سکھ فسادات میں کمل ناتھ کا نام آنے کا معاملہ

بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کی وزیراعلیٰ بنائے جانے کی مخالفت

نئی دہلی: کمل ناتھ نے وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالتے ہی بڑا فیصلہ لیتے ہوئے کسانوں کے قرض کو معاف کردیا ہے۔ انہوں نے انتخابات کے دوران جو عوام سے وعدہ کیا ہے اسکو پورا کردیاہے۔ لیکن دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے کانگریس کے سینئر لیڈر پر ۱۹۸۴ء کے سکھ فسادات میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں مدھیہ پردیش کا وزیراعلیٰ بنائے جانے کی مخالفت کی ہے۔کانگریس لیڈر سجن کمار کو دہلی ہائی کورٹ نے سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں آج عمر قیدکی سزا سنائی گئی ہے۔ کانگریس کے علاوہ کئی سیاسی پارٹیوں نے اس کا خیر مقدم کیا ہے لیکن کہا ہے کہ مسٹر کمل ناتھ بھی اس معاملےمیں شامل ہیں اور کانگریس کو انہیں مدھیہ پردیش کا وزیراعلی نہیں بنانا چاہئے۔بی جےپی کےسینئر لیڈر اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نےمسٹر کمل ناتھ کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ یہ ستم ظریفی ہے کہ مسٹر سجن کمار کےبارے میں فیصلہ ایسے دن آیا ہےجب سکھ سماج اور کانگریسی لیڈر کو اس معاملے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے جبکہ کانگریس اسے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف دلارہی ہے۔ خبر یہ بھی ہے کہ راجدھانی دہلی میں سکھ برادری نے مسٹر کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش کا وزیراعلیٰ بنائے جانے کی مخالفت میں مظاہرہ کیا اور ان کا پتلا نذرآتش بھی کیا۔
بی جےپی کے ترجمان سنبت پاترا نے کانگریس صدر راہل گاندھی کے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ مسٹر کمل ناتھ کا نام سکھ فسادات کی جانچ کرنے والے ناناوتی کمیشن کے سامنے پیش حلف نامہ میں ثبوبوں کے ساتھ دیا گیا انہو ںنے کہا کہ کانگریس نے ایک ایسے شخص کو مدھیہ پردیش کا وزیراعلیٰ بنایا ہے جو سکھ فسادات میں شامل ہیں اور مسٹر گاندھی کو انہیں پارٹی سے نکالنا چاہئے۔عام آدمی پارٹی کےممبر پارلیمنٹ بھگونت مان نے کہا ہے کہ کمل ناتھ کو جب پنجاب کانگریس کا انچارج بنایا گیا تھا تو لوگوں کی مخالفت پر انہیں واپس بلایا گیا تھا لیکن اب انہیں وزیراعلی کیوں بنایا جارہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram