شاہین باغ جیت گیا، بی جے پی ہارگئی ۔معصوم مرادآبادی

 

Image result for masoom muradabadi

شاہین باغ جیت گیا، بی جے پی ہارگئی
معصوم مرادآبادی
دہلی کے انتخابی میدان میں شکست فاش سے دوچار ہونے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے تسلیم کیا ہے کہ’ گولی مارو‘ اور ’ہند پاک میچ ‘جیسے بیانات دہلی میں پارٹی کی کراری ہار کا سبب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈروں کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہیے تھے۔پارٹی نے بھی خود کو ایسے بیانات سے الگ کرلیا تھا ۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ ان بیانات سے ہمیں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک نیوزچینل کے پروگرام میں امت شاہ نے کہا کہ’’ یہ چناؤسی اے اے اور این آر سی پر ریفرنڈم نہیں تھا۔ باتو ں باتوں میں انھوں نے شاہین باغ میں گذشتہ دوماہ سے دھرنے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کوبھی بات چیت کی دعوت دی۔یہ وہی امت شاہ ہیں جو ابھی پچھلے ہفتہ تک دہلی کے عوام سے ای وی ایم کا بٹن اتنی زور سے دبانے کے لئے کہہ رہے تھے کہ اس کا کرنٹ شاہین باغ تک پہنچے۔انھوں نے دہلی کی انتخابی جنگ کوہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک خطرناک معرکہ میں تبدیل کردیا تھا۔ انتہائی زہریلی انتخابی مہم سے دہلی کی فضا اتنی آلودہ ہوگئی تھی کہ لوگوں کو سانس لینا مشکل ہورہا تھا۔ لیکن جیسے ہی گیارہ فروری کو ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی تو غرور سے اکڑے ہوئے بی جے پی لیڈروں کے چہرے ان کی گردنوں کے اندر دھنس گئے۔ کیونکہ دہلی کے عوام نے شرمناک فرقہ وارانہ ایجنڈے کو مسترد کرکے صحت و تعلیم اور بجلی و پانی جیسے موضوعات پر ووٹ دیا اور بی جے پی کو ھول چٹادی ۔ اب بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر اپنے ان زخموں کو چاٹ رہے ہیں ، جو انھیں دہلی کے عوام نے ای وی ایم کے ذریعہ دئیے ہیں۔ جو کرنٹ شاہین باغ میں دوڑانے کی کو شش کی جا رہی تھی‘ وہ اب بی جے پی لیڈروں کے بدن میں دوڑ رہا ہے اور وہ اس قدر بے چین ہو اٹھے ہیں کہ شاہین باغ کے لوگوں کو بات چیت کی دعوت دے رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ وہی لوگ تھے جو کل تک شاہین باغ کو ملک دشمنی اور غداری کی سب سے بڑی علامت قرار دے رہے تھے اور دنیا کا کوئی ایسا عیب نہیں تھا جو انھیں شاہین باغ کے لوگوں میں نظر نہیں آرہا تھا۔
دہلی کی انتخابی جنگ میں بظاہر عام آدمی پارٹی نے بازی ماری ہے ، لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو یہاں شاہین باغ نے فتح کا پر چم لہرایا ہے۔اس دلیل کی بنیاد یہ ہے کہ بی جے پی نے اس الیکشن میں کجریوال کے عوامی بہبود کے موضوعات کے مقابلے میں شاہین باغ کو ہی سب سے بڑا چناوی موضوع بنایا تھا اور وہ دن رات شاہین باغ کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈہ کررہے تھے۔ خود وزیراعظم نریند مودی نے دہلی میں ایک انتخابی جلسہ میں شاہین باغ کو ملک توڑنے کی ایک تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔ملک کے انتہائی طاقتور وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی کے ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ آٹھ فروری کو ای وی ایم کا بٹن اتنی طاقت سے دبائیں کہ اس کا کرنٹ شاہین باغ تک پہنچ جائے اور شاہین باغ والوں کا کام تمام ہوجائے۔ لیکن گیارہ فروری کو جب دہلی میں رائے شماری ہوئی تو ای وی ایم کے جھٹکے بی جے پی کے دفتر میں محسوس کئے گئے۔ دراصل بی جے پی نے شاہین باغ کو بدی کی قوت قرار دینے کی جو کوشش کی تھی‘ عوام پر اس کا الٹا اثر ہوااور دہلی کے لوگوں نے ملک کی سیاسی تاریخ کجریوال کے عوامی بہبود کے موضوعات کے مقابلے میں شاہین باغ کو ہی سب سے بڑا چناوی موضوع بنایا تھا اور وہ دن رات شاہین باغ کے خلاف انتہائی زہریلا پروپیگنڈہ کررہے تھے۔ خود وزیراعظم نریند مودی نے دہلی میں ایک انتخابی جلسہ میں شاہین باغ کو ملک توڑنے کی ایک تجربہ گاہ قرار دیا تھا۔ملک کے انتہائی طاقتور وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی کے ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ آٹھ فروری کو ای وی ایم کا بٹن اتنی طاقت سے دبائیں کہ اس کا کرنٹ شاہین باغ تک پہنچ جائے اور شاہین باغ والوں کا کام تمام ہوجائے۔ لیکن گیارہ فروری کو جب دہلی میں رائے شماری ہوئی تو ای وی ایم کے جھٹکے بی جے پی کے دفتر میں محسوس کئے گئے۔ دراصل بی جے پی نے شاہین باغ کو بدی کی قوت قرار دینے کی جو کوشش کی تھی‘ عوام پر اس کا الٹا اثر ہوااور دہلی کے لوگوں نے ملک کی سیاسی تاریخ کے سب سے زہریلے انتخابی پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔ دہلی کے عوام نے بی جے پی کو اچھی طرح باور کرادیا ہے کہ اب اس کی زہریلی سیاست زیادہ دنوں کی مہمان نہیں ہے ۔ اگر اس نے فوری طور پر ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، مہنگائی ، کسادبازاری اور کرپشن کی طرف توجہ نہیں دی تو عوام جلد ہی اس کی بساط الٹ دیں گے اور جھوٹی قوم پرستی کا نعرہ ہوا میں اڑجائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ دہلی کے عوام نے عام آدمی پارٹی کی گذشتہ پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر ہی ووٹ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ اروند کجریوال کی قیادت میں اس حکومت نے اپنے بجٹ کا 75 فیصد حصہ بجلی ، پانی ، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضرورتوں کے نام کردیا۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت اس حد تک سدھاری گئی کہ لوگوں نے اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں سے نکال کر سرکاری اسکولوں میں داخل کرنا شروع کردیا۔ سرکاری اسپتال اپنی سہولتوں کے اعتبار سے اتنے ماڈرن بنادئیے گئے کہ دور دور سے لوگ یہاں علاج کے لئے آنے لگے۔سرکاری بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی اور غریب طبقہ کے لئے 200 یونٹ تک بجلی کے بل فری کردئیے گئے اور انھیں پانی بھی مفت ملنے لگا۔ یہ تمام ایسی سہولتیں تھیں جن کا دہلی والوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اپنی ان حصولیابیوں کے ساتھ جب عام آدمی پارٹی چناؤ کے میدان میں اتری تو بی جے پی کے پاس اس کا توڑ کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور وہ اس میدان میں بالکل دیوالیہ تھی۔ لہٰذا کجریوال سرکار کے حق میں بہتی ہوئی اس زبردست لہر کو روکنے کے لئے بی جے پی نے اپنے پٹارے سے وہی گھسا پٹا فرقہ وارانہ صف بندی کا موضوع نکالا اور فضائی آلودگی سے متاثرہ دہلی کی فضا میں فرقہ واریت کا انتہائی خطرناک زہر گھولنا شروع کردیا۔ اس کام کے لئے دہلی کے شاہین باغ علاقہ میں شہریت ترمیمی ایکٹ ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نشانے پر لیاگیا ۔ کجریوال کو اس دھرنے کا ’ ماسٹر مائنڈ‘قرار دے کر شاہین باغ کے خلاف ایسی گھناؤنی مہم چلائی گئی کہ لوگوں نے اپنی آنکھیں اور کان بند کرنا شروع کردئیے۔ دہلی جیسے میٹرو پولیٹن شہر میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ انتہائی مضبوط بنیادوں پر مرکز کے اقتدار پر براجمان ’دنیاکی سب سے بڑی پارٹی ‘ہونے کی دعویدار بی جے پی‘ دہلی جیسی چھوٹی سی ریاست کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے اس حد تک نیچے گر جائے گی۔
یہ بات آپ کے علم ہے کہ دہلی کی اصل باگ ڈور تو مرکزی حکومت کے ہی ہاتھوں میں ہے کیونکہ یہاں پر نظم ونسق کی ذمہ داری مرکز کے پاس ہونے کی وجہ سے دہلی پولیس براہ راست مرکزی وزیر داخلہ کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے علاوہ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ذمہ داریاں بھی مرکز کے پاس ہیں۔ نئی دہلی میونسپل کارپوریشن بھی مرکزی حکومت کے قبضہ میںہے۔ دہلی سرکار کے پاس محض بجلی ، پانی ، تعلیم اور صحت کے شعبے ہیں اور ان ہی شعبوں میں اس نے انقلاب برپا کیا ہے۔وزیر داخلہ امت شاہ گھر گھر جاکر ووٹ مانگ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ دہلی کا اقتدار ہمیں دے دو تو ہم یہاں سب کچھ ٹھیک کردیں گے، لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس شہر میں لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری ان کے ہاتھوں میں ہے ، وہاں الیکشن کے دوران روزانہ گولیاں برس رہی تھیں۔ کیوں نہیں برستیں آخر ان کی کابینہ کے ایک وزیر انوراگ ٹھاکر نے ایک انتخابی جلسہ میں دیش کے غداروں کو گولیاں مارنے کی تلقین جو کی تھی۔ یہ گولیاں شاہین باغ اور جامعہ میں اس لئے برسیں کہ ا ن لوگوں کو دیش کے غداروں سے تشبیہ دی گئی تھی۔ بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ پرویش ورما دہلی کے ووٹروں سے کہہ رہے تھے کہ’’ شاہین باغ میں بیٹھے ہوئے لوگ اتنے خطرناک ہیں کہ وہ آپ کے گھروں میں گھس کر آپ کی بہن بیٹیوں کو ’ریپ‘ کریں گے۔‘‘حالانکہ یہ بات سبھی کو معلوم تھی کہ شاہین باغ میںبیٹھی ہوئی خواتین وہی تھیں جنھیں کچھ دن پہلے تین طلاق بل پاس کرتے وقت بی جے پی والوں نے اپنی بہن بیٹیاں قرار دیا تھا اور ان سے ہمدردی دکھانے کے لئے ساری لغت خالی کردی تھی۔ آج یہ بہن بیٹیاں ہی انھیں ’ریپ‘ کرنے والی نظر آنے لگی تھیں۔ اس سے بڑھ کر ذہنی دیوالیہ پن بی جے پی والوں کا اور کیا ہوسکتا تھا۔
مضمون جاری ہے۔اگلی قسط میں پڑھئے پورا مخمون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *