گئوکشی کی آڑ میں شملہ کی فضا کومکدرکرنے کی شرپسند عناصر کی سازش ناکام

شملہ:بلند شہر ضلع کے قصبہ سیانہ میں گزشتہ روز گئوکشی اور موب لنچنگ میں پولیس انسپکٹر اور ایک دیگر شخص کی موت کے بعد ہندوسخت گیر تنظیموں کی ہمت بڑھتی ہی جارہی ہے۔ شرپسند عناصر نے بلندشہر کےسیانہ کے بعد شملہ کی فضا کو مکدر کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ لیکن انتظامیہ کی بروقت مستعدی سے حالات پر قابو پالیاگیا ہے۔ تفصیلات کے م طابق تحصیل روہرو میں ارہال روڈ پر واقع ایک عمارت سے کسی جانور کا کٹا ہوا سر ملنے کے بعد ہندو گروپوں نے مظاہرہ کرنا شروع کر دیا اور وہاں پرموجود مسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی۔ کسی جانور کی باقیات برآمد ہونا، شرپسندوں کاانہیں گائے کی باقیات قرار دے کر ماحول کو خراب کرنا آر ایس ایس ، بی جے پی اور متشدد ہندو تنظیموں کاکارکر حربہ بنتا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق شملہ کے ضلع میں ہندو شرپسندوں نے کسی جانور کا کٹا ہوا سر ملنے کے بعد ہنگامہ آرائی کی۔روہرو تحصیل میں ہنگامہ کرنے والے سخت گیر ہندوؤں کا الزام ہے کہ کٹا ہوا سر گائے کا ہے۔ شرپسندوں نے مسلمانوں پر گائے کے قتل کا الزام عائد کیا اور مسلمانوں کی کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق شملہ کی تحصیل روہرو میں ارہال روڈ پر واقع ایک عمارت سے کسی جانور کا کٹا ہوا سر ملنے کے بعد ہندو گروپوں نے مظاہرہ کرنا شروع کر دیا اور وہاں پرموجود مسلمانوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی۔ شملہ کے ایس پی پرمود شکلا نے کہا، ’’حالات کشیدہ لیکن قابو میں ہیں۔ گئو کشی کے معاملہ میں کسی کو قصور وار پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest