سولہویں لوک سبھااسپیکر سمترا مہاجن‘اڈوانی سمیت کئی سینئر لیڈران آئندہ پرلیمنٹ ہائوس میں نظر نہیں آئیں گئے : جانیں کیوں؟؟

نئی دہلی: سولہویں لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن، اوما بھارتی اور حکم نارائن یادو بھی نئی لوک سبھا میں دکھائی نہیں دیں گے۔ گزشتہ انتخابات میں پچھلے انتخابات میں سینئر لیڈکمل ناتھ، رام ولاس پاسوان اور پی اے سنگما نویں بار لوک سبھا رکن بنے تھے۔ ان میں سے مسٹر سنگما کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ مسٹر کمل ناتھ اور مسٹر پاسوان اس بار لوک سبھا انتخابات نہیں لڑ رہے ہیں۔ آٹھ بار لوک سبھا انتخابات جیت حاصل کرچکے مسٹر کریا منڈا اور محترمہ مہاجن بھی اس بار انتخابی میدان میں نہیں اتریں۔بی جے پی نے اپنے دو سینئر لیڈروں لال کرشن اڈوانی اور مسٹر جوشی کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ پارٹی 75 سال سے زیادہ عمر کے لیڈروں کو سرگرم سیاست سے دور رکھنے کی اپنی پالیسی پر عمل کر رہی ہے جس کے مطابق کئی سینئر لیڈروں نے خود ہی الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا یا پھر انہیں ٹکٹ ہی نہیں دیا گیا۔ مسٹر اڈوانی نویں، دسویں اور 12 ویں سے 16 ویں لوک سبھا تک سات باراس کے رکن رہ چکے ہیں۔ پچھلی بار وہ گاندھی نگر سے الیکشن جیتے تھے۔ اس بار گاندھی نگر سیٹ پر بی جے پی صدر امت شاہ کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ مسٹر جوشی چھ بار لوک سبھا کے رکن رہ چکے ہیں۔ گزشتہ الیکشن میں وہ کانپور سے جیتے تھے۔مسٹر کمل ناتھ مدھیہ پردیش کی چھندواڑہ سیٹ سے لوک سبھا کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ وہ ساتویں سے دسویں اور بارہویں سے سولہویں لوک سبھا کے رکن رہے۔ مدھیہ پردیش کا وزیر اعلی ہونے کے سبب وہ اس بار لوک سبھا انتخابات نہیں لڑ رہے ہیں۔ وہ چھندواڑہ سے اسمبلی سے ضمنی انتخابات لڑ رہے ہیں۔ لوک جن شکتی پارٹی کے سربراہ رام ولاس پاسوان نے طویل عرصے تک بہار کے حاجی پور (محٖفوظ) حلقے کی نمائندگی کی ہے۔ مسٹر پاسوان چھٹی ، ساتویں اور نویں سے چودھویں اور سولہویں لوک سبھا کے رکن رہ چکے ہیں۔ وہ ایک بار سمستی پور کے روسڑا لوک سبھا حلقہ سے بھی منتخب ہوئے ہوئے تھے۔ صحت وجوہات کی بنا پر وہ اس بار الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں۔ حاجی پور سیٹ پر ان کے بھائی پشوپتی کمار پارس پارٹی کے امیدوار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram