اللہ بھی انگلینڈ کے ساتھ تھا

 

 

 

 

 

 

فہیم اختر لندن۔۔
یوں توانگلینڈ فٹ بال شائقین کاایک اہم ملک مانا جاتا ہے ۔جہاں دنیا کے معروف اور امیر ترین فٹبالرمختلف کلب کے لئے کھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے زیادہ تر مشہور کھلاڑی اپنی زندگی میں ایک بار انگلش فٹ بال لیگ میں اپنی قسمت آزمانے کے لئے ضرور کوشش کرتے ہیں۔ ورلڈ کپ فٹ بال میں اب تک انگلینڈ 1966میں چمپئن ہوا تھا۔ جس کے بعد انگلینڈ کئی بار جیت سے قریب ہو کر بھی جیت حاصل نہ کر سکا۔ جس کا خواب آج بھی کروڑوں انگریزی شائقین دیکھ رہے ہیں۔
ویسے بھی انگلینڈ پچھلے کچھ برسوں میں مختلف کھیلوں میں اپنا نام روشن کر رہا ہے۔ ان کھیلوں میں نہ کہ صرف مرد ہی نام کما رہے ہیں بلکہ خواتین بھی اب پیچھے نہیں ہیں۔ چاہے دوڑ کا میدان ہو یا باکسنگ کا کھیل ہو یا تیر اندازی کا مقابلہ ہو یا کوئی بھی کھیل ہو۔ ہر کھیل میں انگلینڈ کے کھلاڑی ایک کامیاب کھلاڑی یا ٹیم کے طور پر دنیا بھر میں اپنا لوہامنوا رہے ہیں۔
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ حکومت کی خاص فنڈنگ اور ہر علاقے میں کھیل کود کے لئے اسکول سے لے کر چھوٹے بڑے کلبوں میں عمدہ اور اعلیٰ انتظام ہے۔ اس کے علاوہ محنت، ایمانداری، اعتماد اور مساوات کے برقرار ہونے سے کسی بھی کھلاڑی کو اپنے فن میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا بہترین موقعہ مل جاتا ہے۔جس سے کسی بھی مذہب، ذات، نسل اور علاقے سے تعلق رکھنے والے مرد اور عورت کو اپنے ہنر اور صلاحیت کی بنا پر آگے بڑھنے میں کافی حوصلہ ملتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم میں اکثر افریقی لوگوں کے علاوہ دیگر مذاہب اور بیرون ممالک کے پناہ گزین کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
جون کے مہینے میں انگلینڈ میں کئی اہم کھیل کا انعقاد ہوتا ہے جن میں کرکٹ ، ٹینس اور موٹر ریس کا فورمولا ون کافی اہم ہے۔ لیکن اس سال کرکٹ کا ورلڈ کپ کا انگلینڈ اور ویلزمیں کھیلا جانا کافی اہم تھا۔ اس کی ایک وجہ ہندوستان اور پاکستان کی ٹیموں کا ٹکراؤ تھا اوروہیں دنیا کی مشہور کرکٹ ٹیم اپنے فن کامظاہرہ کرنے کے لئے بیقرار تھیں۔حالانکہ ورلڈ کپ کی شروعات جون سے قبل ہوئی تھی لیکن لوگوں میں اس لمبے عرصے تک چلنے والے ٹورنامنٹ سے ذرا بھر بھی اکتاہٹ نہیں دیکھی گئی۔ بلکہ جوں جوں دن بیت رہے تھے، لوگوں میں تجسس اور دلچسپی بھی بڑھ رہی تھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ٹورنامنٹ کے چار اہم ٹیموں کو ورلڈ کپ جیتنے کا حتمی یقین تھا۔ لیکن اس بات کا بھی ڈر تھا کہ کہیں افغانستان جیسی ٹیم ک حیران ہی نہ کر دے۔
ٹورنامنٹ کے پہلے دن فیس بُک پر ایک صاحب نے ان چار ٹیموں کا نام پوچھا جو ورلڈ کپ کے آخر چار ٹیمیں ہوں گی۔ میں نے انہیں انڈیا، انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا نام لکھ کر بھیجا۔ اور یہی بات ہوئی بھی۔ تاہم گروپ میچ کے آخری دور میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ پر ایک پل کے لئے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کاخدشہ بھی لگا ہوا تھا۔یہیں سے ٹورنامنٹ میں دلچسپی بھی بڑھنے لگی اور گرتے سنبھلتے آخری چار تک پہنچنے کے لئے پاکستان امید لگائے بیٹھا ہوا تھا۔ وہیں انگلینڈ بھی کچھ دیر کے لئے غوطے کھانے لگا جس سے انگلش شیدائی کچھ لمحے کے لئے مایوس ہونے لگے تھے۔
جب انگلینڈ نے انڈیا کو ہرایا تو زیادہ تر لوگوں کو اِس بات کا شک ہونے لگا کہ انڈیا یہ میچ انگلینڈ سے جان بوجھ کر ہارا ہے۔ تا کہ انگلینڈ کو آخری چار ٹیموں میں کھیلنے کا موقعہ مل جائے اور پاکستان کسی بھی قیمت پر کوالیفائی نہ کرے۔ سچ پوچھیے تو یہ بات مجھے بھی ہضم نہیں ہورہی تھی کہ آخر انگلینڈ سے انڈیاکیسے ہار گیا۔ جو انڈیا ٹورنامنٹ کے شروعات سے ہر ٹیم کو آسانی سے ہرا رہا تھا وہ انگلینڈ سے کیوں کر ہار گیا۔ کئی سوال ذہن میں اس میچ کے بعد ابھرے اورجس کا جواب آپ کو اس میچ کے دیکھنے کے بعدمل گیا ہوگا۔
خیر آخری چار ٹیموں میں کانٹے کا مقابلہ شروع ہوا اور انڈیا جو کہ ٹورنامنٹ کی پسندیدہ ٹیم مانی جارہی تھی اس نے سب سے پہلے اپنی ہار سے کروڑوں شیدائی کو سکتے میں ڈال دیا۔ میچ سے قبل ہر کوئی پر امید تھا کہ انڈیا نیوزی لینڈ کو آسانی سے ہرا دے گا۔ اب یہ بات اُس حد تک تو درست ہے جب کھلاڑی اپنے فارم میں ہو اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے ۔تو بھلا کسے اس بات کا شک ہو کہ اس کی محبوب ٹیم کا جیتنا ناممکن ہے۔ لیکن جس بات کو میں نے محسوس کیا وہ یہ ہے کہ ٹیم انڈیا کاحد سے زیادہ اعتماد اور ورلڈ چمپئن ہونے کے یقین نے ان کا بیڑہ غرق کردیا۔ بس جناب انہی باتوں نے ٹیم انڈیا کو ورلڈ کپ چمپئن کا لقمہ منھ سے چھین لیا۔
اب ورلڈ کپ کی دلچسپی اور بڑھ گئی کیونکہ انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ہرا کر فائنل میں جگہ بنا لی تھی۔ اس میچ سے اوروں کی طرح مجھے بھی کافی حیرانی ہوئی اور میری پیشن گوئی آخری چار ٹیموں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔ کیونکہ میں نے لوگوں سے یہ کہہ رکھا تھا کہ فائنل انڈیا اور آسٹریلیا کے بیچ ہوگا۔ بطور کرکٹ کھلاڑی اور سرے لیگ کےسینٹ لیوک کرکٹ کلب کے کپتان کی حیثیت سے میں نے کرکٹ کے متعلق بہت کچھ سیکھا تھا۔ لیکن انڈیا اور آسٹریلیا کی ہار سے میں نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ زندگی میں کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جس کا آپ جتنا بھی دعویٰ اور یقین کر لے یا اعتماد کر لے ، نتیجہ بر عکس ہو ہی جاتاہے۔ تبھی تو ہم لوگ ایسی باتوں کو قسمت کا حوالہ دے کر پلّو جھاڑ لیتے ہیں۔ لیکن جناب بات قسمت کی نہیں ،بات ہے میدان میں دشمن کو کمزور نہ سمجھو کیونکہ دشمن اپنے ہر چال کو آزماتا ہے۔
اتوار14جون کو دنیا کے کرکٹ شیدائیوں کی نظر لندن کے معروف اور تاریخی اسٹیڈیم لارڈز پر لگی ہوئی تھی۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ دونوں ٹیموں کے لئے ورلڈ کپ جیتنا اہم تھا کیونکہ دونوں ٹیموں نے اب تک ورلڈ کپ نہیں جیتا تھا۔ صبح سے لندن بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ لیکن کرکٹ کے دیوانے موسم اور بادل کی پراوہ نہ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں لارڈز اسٹیڈیم پہنچ گئے۔میچ کی شروعات نیوزی لینڈ کے بلے بازی سے ہوئی اور دھیرے دھیرے انگلینڈ کی عمدہ بالنگ سے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم کم رنوں پر سمٹ گئی۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہونے لگا کہ انگلینڈ کا ورلڈ کپ جیتا یقینی ہے۔ لیکن کسے پتہ تھا کہ ہم سب کو زندگی کا ایک ایسا اورلڈ کپ فائنل دیکھنے کو ملے گا جس کے آخری اوور میں دل کا دھڑکنا بند ہو جائے گا ۔ سچ پوچھیے تو میں نے اپنی زندگی میں آج تک ایسا کرکٹ میچ نہیں دیکھا تھا۔ پہلے تو انگلینڈ نے کسی طرح میچ کو ٹائی کر دیا جس کے نتیجے میں’ سوپر اوور‘ کا استعمال کیا گیا۔ جس میں دونوں ٹیموں میں پھر ٹائی ہوا لیکن زیادہ باؤنڈریز لگانے کی بنا پر انگلینڈ کو فتح نصیب ہوئی۔
اس طرح 2019کا سنسنی خیز ورلڈ کپ کرکٹ فائنل کا خاتمہ ہوا۔ زیادہ تر لوگوں نے نیوزی لینڈ کی ہار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس فائنل کو محض ایک دلچسپ اور ناقابل یقین میچ بتا رہے ہیں۔ تاہم وہیں کروڑوں انگلینڈ کے شیدائیوں نے اس فائنل کو انگلینڈ کی شاندار جیت مانتے ہوئے جشن منا رہے ہیں۔
میچ کے بعد انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’اللہ بھی ہمارے ساتھ تھا‘۔ مورگن نے یہ بھی کہا کہ جب انہوں نے
عادل رشید سے سے بات کی تو عادل رشید نے مورگن سے کہا ’یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے‘۔انگلینڈ کی ٹیم میں ایک اور بات یہ دیکھی جارہی ہے کہ کپتان مورگن سمیت سات کھلاڑی ایسے ہیں جن کی جڑیں انگلینڈ میں نہیں ہیں۔جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انگلینڈ کثیر ثقافتوں والا ملک ہے اور ہم سب کو اس بات پر فخر بھی ہے۔میں انگلینڈ کی ٹیم کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور کرکٹ کے اس سنسنی خیز مقابلے کے لئے دونوں ٹیموں کے کھیل کو سراہا تا ہوں۔
www.fahimakhter.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram