مجروح کا نام ان کے تغزل اور شعری کمال کی وجہ سے ہمیشہ روشن رہے گا : گوپی چند نارنگ

ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام ’مجروح سلطانپوری صدی سمینار‘ کا انعقاد

30 نومبر، نئی دہلی (پریس ریلیز)۔ اردو کے مشہور و معروف شاعر مجروح سلطانپوری کے جنم صدی کے موقع پر ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی نے 29-30 نومبر 2019 کو اکادمی آڈیٹوریم، منڈی ہاؤس، نئی دہلی میں دو روزہ سمینار کا انعقاد کیا۔ سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے اردو کے ممتاز نقاد، دانشور پدم بھوشن گوپی چند نارنگ نے کہا کہ مجروح کا نام ان کے تغزل اور شعری کمال کی وجہ سے ہمیشہ روشن رہے گا۔ مجروح سلطانپوری کا کمال یہ تھا کہ فارسی اور اردو شاعری کی غزلیہ روایت کی روح کو انھوں نے جذب کر لیا تھا اور ان کی آواز میں ایسا جمالیاتی رچائو اور کشش پیدا ہو گئی تھی کہ ان کی بات دل پر اثر کرتی تھی۔ ان کی شائستہ اور دردمند آواز میں از دل خیزد و بر دل ریزد والی کیفیت تھی۔ ایک زمانہ تھا جب ترقی پسندوں نے غزل کی شدید مخالفت کی تھی، مجروح سلطانپوری کا کارنامہ یہ ہے کہ نہ تو انھوں نے ترقی پسندوں کا ساتھ چھوڑا اور نہ ہی غزل سے اپنی وفاداری کو ترک کیا۔ یہ ان کی سلامتی طبع اور خوش مذاقی کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ انھیں اس بات کا احساس تھا کہ تغزل اردو شاعری کا جوہر ہے اور اس سے ہاتھ اٹھانا گویا شعریت سے منہ موڑنا ہے۔
اکادمی کے سکریٹری ڈاکٹر کے سری نواس راؤ نے تمام مقالہ نگاروں اور مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے اپنی مختصر تقریر میں مجروح کی زندگی کے اہم گوشوں پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر ساہتیہ اکادمی کے اردو مشاورتی بورڈ کے کنوینر جناب شین کاف نظام نے ابتدائی کلمات پیش کیے۔ انھوں نے مجروح سلطانپوری کے شعری اوصاف پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اردو کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ شاعروں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ انھوں نے کم کہا ہے لیکن جو بھی کہا وہ اردو شاعری میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر ارجمند آرا نے مجروح سلطانپوری کی شاعری، ان کے فن اور ان کی شخصیت پر سیرحاصل گفتگو کی جسے سامعین نے خوب پسند کیا۔ صدارت اکادمی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر مادھو کوشک نے کی اور مجروح سلطانپوری کے فلمی نغموں اور ان کی غزلیہ شاعری کا ذکر کرتے ہوئے انھیں اپنے عہد کا مقبول ترین شاعر قرار دیا۔ آخر میں اکادمی کے ہندی ایڈیٹر انوپم تیواری نے تمام شرکا اور مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔
دوسرے دن کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مشہور طنز نگار اور صحافی نصرت ظہیر نے کہا کہ جہاں نظم گو شعرا لمبی لمبی نظموں میں باتیں کیا کرتے تھے وہیں مجروح سلطانپوری نے صرف شعر کے دو مصرعوں میں بیان کرکے غزل کی اہمیت کو منوایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زیادہ تر ترقی پسند شعرا نظم کو غزل پر ترجیح دیتے رہے۔ اس اجلاس میں شائستہ یوسف، حسن رضا اور غلام نبی کمار نے اپنے مقالے پیش کیے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے معروف نقاد، شاعر اور ادیب پروفیسر عتیق اللہ نے تخلیق اور تنقید کو اپنے گفتگو کا موضوع بناتے ہوئے کہا کہ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ شعرا دانشورانہ طور پر اپنے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ شاعری ایک فطری عمل ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مجروح نے فلمی گیتوں میں نیا انقلاب پیدا کیا۔ اس اجلاس میں نصرت جہاں اور زبیر شاداب نے اپنے مقالے پیش کیے۔ تیسرے اور آخری اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردوکے صدر پروفیسر شہزاد انجم نے کی۔ اس اجلاس میں جواں سال ناول نگار رحمن عباس نے مجروح سلطانپوری کی شخصیت اور ان کے ابتدائی حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ دوسرے مقالہ نگاروں میں خالد اشرف اور نوشاد منظر شامل تھے۔ اس موقع پردلی  کے کئی اردو ادیب، شاعر، دانشور اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا موجود رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram