ملک شام، جو بچوں کا ’مقتل‘ بن گیا

یورپی دارالحکومت برسلز میں جاری ’تیسری عالمی ڈونر کانفرنس برائے شام‘ کے موقع پر یونیسف کی جاری کردہ اپیل کے مطابق 1106 ہلاکتوں کے ساتھ 2018 شامی بچوں کے لیے بدترین سال تھا۔

یونیسف کی اپیل شام کے متحارب فریقوں، ہمسایہ ممالک (اردن، مصر، عراق، لبنان اور ترکی)، ہنگامی اور طویل المدتی انسانی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں اور حکومتوں کو متنبہ کرتی ہے کہ شام کے بچے پہلے سے زیادہ مشکل صورت حال کا شکار ہیں۔ 2018 اس حوالے سے بدترین سال تھا کہ جب 1106 بچے جنگ کا ایندھن بن گئے۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ یہ صرف ان بچوں کی تعداد ہے جن کی ہلاکت کی تصدیق اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کر پائے ہیں ورنہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔2018 میں تعلیمی اداروں اور صحت کے مراکز پر 262 حملے ہوئے جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ شام کے لیے یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فورے کے مطابق، ’بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے گزشتہ برس 434 بچے ہلاک اور شدید زخمی ہوئے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں شمال مغربی شام میں تقریبا 59 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف شام کے شمال مشرق میں واقع الہول کیمپ میں 65000 لوگ موجود ہیں جن میں 240 لاوارث بچے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران، باغوز سے کیمپ تک 300 کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے 60 بچے ہلاک ہو گئے۔‘ رپورٹ کے مطابق، 26لاکھ شامی ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین ہیں جو اتنی بڑی آبادی کو رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے قاصر ہیں لہذا چائلڈ لیبر، جنسی استحصال، اغوا اور نوعمری میں شادی جیسے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔یونیسف نے ڈونر کانفرنس سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے مفادات کو ترجیح دی جائے اور ان کی مناسب دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہوئے یہ مت دیکھا جائے کہ ان کا خاندان کس فریق سے تعلق رکھتا ہے۔ شام کے مصیبت زدہ خاندانوں اور ان کے بچوں کی ہنگامی اور طویل المدتی امداد اور بحالی کے لیے موجودہ سطح سے کہیں زیادہ مالی وسائل درکار ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest