۱۹۸۴ء کا سکھ مخالف فسادات: کانگریس لیڈر سجن کمار مجرم قرار،عمرقید کی سزا

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے ۱۹۸۴ء سکھ مخالف فساد کے معاملے میں نچلی عدالت کے فیصلہ کو پلٹتے ہوئے کانگریس لیڈر سجن کمار کو مجرم قرار دیا ہے۔ فساد بھڑکانے اور سازش رچنے کے الزام میں سجن کمار کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ کورٹ نے حالانکہ سجن کو قتل کے الزام سے بری کردیا۔ سجن کمار کو ۳۱؍ دسمبر ۲۰۱۸ء کو سرینڈر کرنا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ 1984 ء میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کا ہے۔ سکھ مخالف فسادات معاملے پر دہلی ہائی کورٹ نے فیصلہ الٹ دیا ہے۔ کانگریس لیڈر سجن کمار کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہیں 31 دسمبر تک خودسپردگی کرنا ہوگی۔ عمرقید کے علاوہ سجن کمار پر پانچ لاکھ روپئے کا جرمانہ کا بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی مجرموں کو جرمانہ کے طور پر ایک۔ ایک لاکھ روپئے دینے ہوں گے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، جس وقت فیصلہ پڑھا جا رہا تھا متاثر فریق کے وکیل رونے لگے۔ یہی نہیں، فیصلہ پڑھتے ہوئے جج کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد یکم نومبر 1984 کا ہے۔ دہلی چھاونی کے راج نگر علاقے میں ایک خاندان کے پانچ افراد کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں باقی لوگوں کو پہلے ہی قصوروار قرار دیا جا چکا ہے۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود گویل کی بینچ نے 29 اکتوبر کو سی بی آئی، فساد زدگان اور مجرموں کی طرف سے دائر اپیلوں پر دلیلیں سننے کا کام پورا کرنے کے بعد فیصلہ کو محفوظ کر لیا تھا۔سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ کئی دہائیوں سے لوگ انصاف کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جانچ ایجنسیوں کی ناکامی ہے کہ اب تک اس معاملہ میں کچھ نہیں ہوا ہے۔ مجرموں نے مئی 2013 میں آئے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سی بی آئی نے بھی اپیل دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ ‘منظم فرقہ وارانہ فسادات’ اور مذہبی طور پر صفایا کرنے‘ میں ملوث تھے۔ ایجنسی اور متاثرین نے کمار کو بری کئے جانے کے خلاف بھی اپیل دائر کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram