ساکشی مہاراج کی پھرشرانگیزی

بی جے پی ممبرپارلیمنٹ کا جامع مسجد کو شہید کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی :ابھی بابری مسجد کا قضہ حل نہیں ہوا ہے۔ اجودھیا میں دھرم سبھا کی تیاری زوروں پر ہے۔ وہاں کے یعنی فیض آباد، وارانسی اور ایودھیا کے مسلمان سہمے اور ڈرے ہوئے ہیں۔ کہیں پھر کوئی فرقہ وارانہ فساد نہ ہوجائے۔ ویسے الیکشن سے پہلے بی جے پی اس کی پوری تیاری میں ہے۔ اسی کے بیچ بی جےپی کے ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے شر انگیزی کی انتہا کرتے ہوئے دہلی کی تاریخی جامع مسجد کو شہید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس مسجد کو شہید کی جائے گی تو اس کے نیچے بھی موتیاں ہی نکلیں گیں۔ ایسے وقت میں جب ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے اتوار کو دھرم سبھا ہونے جارہی ہے اور ماحول کشیدہ ہے، یوپی کے اناؤ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کہا ہے کہ ’’ میں سپریم کورٹ کی مذمت کرتا ہوں۔ تمام غیر ضروری معاملوں میں سپریم کورٹ نے فیصلے دے دیئے لیکن اجودھیا مسئلے پر سپریم کورٹ ٹال مٹول کر رہا ہے۔‘‘ بدزبان لیڈر نے مزید کہا کہ ’’ سیاست میں آنے کے بعد میرا پہلا بیان تھا کہ ایودھیا متھرا، کاشی تو چھوڑو، دہلی کی جامع مسجد توڑو اگر سیڑھیوں کے نیچے مورتیاں نہ نکلیں تو مجھے پھانسی پر لٹکا دینا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آج بھی میں اپنے اس بیان پر قائم ہوں۔ ‘‘ساکشی مہاراج نے کہا کہ مغل راج میں ہندوؤں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا، مندر توڑے گئے اور مسجد بنائے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے کم از کم ۳؍ ہزار مندر ہیں۔ اپنی بدزبانی کیلئے بدنام بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اکثر اسی وجہ سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest