سماج میں بیٹیوں سے اتنی نفرت کیوں؟

 

 

 

 

 

 

 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
ہندوستان میں ہندو میتھولوجی کی دو جنگوں کو برابر یاد کیا جاتا ہے ۔ ایک رام اور راون کی، دوسری کورو پانڈو کی ۔ انہیں برائی پر اچھائی کی جیت کہا جاتا ہے ۔ پہلی راون کے ذریعہ سیتا جی کو اغوا کرنے کی تو دوسری پانچالی کو بے عزت کئے جانے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ ان جنگوں میں ان بہادروں کو بھی جان گوانی پڑی جو اکیلے ایک فوج کے برابر تھے، اور انہیں ہرانا ناممکن تھا ۔ قصور ان کا ایک عورت کو اغوا کرنے والے کا ساتھ دینا، یا ایک عورت کو بے عزت ہوتے دیکھ کر خاموش رہنا تھا ۔ ہمارے ملک میں دیوتا سے زیادہ دیویوں کی پوجا ہوتی ہے ۔ ایسے ملک میں بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو مہم کا چلایا جانا سماجی انحطاط کو ظاہر کرتا ہے ۔

آپ کو یہ نعرہ عام طور پر ٹیمپو ٹرک کے پیچھے لکھا دکھائی دے گا ۔ حکومت ہند اس مہم پر کثیر رقم خرچ کر رہی ہے ۔ اس میں زیادہ زور بیٹیوں کو پڑھانے پر ہے لیکن زور ہونا چاہئے بیٹی بچانے پر ۔ کس سے بچاو اور کیوں بچاو، کیا یہ نعرہ اس لئے نہیں ہے کہ ہمارا سماج بیٹیوں کو رحم مادر میں مارنے والا رہا ہے ۔ اگر وہ پیدا ہو بھی گئی تو اسے جلا کر، عصمت دری کرکے مار دیتا ہے ۔ آنر کلنگ اور جہیز بھی لڑکیوں کی جان لینے کا ایک بہانہ ہے ۔ پچھلے سال 16 دسمبر کو اترا کھنڈ کے پوڑی میں 18سال کی لڑکی کو جو پریکٹیکل امتحان دے کر آ رہی تھی، 18 دسمبر کو اتر پردیش کے آگرہ میں 15 سال کی طالبہ کو سڑک پر لوگوں کی موجودگی میں جلا کر مار دیا گیا اور 23 دسمبر کو تلنگانہ سے 22 سال کی لڑکی کو مار کر جلا دینے کی خبر آئی ۔ دسمبر میں ہی سیتاپور میں 28 سال کی عورت کو جلا کر مارنے کی کوشش کی گئی ۔ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں 19 سال کی بیٹی کو اس کے والد نے جلا کر مار دیا ۔ وہ اپنی ذات کے باہر اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی ۔ بنگال کے مرشدآباد میں 25 سال کی ماں اور 9 ماہ کی بچی کو جلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ جلانے والوں میں اس کا شوہر بھی شامل تھا ۔ یہ سلسلہ کم و بیش پورے ملک میں جاری ہے ۔ بی جے پی حکومت میں بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کی اس سے بری درگتی کیا ہو سکتی ہے کہ پڑھنے جانے والی بیٹیوں کو غیر سماجی عناصر جلا کر مار دیں ۔ سماج میں ان واقعات پر وہ غصہ دکھائی نہیں دیا جو نربھیا واقع 16 دسمبر 2012 کے بعد نظر آیا تھا ۔

لڑکیوں اور عورتوں کے خلاف ظلم کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ۔ تشدد، زنا بالجبر اور اغوا کے اعداد وشمار سماج کی کچھ زیادہ ہی بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سال میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ جنوری 2016 کو انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی خبر سے معلوم ہوتا ہے کہ 2012 سے 2015 کے درمیان یہ جرائم 41.7 سے 53.9 فیصد تک بڑھے ہیں ۔ یہ خبر جہاں جرائم میں اضافہ کو دکھاتی ہے، وہیں عورتوں میں آ رہی بیداری کا بھی ثبوط ہے ۔ ان میں زیادہ معاملے گھریلو تشدد کے تھے، لیکن موجودہ دہائی میں زنا بالجبر نے وبا کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ عمر کوئی بھی ہو صرف عورت ہونی چاہئے، کم سن بچیاں اور بوڑھی عورتیں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ پاسکو قانون کے تحت چھوٹی بچیوں کی عصمت دری کے جرم میں پھانسی کی سزا ہو سکتی ہے ۔ اس کے باوجود شرم کی بات یہ ہے کہ بھارت میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں ۔ زیادہ تر معاملوں میں عصمت دری کے بعد بچیوں کو مار دیا جاتا ہے ۔ تاکہ ثبوت ختم ہو جائے ۔ اس معاملہ میں سسٹم کی ناکامی دیکھ کر خود سپریم کورٹ کو آگے آنا پڑا ۔ کورٹ کی ایک بینچ نے 12 جولائی 2019 کو کہا کہ اس سال ایک جنوری سے 30 جون کے بیچ ملک بھر میں بچوں کی عصمت دری سے جڑے معاملوں میں 24212 ایف آئی آر درج ہوئی ہیں ۔ ان میں 11981 معاملوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور 12231 میں چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے ۔ سنوائی صرف 6449 معاملوں میں شروع ہو پائی ہے ۔ نچلی عدالتوں نے اب تک صرف 911 معاملوں میں فیصلہ لیا ہے یعنی کل درج معاملات کا قریب چار فیصد ۔

پاسکو قانون مجرموں میں خوف پیدا نہیں کر پایا ۔ کیوں کہ اسے لاگو کرنے میں سرکاریں پھسڈی ثابت ہوئیں ہیں ۔ ایسے معاملوں میں جلدی جانچ پوری کر مجرموں کو سزا دینے کے لئے خصوصی پاسکو کورٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ عصمت دری کے پڑھتے معاملات کو بے روزگاری اور انٹر نیٹ کے غلط استعمال سے جوڑ کر بھی دیکھا جاتا ہے ۔ سماج زانیوں کے خلاف سخت سزا کی مانگ کرتا ہے ۔ سخت قانون کے بعد بھی زنا بالجبر کے واقعات میں کمی نہیں آ رہی، اس کا مطلب ہے کہ اس بیماری کا علاج سزا نہیں بلکہ اس مرض کو سماجی تبدیلی کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے ۔ اسلام نے عرب کی سوسائٹی سے سماجی تبدیلی کے ذریعہ ہی اس بیماری کو ختم کیا تھا ۔

ہندوستان میں سماجی تبدیلی اس لئے بھی درکار ہے کہ یہاں ہیومن ٹریفکنگ کا مسئلہ ناسور کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ قومی انسانی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ہر سال 44 ہزار بچوں کے غائب ہونے کا آنکڑا دیا ہے ۔ اس کا ماننا ہے ان میں سے 11 ہزار کا کوئی سراغ نہیں ملتا ۔ کرائم ریکارڈ بیورو نے 2016 میں یہ تعداد 20000 بتائی تھی ۔ وزارت داخلہ نے 17-2018 میں 54723 بچوں کے اغوا ہونے کی تصدیق کی تھی ۔ میل ٹو ڈے نے اپریل 2019 کی رپورٹ میں دہلی این سی آر سے پہلے تین ماہ میں 1409 اغوا کے معاملے درج ہونے کی بات کہی تھی یعنی ہر روز 15 معاملے ۔ چونکانے والی بات یہ ہے کہ ان میں 878 یا %62 فیصد متاثرین لڑکیاں تھیں ۔ ان میں سے 351 یعنی %40 فیصد کی عمر 12 سے 16 سال کے درمیان تھی ۔ شکتی واہنی این جی او نے دہلی میں2017 میں درج ہوئے 3761 معاملوں میں سے 1802 معاملے لڑکیوں کے پائے تھے ۔ این جی او کے رشی کانت نے بتایا کہ ہر دو گھنٹے میں دہلی میں اغوا کا ایک معاملہ درج ہوتا ہے، دہلی سے ہر دن دس لڑکیاں، عورتیں اغوا ہو جاتی ہیں ۔ انہیں نوکری، شادی کا لالچ دے کر یا مصنوعی پریم جال میں پھنسا کر اغوا کیا جاتا ہے ۔ عام طور پر لوور میڈل یا غریب گھروں کی لڑکیاں آسانی سے شکار بن جاتی ہیں ۔ ان کی پولیس، انتظامیہ اور عدالت میں پکڑ کمزور ہوتی ہے ۔ جس عمر کی لڑکیاں زیادہ اغوا ہو رہی ہیں ان کی سیکس مارکیٹ میں اچھی قیمت ملتی ہے ۔ اغوا کی گئی لڑکیاں اندرونِ ملک اور بیرون ملک فروخت کر دی جاتی ہیں ۔ بھارت کی لڑکیاں عام طور پر نشے اور اسموکنگ سے دور رہتی ہیں اس لئے ان کے جسم کے اعضاء تندرست ہوتے ہیں ۔ ایسی بھی خبریں ہیں کہ جنسی استحصال کے بعد ان اغوا شدہ لڑکیوں کے اعضاء بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیئے جاتے ہیں ۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا سماج جس تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اسے کیا صرف آٹو رکشہ کے پیچھے “میرا ایمان مہیلاؤں کا سمّان” لکھ کر بچایا جا سکتا ہے ۔ یا پھر اس سے آگے بڑھ کر سول سوسائٹی کو کچھ کرنا ہوگا ۔ قدرت نے بیٹیوں کو نفرت کے لئے نہیں بلکہ پیار لینے اور پیار دینے کے لئے بنایا ہے ۔ ان کے وجود سے کائنات میں رونک ہے ۔ ان کی بے حرمتی سے صرف تباہی نہیں آتی بلکہ قدرت کا قہر نازل ہوتا ہے ۔ بچیوں کو عزت اور ان کو جائز حق دلانے کا منصوبہ اور تجربہ صرف اسلام کے پاس ہے، مگر اسلام کے ماننے والوں کو مسجد، مدرسہ، ذکر، تشبیہ، گشت اور اپنے مسائل پر واویلا کرنے سے فرست نہیں ہے ۔ جو وہ ملک کو اس بیماری سے نجات دلا سکیں ۔ مگر انہیں اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہی ہوگی کیونکہ ایک نہ ایک دن یہ آگ ان کے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest