آہ شفیع جاوید بھی داغ مفارقت دے گئے

مشتاق احمد نوری

Mushtaq Ahmad Noori's Photo'

اردو کے معروف و معتبر افسانہ نگار  شفیع جاوید اللہ کو پیارے ہوگٸے۔دو دن قبل مگدھ میڈیکا راجیندر نگر میں ان کی انجیو پلاسٹی ہوٸ رات ایک بجے دل کا شدید دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے  ۔
آدھا درجن افسانوی مجموعہ کے خالق صوفیانہ مزاج کے حامی اور انفارمیشن اور پبلک ریلیشنز کے سابق ڈاٸرکٹر شفیع جاوید اپنے ہم عصروں میں آخری کڑی تھے ۔ مجھے ان کی سرپرستی میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن ہم دوست کی طرح ہی رہے ۔ان جیسے لوگ اب نہیں ملنے والے۔فیع جاوید سے میری ملاقات تب ہوٸ جب وہ پٹنہ ڈویژن میں پی آر ڈی کے ڈپٹی ڈاٸرکٹر تھے اور میں پٹنہ یونیورسیٹی میں بی ایڈ کا طالبعلم تھا اور کمیشن کی تیاری کررہا تھا ۔یہ 1975 کا زمانہ تھا ۔ پھر اتفاق کہ میں نے اسی محکمہ میں منتخب ہوکر آیا اور ان کی رفاقت نصیب ہوٸ۔ پھر وہ ڈاٸرکٹر کے عہدے پر پہونچے اور ان کی سرپرستی میں مجھے کام کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے جس بلند عزاٸم سے ڈاٸرکٹری کی وہ کسی کو نصیب نہیں ہوا۔وہ ہم لوگوں کے باس تھے لیکن رویہ دوستانہ تھا کبھی کبھی ڈاٸرکٹری کا رعب غالب آجاتا اور ہم لوگ سر جھکا کر تسلیم کرلیتے
ایک فکشن نگار کی حیثیت سے ان کی جو شہرت تھی وہ مرنے کے بعد بھی قاٸم رہےگی۔ ان کے فکشن میں خود کو ریواٸنڈ کرنے کا عمل جاری رہتا تھا اور کہیں کہیں وہ ناسٹلجیاٹک بھی ہوجاتے تھے۔ انہیں کہانی کہنے کا ہنر معلوم تھا۔ زندگی کے فلسفے کو اس طرح برتتے کہ دیکھتے ہی بنتا تھا۔ان کے آدھا درجن افسانوی مجموعے شاٸع ہوٸے انہوں نے اپنی ساری کتابیں مجھے دیں۔ دربھنگہ میں مشتاق احمد پرنسپل نے فکشن پر ایک سیمینار کیا تھا اس میں میں نے شفیع جاوید پر ہی مضمون پڑھا تھا وہ اور وہاب اشرفی اس میں موجود تھے۔میرے مضمون کے دوران وہ اتنے جذباتی ہوگٸے کہ ان کی آنکھیں چھلک آٸیں اور وہ ہال سے نکل کر وارانڈے پہ آگٸے بعد میں انہوں نے مجھے گلے لگاتے ہوٸے گلوگیر آواز میں کہا عزیزم تم نے حق ادا کردیا۔
آخری دنوں میں وہ صوفیانہ مزاج کے ہوگٸے تھے ہر کسی سے بہت خلوص سے ملتے اور دعاٸیں دیتے رہتے۔ پوری زندگی انہوں نے اپنی شرط پر ہی گزاری ہمیشہ خوش لباس رہے بعد کے دنوں میں لباس میں بھی سادگی آگٸ تھی ۔
وہ اپنے ہم عصروں کی آخری کڑی میں شمار ہوتے تھے ۔ وہ اپنی جیون گاتھا ”بھیگا ہوا شیشہ “ کے نام سے لکھ رہے تھے جس کا کچھ حصہ انہوں نے مجھے سنایا بھی تھا جو بعد میں نامکمل رہا اور وہ خود مکمل ہوگٸے۔ان جیسے لوگ اب نہیں ملنے والے۔
اللہ ان کی مغفرت فرماٸے اور اپنی رحمتوں سے نوازے۔آمین
مشتاق احمد نوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram