ایسا دھرنا نہ دیکھا نہ سنا ۔ہم لے کے رہینگے آزادی

شاہین باغ: دلی میں شہری قانون کے خلاف دھرنا دیے ہوئ خواتین

دلی میں دریائے جمنا کے قریب شاہین باغ میں سخت سردی کے موسم کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں مسلمان عورتیں انڈیا کے نئے شہریت کے متنازعہ قانون کے خلاف احتجاج کے لیے روزانہ دھرنے دے رہی ہیں۔گزشتہ ہفتے دلی میں اکتیس دسمبر کو گزشتہ دو صدیوں کی سرد ترین رات تھی۔ لیکن یہ بدترین موسم بھی شاہین باغ میں دھرنے میں شامل ان عورتوں کی ہمت توڑنے میں ناکام رہا۔ موٹے موٹے کمبلوں، ہاتھ میں گرم گرم چائے کے کپ اور مزاحمت کے ترانوں سے لیس ہو کر یہ اپنے دھرنے والی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی جہاں یہ 15 دسمبر سے بیٹھی ہوئی ہیں۔اسی حالت میں انھوں نے نئے سال کو خوش آمدید کہا۔ سالِ نو کی تقریبات کے بعد انھوں نے دھرنے پر بیٹھے انڈیا کا قومی ترانہ گایا\یہ شہریت کے بارے میں انڈیا کے نئے قانون کی تنسیخ چاہتی ہیں۔ نیا قانون جو 11 دسمبر سے لاگو ہو چکا ہے، پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے غیر مسلم تارکینِ وطن کو قبول کرنے کے موقع فراہم کرتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرِ قیادت موجودہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا ان ممالک میں زیادتیوں کا شکار ہونے والی اقلیتوں کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔

لیکن حکومت کے اس اعلان میں انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کی تشفّی کے لیے کوئی خاص بات نہیں کہی ہے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس قانون کی وجہ سے انہیں کسی امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ ان حالات میں یہ بھی خدشہ ہے کہ حالات اس حد تک جاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں محصور کردیا جائے۔شاہین باغ میں دھرنے پر بیٹھیں ایک خاتون فردوس شفیق کہتی ہیں کہ ’میں عموماً بمشکل اپنے گھر سے تنہا باہر نکلتی ہوں، اگر میں نے کسی قریبی بازار میں بھی جانا ہو تو میرا بیٹا یا میرا شوہر میرے ہمراہ ہوتا ہے۔ اس لیے اول تو میرے لیے اس طرح باہر آنا ہی کافی مشکل کام ہے۔‘لیکن میں یہاں احتجاج میں شریک ہونا اپنے لیے لازمی سمجھتی ہو۔‘اور یہ فردوس شفیق جیسی کئی حواتین ہیں جن کی وجہ سے تجزیہ نگاروں کی نظر میں شاہین باغ کا یہ دھرنا ایک منفرد حیثیت اختیار کرگیا ہے۔۔دلی کی عورتوں کی ایک تنظیم مسلم ویمن فورم کی بانی سیدہ حمید کہتی ہیں کہ ’دھرنے میں شریک عورتیں کسی جماعت کی کارکنان نہیں ہیں اور نہ ہی سماجی معاملات کے بارے میں فعال ہیں۔‘بلکہ یہ عام گھریلو خواتین ہیں، ان میں کئی ایک صرف اپنے گھروں ہی میں رہتی ہیں اور اب یہ اس قومی بحث میں حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیںسیدہ حمید کہتی ہیں کہ ’ان کی زندگیبوں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یہ اپنے گھروں سے مذہب کی وجہ سے باہر نکلی ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت اہم بات ہے۔ اگرچہ اس میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی والی بات ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک سیکیولر معاملہ ہے۔‘\یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ جب شاہین باغ میں اس دھرنے کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت اس میں کتنی خواتین نے شرکت کی تھی، لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ اس دھرنے کا سائز روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ اس باغ میں 15 دسمبر کی شب آئی تھی جب جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبا کا احتجاج پولیس نے سخت کاروائی کے بعد ختم کرادیا تھا۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولیس بعد میں یونیورسٹی کی حدود میں بغیر اجازت کے داخل ہوگئی اور تھی اور طلبا اور سٹاف پر تشدد کیا تھا۔اس واقعہ کے بعد رات تک احتجاج نئی شکلوں میں سامنے آنے لگا اور پھر یہ پورے ملک میں پھیل گیا۔جہاں کئی احجاج آئے اور پھر گزر گئے، اور چند ایک تو تشدد میں بدل گئے، شاہین باغ کا دھرنا نہ صرف مسلسل جاری ہے بلکہ پرامن بھی ہے۔لیکن کیونکہ یہ جگہ دلی کے مشرق اور مفصلی علاقے نوئیڈہ کے درمیان میں واقع ہے اور شہر آنے جانے والوں کے لیے سفر کا اہم رستہ ہے، تمام لوگ اس دھرنے سے خوش نہیں ہیں۔

ایک مقامی دکاندار نے کہا کہ ’اس کی وجہ سے ہمارا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔‘ جبکہ ایک شخص جو نوئیڈا میں کام کرتا ہے نے کہا کہ ’اب مجھے اپنی نوکری پر پہنچنے میں دوگنا وقت لگتا ہے۔ تاہم شاہین باغ کے مظاہرین کہتے ہیں کہ وہ معمول کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنا چاہتے ہیں، انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پرامن رہیں گے۔

تاہم کئی اور دکاندار دھرنا دینے والی خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کر رہے ہیں۔ کچھ تو مظاہرین کے لیے کھانا وغیرہ بھی لے کر آگئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کیونکہ دھرنے کا سائز بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے صحافی، مبصرین، طلبا اور سماجی کارکنوں سمیت شہر کے کئی علاقوں سے لوگوں کی اس میں دلچسپی بڑھتی جارہی ہے

مظاہرے میں شرکت کرنے والے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارا احتجاج تشدد کی شکل نہ اختیار کرے اور نہ ہی ہم پولیس کو یہ موقعہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف طاقت استعمال کرے۔‘فردوس شفیق کہتی ہیں کہ ’ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنی شہریت کو ثابت کرنے میں ناکام رہے تو یا تو ہمیں قید میں ڈال دیا جائے گا یا ہمیں ملک بدر کردیا جائے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کریں۔‘ان کے یہ الفاظ کئی دوسرے لوگوں کے خیالات کی نمائندگی کرتے ہیں جنھیں یہ خدشہ ہے کہ اگر شہریت کے نئے متنازعہ قانون کو نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز میں استعمال کیا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کی شہریت کے قانونی ہونے پر شک کی صورت میں اس کا نام نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز میں درج کرانے کے لیے دستاویزی ثبوت دینے ہوں گے۔ لیکن غیر مسلم اپنے ثبوت کے طور پر یہ کہہ سکیں گے کہ ان کس نام کسی ایک اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز میں درج کیا جائے، اس طرح کا استثنیٰ مسلمانوں کو نہیں دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو شہریت کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزات کے بغیر دوسری اقلیتوں جیسے حقوق حاصل نہیں ہوگے اور انھیں یا تو قید کیا جاسکتا ہے یا ملک بدر کیا جاسکتا ہے۔
انڈین شہریت شاہین باغ مسلمان عورتیں دھرنا

باوجود اس کے کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اُس کا فوری طور پر نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز پر ملک گیر سطح پر عملدرآمد کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اور ان میں کچھ خواتین تو اتنی زیادہ فعال ہیں کہ انھوں نے عارضی طور پر معمول کے دیگر کام روک دیے ہیں۔

ایک دیہاڑی پر کام کرنے والی عورت، رضوانہ بانی کہتی ہیں کہ وہ اس دھرنے پر بیٹھنے کی وجہ سے اپنی تنخواہ سے مسلسل محروم ہو رہی ہیں، لیکن ان کے لیے یہ دھرنا زیادہ اہم ہے، وہ ان باتوں کی وجہ سے بھی بہت زیادہ خوف زدہ ہیں جو نئی قانون کی وجہ سے پیدا ہونے جارہی ہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں سے اور کیسے اپنی شہریت ثابت کرنے کے یہ دستاویزات حاصل کرپائیں گے۔ ہم پہلے انڈین ہیں بعد میں مسلمان۔‘ان مظاہروں میں ہر عمر کی عورت شامل ہورہی ہیں۔ایک ستر برس کی عورت عاصمہ خاتون جو دھرنے پر مسلسل بیٹھی ہوئی ہیں، کہتی ہیں کہ ’میں یہ ملک چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی اور نہ ہی میں اپنی انڈین شہریت ثابت کرتے ہوئے مرنا چاہتی ہوں۔‘

’صرف میں ہی نہیں ہو۔ میرے آباؤ اجداد میرے بچے میرے بچوں کے بچے، ہم سب انڈین ہیں۔ لیکن ہمیں یہ کسی کے سامنے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن یہ ہر ایک کے لیے خطرہ ہے۔

ایک یونیورسٹی کی طالبہ حمیرا سید کہتی ہیں کہ یہ نیا قانون آئین کے بھی منافی ہے۔ فی الحال مسلمان اسکی زد میں ہیں، لیکن ہمیں یقین ہے یہ آہستہ آہستہ دیگر کمیوینیٹیز کو بھی نشانہ بنائے گا۔‘حمیرا سید کہتی ہیں کہ ’ایک مسلمان کی حیثیت سے میں جانتی ہوں کہ مجھے یہاں اپنے بھائیوں، بہنوں اور پوری کمیونٹی کی مدد کے لیے اور سب کے لیے موجود ہونا چاہئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *