غزل

ہر گو شۂ چمن میں بہاروں کی فصل ہے
تیرے بغیر روح میں خاروں کی فصل ہے

میں آسمان کے چاند کو دیکھوں گا پھر کبھی
پیش نظر زمیں کے ستاروں کی فصل ہے

لفظوں میں بات کرنے کا موقع نہیں ہے یہ
اے ہم نشیں ابھی تو اشارو ں کی فصل ہے

دل میں خلوص چاہئے ماحول کچھ بھی ہو
جس سمت دیکھئے وہیں یاروں کی فصل ہے

خود اپنی طاقتوں سے نشیمن سنبھالیں ہم
سمجھو اُ ٹھو چلو کہ شراروں کی فصل ہے

چلتے رہو مسافرو منزل کی آس پر
دراصل ابھی تو راہگذاروں کی فصل ہے

ارض وسما میں چار سو دیکھا ہے یہ شکیلؔ
بس اس کے دلنواز نظاروں کی فصل ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest