اب 9 گھنٹے کی شفٹ ۔سرکاری ملازمین مشکل میں

ذیادہ تر آفس سرکاری یا پرائیوٹ سب میں 8گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی ہے لیکن مرکزی سرکار اب ان کام کے اوقات کو تبدیل کرنے جارہی ہے اوراس تبدیلی، کے بعد 9 گھنٹے کرنی پڑ سکتی ہے شفٹ
مرکزی حکومت نے ویج کوڈ رولس کا ڈرافٹ جاری کیا ہے۔ اس ڈرافٹ میں حکومت نے 9 گھنٹے کام کرنے کی سفارش کی ہے۔ ایسا لگتا ہے دنیا آگے کمی طرف جارہی ہے اور ہندوستان پیچھے کی جانب ۔ کیونکہ ذیادہ تر مغربی ممالک میں ٌ 8گھنٹے کی ڈیوٹی کے ساتھ بے پناہ سہولیات بھی ہیں ۔گھر سے بھی کام کرنے کی اجاذت مل جاتی ہے ۔ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں بہت سے سرکاری دفتر بھی ہفتے کو کھلے رہتے ہیں ۔ابھی حکومت نے اس کے لئے ویجز کا اور تنخواہ کا کوئی واضح ڈرافٹ نہیں رکھا ہے لیکن یہ ضرور کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایکسپرٹ کمیٹی کم سے کم ویجز طے کرنے کی سفارش حکومت سے کرے گی۔ اس کے علاوہ موجودہ وقت میں چل رہے 8 وزارت برائے محنت کے ایک انٹرنل پینل نے جنوری میں اپنی رپورٹ میں 375 روپئے روزانہ کے حساب سے نیشنل منیمم ویج طے کرنے کی سفارش کی تھی۔ پینل نے اس منیمم ویج کو جولائی 2018 سے نافذ کرنے کو کہا تھا۔وزارت برائے محنت کے ایک انٹرنل پینل نے جنوری میں اپنی رپورٹ میں 375 روپئے روزانہ کے حساب سے نیشنل منیمم ویج طے کرنے کی سفارش کی تھی۔ پینل نے اس منیمم ویج کو جولائی 2018 سے نافذ کرنے کو کہا تھا۔ایک سات رکنی پینل بنایا گیا تھا جس کے تحت 9750ماہانہ روپےرکھنے کی سفارش کی تھی۔ ساتھ ہی شہری کارکنوں کے لئے 1430 روپئے کا ہاؤسنگ الاؤنس دینےکا مشورہ دیاگیا تھا ۔ابھی دیکھتے ہیں اس اسکیم میں کتنا وقت لگتا ہے اور حکومت اسے کب سے نافذ کرتی ہے۔لیکن 9گھنٹے بہت ذیادہ ہیں آفس آنے اور جانے میں بھی بہت وقت لگتا ہے۔اور کبھی کبھی تو ٹریفک جام کی وجہ سے رات تک ہی واپسی ممکن ہوپاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram