خادمان اردو فورم شولاپور کے زیراہتمام چوتھاعشرہ اردو ، جلسہ تقسیم اسناد اور اردو اچیورس ایوارڈ کا اہتمام

شولاپور : خادمان اردو فورم شولاپور کے زیراہتمام چوتھاعشرہ اردو ، جلسہ تقسیم اسناد اور اردو اچیورس ایوارڈ، مختلف اصنافِ نثر اور تدریسی تکنیک کے فروغ کے مقابلے نیز اردو ذریعہ تعلیم حاصل کرکے اعلا مقام حاصل کرنے والی شخصیات کے اعزاز میں ایک پروگرام محترم شیخ عبداللہ صاحب ( نائب صدر انجمن اسلام ممبئی ) کے زیر صدارت ہوٹل پرتھم شولاپور کے وسیع ہال میں منعقد کیا گیا ۔تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ سب سے پہلے عشرہ اردو کے تمام سرگرمیوں کی PPT رپورٹنگ فورم کے سکریٹری محترم ڈاکٹر شفیع چوبدار نے بے جامع انداز میں پیش کیں ۔ صدر جلسہ اور مہمانان خصوصی کا تعارف بالترتیب، عبدالمنّان شیخ ،ڈاکٹر عبدالرشید نے پیش کیا گیا۔ فورم کے صدر وقار احمد صاحب نے صدر جلسہ کا گل پیش کرکے پرتپاک استقبال کیا ۔ فورم کے خازن نذیر منشی صاحب نے مہمانِ خصوصی محترمہ روبینہ فیروز صاحبہ کا بھی گل پیش کرکے خیر مقدم کیا ۔ محترم وقار احمد شیخ صاحب نے فورم کے اغراض ومقاصد کے ساتھ عشرہ اردو کی سرگرمیوں پر، پُر مغز روشنی ڈالتے ہوئے خاص طور پر ڈراپ آوٹ طلبہ کے سنگین مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ان اہم مسائل کوسنجیدگی ک ساتھ غور وفکر کے ساتھ حل کرنے کی اپیل کی اور مظفر رزمی کے اس شعر کے ذریعے قوم کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
جلسہ کی مہمان خصوصی محترمہ روبینہ فیروز صاحبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فورم اپنے مختلف اور منفرد سرگرمیوں کے ذریعے اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے جو کام کر رہی ہے اس کی بھرپور ستائش کی اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری مادری زبان اردو ہی ہماری ترقی کی ضمانت ہے اس تعلق سے اپنے تجربات کی روشنی میں کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو سے روزگار بھی ملتا ہے، داد بھی ملتی ہے اور رتبہ بھی حاصل ہوتا ہے ۔
اردو ایچورس ایوارڈ یافتہ شخصیات میں سے محترم اقبال شیخ( سابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ) نے اپنے زرین خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسی زبان سے میرا رتبہ بڑا، حکومت سے ہمت افزائی ملی اور آج خادمان اردو فورم شولاپور نے میری عزت افزائی کی اور یہ سب میری مادری زبان اردو کا ہی کرشمہ ہے کہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں ۔ جس زبان نے جو مقام دلایا ہے میں اس کا مقروض ہوں اسلیے ہمیشہ میں نے اس کی خدمت کرنے کی کوشش کی ہے اور بقیہ زندگی اس زبان اور قوم کی خدمت کرتے رہنے کا یقین دلایا ۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے محترم عبداللہ شیخ صاحب نے کہاکہ آج کی نئی نسل زبان وادب سے دور ہوتی جارہی ہے ایسے پرآشوب ماحول میں فورم اپنے مختلف اور منفرد انداز میں اردو ادب کی جو خدمات جاری رکھے ہوئے ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ فورم مختلف اصناف نثر ، ڈراپ آوٹ طلبہ اور تدریسی ٹکنیکی فروغ کے لیے جو جد وجہد جاری رکھی ان شاء اللہ ضرور کامیابی ملے گی ۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ علم و اسلحہ ہے جس سے قوم کی تمدنی، تہذیبی و ثقافتی ، اخلاقی اور سماجی حفاظت ہوتی ہے اور قومیں معمور اور کامیاب ہوتی ہیں ۔ اردو زبان اور طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی فورم کی کوششوں کو سراہا اور ڈراپ آوٹ طلبہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بھر پور تعاون کرنے کا اعلان کیا آخر میں دل پذیر نظامت سے متاثر ہو کر محترم محمود نواز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نوجوانوں سے ہی اردو زندہ رہے گی اور فروغ پائے گی ۔
بعد ازاں اردو ایچورس ایوارڈس یافتہ محترم ایڈوکیٹ سید عباس قاضی، محترمہ ڈاکٹر نیلوفر بوہری، محترم ڈاکٹر جمیل دفعدار، محترمہ صالحہ بیگم شیخ، محترمہ شاہین انصاری اور مختلف مقابلوں میں کامیاب اور انعام یافتہ طلبہ اور اساتذہ کو اس باوقار تقریب میں ، محترم ایوب نلامندو، ڈاکٹر عبدالرشید شیخ، محترم محمد رفیق خان ، محترم زبیر چوکی نے انعام یافتہ کے نام اعلان کیے اور خصوصی مہمانان کے دست مبارک ایوارڈس، انعامات اور اسناد سے نوازا گیا ۔ اس پورے پروگرام کی نظامت محترم محمود نواز نے دل پذیر اور منفرد انداز میں پیش کرکے پروگرام کے ماحول کو بنائے ہوئے رکھا ۔آخر میں عبدالمنان شیخ نے تماموں کا شکریہ ادا کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest