبانے کے لیے ملک میں اس کا بہت زیادہ غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ واقعات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یواے پی اے کے اکثر مقدمات میں ملزمین کو بری ہی کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد شمعون
ڈائرکٹر، رابطہئ عامہ
مرکز، پاپولر فرنٹ آف انڈیا
نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram