روحانی پیشوا پوپ فرانسیس کا موریشس میں بارہ گھنٹے کا دورہ

بیاسی سالہ مسیحی فرقے رومن کیتھولکس کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے پیرنو ستمبر 2019 کو جزیرئہ موریشس کا دورہ کیا۔ اس تاریخی سفر نے اہلِ موریشس کے دلوں میں جذبات و خلوص کا سیلاب پیدا کیا۔ اس دن کی تیاری بہت پہلے سے شروع ہوچکی تھی۔ ملک میں پوپ فرانسیس کی آمد کی خوشی میںعام چھٹی تھی۔ دارالخلافہ پورٹ لوئی کی چند سڑکوں کو پوپ فرانسیس کی آمد و رفت میں آسانی پیدا کرنے کے لئے بند کردی گئی تھی۔ 1989 میں پوپ جان پال دوم نے موریشس کا دورہ کیا تھا۔ تیس سال بعد بہر ہند کے جزائر کے دورے میںعیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ فرانسیس نے موزامبیک اور مدغاسکرکے بعد اپنی آمد سے اہلِ موریشس کو مسحور کر دیا۔
صبح کے دس بج کر بیس منٹ پر ائیر مدغاسکر کی فلائیٹ سے پوپ فرانسیس موریشس کے ہوائی اڈے پر اترے جہاں ا ن کے استقبال کے لئے وزیرِ اعظم جناب پراوین کمار جگناتھ اور ان کی اہلیہ اور دیگر پالیامانی ممبران موجود تھے۔ ساتھ میں رومن کیتھولک کارڈینل موریس پیات اور پادری فلیپ گوپیل بھی تھے۔ ہوائی اڈے پر لال قالین بچھائی گئی تھی اور قومی ترانے اور سپاہیوں کی سلامی سے پوپ فرانسیس کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ ان کو ایک گلدستہ بھی پیش کیا گیا۔
گیارہ بجے پوپ فرانسیس ہوائی اڈے سے روانہ ہوئے اور پورٹ لوئی کے کتھیدرل کا رخ کیا۔ پوپ فرانسیس نے تمام لوگوں کا دل جیت لیا جب آپ نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھنے سے انکار کیا اور آگے کی سیٹ پر ڈرائیور کی بغل میں بیٹھ گئے۔ جنوب سے پورٹ لوئی کی طرف جاتے ہوئے راستے پر جمع لوگوں کو سلام کرتے گئے۔ پورٹ لوئی کے کتھیدرل کے سامنے ان کے لئے خاص گاڑی بنائی گئی۔ پاپاموبیل گاڑی کے لئے اے۔بی۔سی کوچ ورک نے این پی سی ۳۰۰ کو شیشے کی گلاس اور آرام دہ صوفے سے آراستہ کیا تھا تاکہ پاپائے روم کا گزر جہاں بھی ہو لوگ ان کا دیدار کر پائیں۔ پیر سے پہلے اس گاڑی کو کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
پورٹ لوئی میں ماری رین دے لاپے (مریم امن کی ملکہ) کی کھلی فضا میں مریم کے مجسمے کے سامنے ایک لاکھ لوگ روحانی پیشوا کا دیدار کرنے، ان کی دعائیں لینے اور ان کا پیغام سننے کے لئے منتظر تھے۔ راستے کے دونوں کنارے لوگ ہاتھوں میں پام کے پتے لئے دیدار کے لئے صبح سے تیار تھے۔ اتالوی زبان میں تقریر کرتے ہوئے پوپ فرانسیس نے فرمایا کہ اصلی خوشی اپنی زندگی کو دوسروں کے لئے وقف کرنے میں ملتی ہے۔ پوپ فرانسیس کا مرکزی پیغام نوجوانوں کی رہنمائی پر مبنی تھا ۔ نو جوانوں کو موت کے سوداگر ان کی گرفت سے دور رکھنا ہے۔ نوجوانوں کی باتوں پر غور و خوص کرنے سے انہیں اپنی جگہ بنانے میں آسانی ہوگی۔ آپ کے مطابق سماج میں نئی جان ڈالنے کے لئے نئی نسل کی ترجیحات کو مرکزی اہمیت ملنی چاہئے۔ ماس کے دوران مذہبی گیتوں نے عابدوں کے دلوں کو منور کیا۔ پوپ فرانسیس کو تحائف سے بھی نوازا گیا۔
بعد ازاںپورٹ لوئی کی کتھیدرل کے پیچھے پاپائے روم کا دیگر اہم شخصیات کے ہمراہ ظہرانے کا اہتمام ہوا۔ چار بجے پاپائے روم پادری لاوال کے مقبرے پر حاضر ہوئے اورآپ نے وہاں دعائیں پڑھیں۔ پادری لاوال نے موریشس کے عوام کی خدمت میں اپنی زندگی گزاردی۔ ان کے کام کو آج بھی خلوص سے یاد کیا جاتا ہے۔
شام کو صدرِ جمہوریہ کی سرکاری رہائش،اسٹیٹ ہائوس میںسرکاری محفل کا انعقاد ہوا جہاں وزیرِ اعظم نے اپنی تقریر میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پوپ فرانسیس کا شکریہ ادا کیا۔ آپ نے بتایا کہ آپ پوپ فرانسیس کی سادگی، عاجزی و انکساری اور معلومات سے بے حد متاثر ہوئے۔ روحانی پیشوا ہمہ وقت لوگوں کی تکلیفوں کو سننے کے لئے تیار ہیں اور عوام کے مسائل سے بھی واقف ہیں۔ آپ کی آمد سے اہلِ موریشس عرفان و معرفت کی اونچی بلندیوں تک پہنچ پائے۔
پوپ فرانسیس نے اپنی آمد کی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے موریشس کی سرکارکا شکریہ اداکیا۔ آپ نے اس جزیرے کی پذیرائی کی جہاں مختلف مذاہب کے لوگ ساتھ میں ایک پر امن معاشرے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔روحانی پیشوا نے اہلِ سیاست سے بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کی مانگ کی تاکہ سب کو برابری کا موقع مل سکے۔ پوپ فرانسیس نے موریشس میں قومی یکجہتی کو سراہا۔ آپ نے صدرِ جمہوریہ اور وزیرِ اعظم کے خاندان کے افراد کو اپنے دست مبارک سے تمغے تقسیم کئے۔ پورٹ لوئی کی کیتھولکس کلیسا اور غیر سرکاری ادارہ ، سوسائیٹی پروجیک کی پہل سے موریشس، روڈیگس اور آگالیگا میں ایک لاکھ پودوں کی شجرکاری کی مہم چلائی جائے گی۔ اسٹیٹ ہائوس میںپوپ فرانسیس نے ان چھوٹے پودوں کے لئے دعائیں وقف کیں۔
شام کے سات بجے مذہبی پیشوا پوپ فرانسیس مدغاسکر کے لئے روانہ ہوئے۔ بارہ گھنٹے کا آپ کا یہ سفر موریشس کی تاریح میں درج رہے گا۔ کئی لوگوں کو آپ کا ہاتھ تھامنے کا موقع ملا۔ آپ نے معذور بچوں کو بھی دعائیں دیں۔ غرض کہ پوپ فرانسیس نے نہایت عاجزی و انکساری سے یہاں کے عوام کا دل جیت لیا۔

آبیناز جان علی
موریشس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram