شیوسینا اور بی جے پی میں نااتفاقی ،چوہے بلی کا کھیل

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جاوید جمال الدین
مہاراشٹر میں شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان بی جے پی کی اعلیٰ لیڈر شپ کے اسمبلی انتخابات کے بعد نرم رویے کی وجہ سے اتحاد ہوگیا ،لیکن روز اوّل سے دونوں میں جوتلخ کلامی شروع ہوئی وہ آخری مرحلے تک ختم نہیں ہوئی ہے ،کسی وجہ سے خود کو بی جے پی سے کمزور محسوس کررہی شیوسینا لیڈر شپ نے سخت گیر ہندتووا کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اترپردیش کے شہر اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کا مطالبہ کردیا بلکہ 25نومبر کو شیوسینا کے سربراہ ادھوٹھاکرے اجودھیا کا دورہ ہی نہیں کیا بلکہ رام للہ کے درشن بھی کرنے پہنچے ،دراصل 6 دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے روز سے شیوسینا کے آنجہانی سربراہ اور خودساختہ ’’ہندوہردیہ سمراٹ ‘‘بال ٹھاکرے دعویٰ کرتے رہے ،کارسیوکوں میں شامل شیوسینکوں نے بابری مسجد کو مسمارکردیا ،لیکن ربع صدی سے اس معاملہ کو طاق پر رکھ دیا تھا ،لیکن 2019کے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر سنگھ پریوار نے جب اجودھیا تنازع کو گرمایا تو شیوسینا نے بھی بہتی گنگامیں ہاتھ دھونے میں عافیت سمجھی ہے۔
حال میں تین ریاستوںمیں بی جے پی کی شکست کے بعد شیوسیناکے حوصلہ بلند ہیں اور وزیراعظم نریندرمودی کو راہل گاندھی کی طرح ،چوکیدار ۔چورکے لقب سے نواز نے کی کوشش کی گئی اور اسکی وجہ سے بی جے پی کی لیڈر شپ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ،ادھو کے بیان سے خفا ،خود وزیراعلیٰ فڑنویس نے کہا کہ ’’ادھوکا جواب وقت آنے پر دیا جائیگا۔‘‘حالانکہ 2017سے فڑنویس نے شیوسینا کو متنبہ کرنا شروع کردیا تھا کہ وہ اتحادمیں شامل رہنے کے باجودحکومت پر نکتہ چینی کرنا بند کرے ،کیونکہ اس کی وجہ سے حزب اختلاف کو ارباب اقتدار کو نشانہ بنانے کا موقعہ ملتا ہے ۔مگر شیوسینا نے اس وارننگ کی کوئی پرواہ نہیں کی ہے اور اپنے انداز میں بیان بازی جاری ہے۔یعنی شیوسینا نے اس معاملہ مںی کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی ہے اور ایسا توقع بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ،بلکہ جب بھی موقعہ ملتا ہے ،2014سے بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اجودھیا میں رام مندر کے تعمیرکے معاملہ میں ایسے وقت میں گھیرکیا جب بی جے پی کی ہمنوا تنظیمیں نے اپنے مطالبات میں شدت پیدا کردی تھی ،شیوسینا نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی نے ہندوئوں کو بے وقوف بنایا ہے ۔ملک کے کئی علاقوںمیں بی جے پی مخالف لہر کوشیوسینا نے بھنانے کی کوشش کی ہے جس سے بی جے پی کے خیمے میں گھبراہٹ پیدا ہوگئی ہے ، ادھوٹھاکرے نے جو رویہ اپنایا ہے ،اس کے باوجود شیوسینا لیڈر شپ اس بات سے واقف ہے کہ بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کیونکہ بال ٹھاکرے کا دورفی الحال لدچکا ہے اور انہوںنے کئی موقعوں پر پارٹی کو کامیابی ہمکنار کرایا تھا ،وہ طاقت اور بل موجودہ لیڈر شپ میںکہیں نظرنہیں آتی ہے۔
مہاراشٹر میں اکیلے انتخابات لڑنا شیوسینا کے لیے ممکن نہیں نظرآرہا ہے ،کیونکہ شیوسینا نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں محض 63حلقوںمیںکامیابی حاصل کی تھی جبکہ بی جیپی نے اسے چاروں خانے چت کرتے ہوئے 122نشستیں حاصل کیں ،اور یہ کھلی کتاب کی طرح ہے کہ شیوسینا اپنے سخت گیر رویہ اور ہندتووا کے نظریات کے مدنظر کسی دوسرے محاذ میں شامل نہیں ہوسکتی ہے ،بلکہ اس کا مہاراشٹر میں بڑے بھائی کا خمار بھی اسکے سرسے اترا نہیں ہے اور بی جے پی کو آرے ہاتھوںلینے کے باوجود وہ اسکا ہی دامن تھام لیتی ہے۔بی جے پی نے ان چاربرسوں کے دوران شیوسینا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھی ہے ،جس کے سبب شیوسینا مہاراشٹر کے کئی خطوںمیں کمزور ہوئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندتووا اور اجودھیا کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے کیونکہ لوک سبھا انتخابات چند ماہ بعد ہی ہیں ۔
ہندی ہارٹ لائن کہے جانے والے علاقہ کی تین اہم ریاستوںمدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی شکست فاش کے پیش نظربی جے پی اپنے این ڈی اے اتحادیوںکے ساتھ نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے،اسی کا ادھوٹھاکرے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ بی جے پی پر حملہ بول رہے ہیں ،حالانکہ شیوسینا اپنی کمزوریوں سے بالکل واقف ہے اور اتحاد میں شامل ہونے کے باوجوداس کا رویہ اپوزیشن سے بھی بدتر ہے ،یہاں یہ بپی کہا جاسکتا ہے کہ شیوسینا دوہرا رویہ اپنا رہا ہے،فی الحال وہ ارباب اختلاف کے خلاف چیخ وپکار کرتے رہیں ،لیکن آخری مرحلہ میں بی جے پی کا دامن تھام لے ۔
چندروز قبل ممبئی کے دورہ کے موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدرامت شاہ نے اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا کہ شیوسینا آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی قیادت والے اتحاد کا حصہ رہیگی اور بی جے پی ۔این ڈی اے نریندرمودی کی قیادت میں لڑے جائیں گے،امت شاہ نے واضح طورپر کہا کہ شیوسینا کے ساتھ ہونے کا انہیں پورا یقین ہے۔
حالانکہ انہوںنے دعویٰ کیا ہے کہ 2019انتخابات میں لیڈرشپ کی تبدیلی کا کوئی سوال ہی نہیں ہے اور آئندہ الیکشن میں ہمیںبھاری اکثریت حاصل ہوگی ،انہوں مثال دی کہ 2014میں بی جے پی کا چھ ریاستوںمیں اقتدار تھا ،اورفی الحال 16ریاستوںمیں برسراقتدار ہیں ۔ امت شاہ کا بیان اس لیے کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ حال میں مہاراشٹر کے کسان لیڈر کشورتیواری نے آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور جنرل سکریٹری بھیا جی جوشی کو روانہ کیے گئے مکتوب میں مودی کو ایک ضدی لیڈر قراردیا ہے اور وزیر برائے نقل وحمل نتین گڈکری کو قیادت سونپنے کا مطالبہ کیا ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مکتوب کے بارے میں میڈیا میں خبریں آنے کے بعد نتین گڈکری کے متنازع بیانات بھی سامنے آگے لگے ہیں اور اس بات کا گمان لگایا جارہا ہیکہ سنگھ پریوار کے اشارے پر گڈکری اور ان کے حامی سرگرم ہوئے ہیں ،حالانکہ امت شاہ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ریاستی الیکشن الگ موضوع پر اور مرکزی انتخابات قومی مسائل پر لڑے جاتے ہیں ۔اور 2019میں بدعنوانی ،قومی سلامتی اہم موضوع ہوں گے اورلاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔اس کے برعکس بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں حالیہ اسمبلی انتخابات کے دوران رام مندر کی اجودھیا میں تعمیر کے لیے نئی نئی مہم شروع کرتی نظرآئی ہیں ،یہی پالیسی شیوسینانے بھی اپنائی ہے ،
شیوسینا نے قریبی کلیان شہر میں میٹرریل منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شیوسینا سربراہ ادھوٹھاکرے کو مدعونہ کیے جانے پر تقریب کا بائیکاٹ کیا،جس میں وزیر اعظم نریندرمودی مہمان خصوصی تھے۔گزشتہ چھ ماہ سے شیوسینا مودی حکومت کے کام کاج پر سخت نکتہ چینی کرتی نظرآرہی ہے ،بلکہ کئی معاملات میں انہوںنے سخت گیر انداز اپنایا ہے۔
واضح رہے کہ حال میں پانچ ریاستوںمیں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بری طرح شکست سے دوچار بی جے پی نے آئندہ لوک سبھا انتخابات کے لیے کمر کس لی ہے۔اوراس کے لیڈران ان اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سے تلنگانہ میں مہاگٹھ بندھن کی شکست کاراگ الاپ رہے ہیں۔لیکن آرایس ایس اور بی جے پی کے ایک اندرونی سروے میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ اگر دونوں پارٹیوں نے مہاراشٹر میں ایک ساتھ الیکشن نہیں لڑا تو کانگریس ۔این سی پی کے مقابلہ میں وہ چاروںخانے چت ہوجائیں گے کیونکہ ان چارسال میں فڑنویس حکومت کسانوں ،چھوٹے تاجروںاور چھوٹی صنعتوں کے فروغ اور ترقی کے لیے کچھ نہیں کرپائی ہے جبکہ متوسط طبقہ سب سے زیادہ بے حال ہے۔اس لیے ادھوٹھاکرے کو ایک بار پھر رامکرنے کے لیے امت شاہ نے ممبئی میں ماتوشری کے چکر لگانے شروع کردیئے ہیں ،ویسے شیوسینا اکیلے کچھ کرنے کی حالت میں نظرنہیں آرہی ہے ۔

javedjamaluddin@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram