سری لنکا کے وزیراعظم راجا پاکسے نے استعفیٰ دے دیا

راجا پاکسے نے ملک میں سیاسی استحکام اور تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

کولمبو: سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے ملک میں سیاسی استحکام اور تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن تجزیہ کار استعفے کو ’ڈیل‘ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد 7 ہفتوں سے جاری سیاسی بحران کے خاتمے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔راجا پاکسے کے استعفیٰ سے سری لنکا میں دو ماہ سے جاری اقتدار کی کشمش کا خاتمہ ہوجائے گا جب کہ وکرم سنگھے اتوار کو اپنے دفتر میں ذمہ داریاں سنبھالیں گے جہاں سے انہیں صدر سری سینا نے دو ماہ قبل بے دخل کردیا تھا۔سیاسی بحران کا آغاز رواں برس اکتوبر سے ہوا جب صدر سری سینا نے اپنی ہی حکومت کے وزیر اعظم وکرم سنگھے کو برطرف کر کے اپوزیشن لیڈر راجا پاکسے کو وزیراعظم مقرر کردیا جب کہ وزیراعظم وکرم سنگھے نے صدر کے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔صدر کے فیصلے کے خلاف حکمراں جماعت عدالت میں گئی لیکن اس سے قبل ہی صدر نے نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلے میں صدر کے وزیراعظم کو برطرف کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر انتخابی عمل روک دیا۔
ادھر صدر کی جانب سے وزیراعظم بنائے جانے والے راجا پاکسے نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی لیکن وہ اپنی کوشش میں ناکام رہے۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے برطرف کیے گئے وزیراعظم وکرم سنگھے پر اعتماد کا اظہار کردیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے اور پارلیمنٹ کے عدم اعتماد کے باوجود راجا پاکسے اپنا عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے جس کے لیے انہیں صدر متھری پالا سری سینا کی حمایت بھی حاصل تھی یوں ’بحران‘ بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکمراں جماعت کو عوامی حمایت حاصل ہوگئی اور صدر کے خلاف ملک گیر مظاہرے شروع ہوگئے جس نے صدر سری سینا اور وزیراعظم کے عہدہ نہ چھوڑنے پر بضد راجا پاکسے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔حکمراں جماعت کے ترجمان نے راجا پاکسے کے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ وکرم سنگھے دوبارہ اپنا دفترجوائن کرلیں گے۔ صدر سری سینا نے وکرم سنگھے سے حلف لینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ اتوار کو تقریب حلف برداری منعقد ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram