قیامِ مشیرِ سخن و ادبی شعری نشست

نئی دہلی۔24؍نومبر
استاذ الاساتذہ حضرت مشیرجھنجھانوی کی یاد میں ترسیل فائونڈیشن رجسٹرڈ ،دہلی کے زیرسرپرستی ادبی تنظیم ’’مشیرِسخن ‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس موقع پر ان کے شاگردِ رشید جناب شاہد انور نے اپنی قیام گاہ پر ایک پرتکلف شعری نشست کا اہتمام کیا جس کی صدارت مشہور صحافی، ادیب و شاعر جناب فاروق ارگلی نے فرمائی ۔ مہمانِ خصوصی کے طور پر معروف ناقد جناب حقانی القاسمی و ڈاکٹر عفت زریں نے شرکت کی۔ نشست میں پڑھے گئے کلام کے منتخب اشعارقارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے پیش ہیں:
موسم کے ساتھ لوگوں نے پیشے بدل لیے
قاتل بھی دردِ دل کی دوا بیچنے لگے
(فاروق ارگلی)
یہ کس نے آج تکبر کے پر جلا ڈالے
کہ اب ہوائیں چراغوں سے بچ کے چلتی ہیں
(عرفان اعظمی)
مجھ سے سیاہ رات کی سچائیاں نہ پوچھ
کیسے چمکنے لگتی ہیں پرچھائیاں نہ پوچھ
(منیر ہمدم)
میری دنیا میں میرے لوگ کہاں رہتے ہیں
کارواں چھوڑ کے منزل کے نشاں رہتے ہیں
(ڈاکٹر عفت زرّیں)
مرہمِ خواب سے زخموں کو بچاکر رکھنا
مرہمِ خواب میں ناخون بھی ہوسکتا ہے
(ارشد ندیم)
کچھ تو ہو دادِ شجاعت کا ذَرِیعَہ شاہدؔ
لے چلو ساتھ یہ ٹوٹی ہوئی شمشیریں بھی
(شاہدؔانور)
جوشِ جنوں سے چاکِ گریبان کرلیا
بے کار اک قمیص کا نقصان کرلیا
(عاصم پیرزادہ)
پاک و شفاف رہے ان سے ملاقات مری
اے ہوس تجھ کو بیاں تک نہیں آنے دوںگا
(معین قریشی)
کیوں کسی چاند کا احسان اٹھایا جائے
یعنی رستہ تو یہ جگنو بھی دکھاتا ہے مجھے
(معین شاداب)
میرے تن پر لباس کچھ تو ہے
سوت ہو یا کپاس کچھ تو ہے
(جاوید مشیری)
جسم کو تو خیر میں کیا ہی بچا پاتا مگر
دھوپ اتنی تیز تھی کہ میرا سایہ جل گیا
(خالد اخلاق)
شامِ وعدہ ہے اگر اب بھی نہ آئے تو پھر
فرض کرلیجیے کہ بادل آگ برسائے تو پھر
(قمر انجم)
خوشبوئوں سے بنائیں گے تم کو
رنگ سے تو بڑی سہولت ہے
(طارق عثمانی)
تیری باتوں سے دل بہلتا تھا
پر تری چپ سے ڈر گیا ہوں میں
(عمران راہی)
آئینے میں روز دِکھتا ہے مجھے
آندھیوں سے اک شجر لڑتا ہوا
(سیف الدین سیف)
وہ لکھ کر خوب شرمایا ہمارا نام اردو میں
محبت کررہی تھی چوری چوری کام اردو میں
(انس فیضی)
بدل کے طرزِ عمل تم جہاں بدل ڈالو
اٹھو اے خرد کس کے انتظار میں ہو
(سراج طالب)
تمثیل بن گئی ہے جہاں حسن کی کشش
یوسف کے ساتھ مصر کا بازار دیکھیے
(چشمہ فاروقی)
زنجیر پیٹتا ہوں زمیں پر جنون میں
صحرا سے چل رہا ہے ادھورا معاشقہ
(شاہ رخ عبیر)
چاروں طرف سے خود میں لگائی گئی تھی آگ
چاروں طرف ہی روشنی بڑھتی چلی گئی
(علی ساجد)
ان کے علاوہ سامعین کی حیثیت محمد ہارون صاحب، بہزاد صاحب ، ندیم صاحب، غلام محمد صاحب، مقصود احمد صاحب اور عبدالرحیم صاحب نے شرکت کی۔

تصویر میں دائیں سے: انس فیضی، قمرانجم، عاصم پیرزادہ، عرفان اعظمی، منیرہمدم، ارشد ندیم، شاہد انور، فاروق ارگلی، معین شاداب اور محمد ہارون کو دیکھا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *