اک شمع رہ گئی تھی سووہ بھی خموش ہے:ڈاکٹرراحتؔ مظاہری

علمی ودینی کاوشوںکے علاوہ دنیابھرمیںپھیلے مخصوص دعوت وتبلیغ کے کام کے لئے مشہورقصبہ کاندھلے کے علمی گھرانے کے نامورپیکرعلم وعمل ’مرکزدعوت وتبلیغ بنگلے والی مسجد حضرت نظام الدین کے سرپرست اعلیٰ،علم حدیث کی خدمات کے لئے عالم میںمشہورومعروف مدرسہ مظاہرعلوم (سہارنپور)کے سب سے قدیم سرپرست افتخارالاولیاء حضرت مولاناافتخارالحسن کاندھلوی کاسانحۂ ارتحال یقینی طورپر ہندوستانی مسلمانوںکے لئے ایک سانحۂ عظیم کی حیثیت رکھتاہے ،آپ عوام وخواص میںایک مقبول ومتقی عالم دین،بحرناپیداکنار اورمستجاب الدعوات کے طورپرمشہورتھیجن کاصدمہ ہمارے لئے یقیناایک کوہِ گراںہے۔
حضرت والاکی علمی وعملی ذات ہشت پہلوشخصیت کے طورپرمتعارف تھی کیونکہ بیک وقت وہ ایک بہترین مرشدکامل ومرجع سلوک ہونے کے ساتھ ساتھ مثالی مفسرقرآن، شیخ التفسیر،صاحب بصیرت مفتی وفقیہ اوربہترین مبلغ ومجاہد بھی تھے، آزادی وطن کے بعد جب ہماچل، ہریانہ اورپنجاب جیسے زرخیز اورکثیرمسلم آبادی والے علاقوں سے وہاںکے مسلم باشندے اسلام کے نام پر تشکیل ہونے والی نئی مملکت کی طرف کوچ کرگئے توان علاقوںمیں کمزور، بے بس غریب ،ناخواندہ یاخدمت پیشہ لوگ ہی باقی رہ گئے تھے جن کے ایمان پرڈاکہ ڈالنے کے لئے ’شدّھی کرن، کے نام سے الحادی تحریک’’شُدّھی سنگھٹن،، نے ان کمزورغلامانِ مصطفیﷺ کومال وزرکے لالچ کے کے ساتھ باقاعدہ قتل وغارت کی دھمکیوںکے حربوںسے اسلام سے منحرف کرنے کے لئے منظم سازش کے تحت ،شُدّھی سنگھٹن،، تحریک چلائی توا س وقت ’جمعیۃ علمائے ہند ،نے ملک کے باشعور طبقات اوراہل علم کے ذریعہ اس حربے کوناکام بنانے اورمسلمانوںکی دینی رہنمائی کے لئے اپنے فضلاء اور اہل علم کواس ناپاک تحریککے خلاف میدان میںاتارکر عظیم مجاہدہ کاکام کیاتواسی کے ساتھ حضرت مولانامفتی افتخارا لحسن کاندھلوی ؒنے اپنے مخصوص اندازفکراورطریقہ کارسے انفرادی طورپران علاقوںمیں گاؤں گاؤں ، بستی بستی اورگھرگھرجاکر کمزورایمان مسلمانوںکی دینی وعلمی تربیت فرماکران کوکفروشرک کی کھائی سے بچانے کاکام کیا،اوربعد میںان کی مستقل دینی رہنمائی کے لئے وہاںمدارس اسلامیہ کاجال پھیلایاجیساکہ فن قرأت کی خدمات اور قرآن کرام کی قرأت کے لئے عالم اسلام میں مشہور ’پانی پتی لہجہ، کے لئے مشہورقاری عبدالرحمٰن پانی پتیؒ کے وطن شہرپانی پت و گرودونواح میں کئی نئے مدرسے کھلوائے، جہاںعلم کاچراغ گُل ہوگیاتھاان کودوبارہ آباد کیا۔اسی طرح آپ کوہندوستان بھر میں ایک مشہورومعروف مرشدِسلوک، شیخ کامل اورصوفی ٔ باصفاکے عنوان سے بھی پہچانا جاتاہے ، اکیلے شہردہلی ہی میںآپ کے متوسلیں کی تعدادہزاروںسے اوپرہے۔ آپ حضرت شاہ عبدالقادر رائپوریؒ کے ان اجلّ خلفاء میں ہیں جن کوکم عمری ہی میں شاہ صاحب نے اجازت سے سرفرازفرمادیاتھا،جیساکہ شواہدات سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کی پیدائش کا سن 1922ہے اورآپ کوآزادی ہند کے سال1947میں آپ کے مرشد نے اپنامُجاز بیعت بنالیایعنیصرف25 برس کی عمرہی میںآپ کوخلافتسے نوازدیاگیاتھا،چونکہ آپ کامزاج علمی وتحقیقی تھااس لئے اسی کم عمری ہی کے زمانے میں آپ نے کچھ مسائل پرمجددالملت حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ سے بھی خط وکتابت کی ، آپ نیشیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمدمدنی ؒسے بھی استفادہ کیا۔
آپ ایک بہترین مفسرقرآن تھے، قرآنی مفاہیم وموادپر گہری نظرتھی، آپ فرماتے تھے کہ میرے پیرومرشدنے مجھے دیگرفرقوںاورمسالک کی تفسیروںکے باقاعدہ مطالعہ کامشورہ دیاتھاکہ باطل فرقوںکامطالعہ کئے بغیران کاردناممکن ہے، آپ نے تقریباََ52سال کے طویل عرصہ تک اپنے محلہ کی مسجد اورکاندھلہ کی جامع مسجدمیں درس قرآن کاسلسلہ جاری رکھا تاریخی حوالوںکے مطابق آپ نے خلافت آدم اورملائکہ کے اشکال کے موضوع پر قرآن کریم کی ایک ہی آیت ’واذقلناللملائکۃ اسجدولآدم۔۔۔(35/2)پرمسلسل 45روز تک بحث کی۔نیز عوامی اصلاح کی غرض سے خواجہ صابرعلاؤالدین ؒ کے عرس کے موقع پرکلیرشریف میں آستانے کی مسجد میںبھی تفسیرفرمائی۔ آپ کے تفسیری نکات لطائف وحکم سے لطف اندوزہونے کے لئے آپ کی مرتبہ کتاب’’تقاریرتفسیر،، کامطالعہ ازحدمفیدثابت ہوگا۔آپ کے تفسیری سلسلہ کے آخری ختم میں مفکراسلام اورپیربھائی حضرت مولانا ابوالحسن علی میاںندوی ؒکی شرکت تاریخ کاندھلہ کااہم جزوہے،آپ کاخاندان دراصل جھنجانہ سے منتقل ہوکرکاندھلہ آبادہواتھااس خانوادہ عہد جہانگیری میں حضرت مولانااشرف علی جھنجانویؒ سے خانقاہی سلسلہ شروع کیا،جن کے بارے میںبڑے پیرصاحب حضرت شاہ عبدالقادربغدادیؒ کے ایک خلیفہ کی پیشین گوئی بھی تھی ان کے گھرانے میںعلم کاسلسلہ جاری رہے گا، آپ کے مشہور اہل علم اجدادمیں خاتم مثنوی حضرت مولانامفتی الٰہی بخش کاندھلویؒ کانام نامی شہرۂ آفاق ہے ،جن کے نام پرقائم حضرت مرحوم کے بڑے صاحبزادے مؤرخ اسلام مولانانورالحسن راشدکاندھلوی ــ’’مفتی الٰہی بخش اکیڈمی،،کے ذریعہ نادرونایاب کتابوںکی حفاظت کے علاوہ علمی خزینوںکی نشرواشاعت میں مصروف ومنہمک ہیں۔چونکہ حضرت مولاناایک علمی شخصیت تھے اس لئے آپ نے ایک جدی بزرگ کے ذریعہ قائم کردہ مدرسہ سلیمانیہ عیدگاہ کاندھلہ جوعرصہ سے بندپڑاتھااس کی نشاۃ ثانیہ کابیڑااٹھایاجس کاشمار علاقے کے معتبر مدراس میںہوتاہے اس کے مہتمم آپ کے لائق ورپوتے نوجوان عالم حضرت مولانا مولانامفتی ابوالحسن ارشدکاندھلوی ہیں۔
آپ نہایت متقی، شب بیدار، زندہ دل، صاحب نسبت اوراہل کشف وکرامات بزرگ تھے جن کے بہت سارے واقعات اہل علاقہ اورقریبی لوگوںکی زباںزد ہیں مشتے نمونہ ازخروارے کے طورپراپنی سرگذشت کے علاوہ دوواقعوںپر اکتفاکرتاہوں میرے مخلص دوست ڈاکٹرزین العابدین مرحوم کافی عرصہ سے شوگرکے مریض تھے ، طبیعت بگڑتی چلی گئی ، اسی میں اچانک کسی بھی وقت الٹی ہونے لگتی اورخودہی اپنی ناک سے بدبومحسوس کرتے ، مجھ سے کہاچلوکاندھلہ چلیںحضرت سے دعاکرائیںگے،میںپہلے ہی حضرت کی عقیدت کااسیرہوچکاتھا اوربرادرعزیزمفتی ذکاوت حسین سلّمہ مدرسہ سلیمانیہ میںحضرت کے پاس آنے والے استفتاء کے جواب پرمامورتھے ، حضرت کے آستانے پرپہنچے ، ، حضرت نے اپنے مزاج کے مطابق پہلے ڈاکٹرصاحب کانام پوچھااورپھرسرپرہاتھ رکھ کرایک دعاپڑھی، ڈاکٹرصاحب ابھی سرجھکائے ہی تھے کہ گردن سیدھی کرتے ہوئے ایک دم بولے’’ فائدہ محسو س ہورہاہے،، اورپھروہی دعابوقت ضرورت پڑھی جاتی رہی کہ الحمدللہ ناک کی بدبوجاتی رہی،غا لباََیہ سحرکااثرتھا۔
یادش بخیر!مجاہدآزادی اورمدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے بانی حضرت مولانارحمت اللہ کیرانوی ؒکے مسکن قصبہ کیرانہ میںدوست محترم قاری جان عالم کیرانوی کے ہمراہ جانا ہواوہاںکی مشہورتاریخی جامع مسجد کے بعد قصبہ کی ایک نئی آبادی میں تالاب کے کنارے نو تعمیرمسجدمیںبھی جانے کااتفاق ہوا معلوم ہواکہ جب یہ مسجدتعمیرہوئی تو مچھروںکی زیادتی سے نمازی پریشان تھے،تالاب میں سمندرسوکھ گھاس تھی جس میں مچھرپنپ رہے تھے،حضرت سے دعاکی درخواست کی گئی توآپ نے مسجدکے امام صاحب کو قرآن کریم کوئی آیت ایک خاص تعدادمیںپڑھ کرتین روزتک ایک لوٹاپانی پردم کر کرکے اس کو برابرکے تالاب میں ڈالنے کا حکم فرمایا، پانی کاڈالناتھا کہ سمندرسوکھ خشک ہوگیااورنمازیوںکو مچھر سے نجات مل گئی،اسی طرح کے اوربھی بیشمار واقعات زباںزدومشہورہیں۔
ایک نظرمیںحضرت مولانا مفتی افتخارالحسن کاندھلویؒ
ولادت: 10جمادی الاول1340ھ(10/1/1922)کوہوئی،والدحضرت مولانارؤف الحسن کاندھلوی کی دوشادیاںہوئیں
فرزندوںمیں پہلی اہلیہ سے حضرت مولانا نجم الحسنؒ،حضرت مولانا احتشام الحسن ؒ،حضرت مولانا حکیم قمرالحسنؒ
دوسری اہلیہ سے حضرت مولانا اظہارالحسنؒ،حضرت مولانا افتخارالحسنؒصاحبان۔
مظاہرعلوم سہارنپورسے فراغت 1938،خلافت:1974 وفات:27رمضان المبارک1440ھ(2/6/2019)
آپ کاشجرہ :حضرت مولانارؤف الحسن کاندھلوی ولدمولاناضیاء الحسن محمدصادق، ولدمولانانورالحسن، ولدمولاناابوالحسن،ولدمولانامفتی الٰہی بخش صاحب نوراللہ مرقدہٗ۔
خلفاء کی تعداد: 47ہے،جن میں40بقید حیات رہ کراس سلسلہ کوآگے بڑھارہے اور7اللہ کوپیارے ہوچکے ہیں
اولاد:مولانا نورالحسن راشدکاندھلوی،مولاناضیاء الحسن،مولانابدرالحسن،اورچاربیٹیاں۔
مشہورخلفاء : حضرت مولانامحمدزبیرکاندھلوی مرحوم (سابق امیردعوت وتبلیغ مرکزحضرت نظام الدین دہلی)حضرت مولانامحمدکامل مرحوم(بانی ومہتمم مدرسہ گڈھی دولت، ضلع مظفرنگر) حضرت مولانامحمدناصر مرحوم(تاؤلی، ضلع مظفرنگر) مؤرخ اسلام حضرت مولانا نورالحسن راشدکاندھلوی،حضرت مولانامحمدسعدکاندھلوی ( امیردعوت وتبلیغ مرکزحضرت نظام الدین دہلی)حضرت مولانامحمدقاسم(میل کھیڑہ،ہریانہ)حضرت مولانامفتی ابوالحسن ارشدکاندھلوی، حضرت مولانامحمدذاکر(مفتیٔ شہرجے پور،راجستھان) حضرت مولانا ارتضاء الحسن رضیؔ کاندھلوی (قطر)حضرت مولاناارتقاء الحسن رقیؔ کاندھلوی (مفتیٔ اعظم حکومت پنجاب)حضرت مولانامحمدشعبان مظاہری، بستوی (صدرمدرس مدرسہ سلیمانیہ کاندھلہ) حضرت مولانامفتی ذکاوت حسین قاسمی (مفتی وشیخ الحدیث مدرسہ امینیہ دہلی)وغیرہ
فقط :راحتؔ مظاہری
(یکے از قدم بوسانِ حضرت مرحوم)
9891562005

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest